Latest Updates!

    Book release of Rahinajaat

صحبتے با اہل علم (18)

Date : Saturday 23rd of April 2022 04:35:34 AM

عبدالقدیرفاضلی  صاحب(گامرو) بانڈی پورہ
   یہ1971عیسوی   کی بات ہے کہ احقر سوپور میں ٹرینگ کررہا تھا ایک دن اچانک ہمارے اساتذہ نے ہمیں سکول کے صحن میں جمع ہونے کے لیے کہا۔ اس دن محکمہ تعلیم کی ڈائر یکٹر صاحبہ بھی سینٹر میں تشریف لائی تھی۔ ہمیں غالب گمان ہو گیا کہ شائد ڈائریکٹر صاحبہ کو کچھ کہنا ہوگا۔ تما م اساتذہ اور زیر تر بیت اساتذہ جمع ہوگئے۔ سامنے مہمانوں کے لیے کُرسیاں لگائی گئیں اورہم فرشِ زمین پر بیٹھ گئے کہ یکا یک ایک باریش بزرگ ہمارے سامنے نمودار ہوگئے جن کے سر پر عمامہ تھا۔ہمیں بتایا گیا کہ ان کو طلباء کے سامنے تقریر کرنی ہے۔ ایک بلیک بورڈ بھی لگایا گیا...


صحبتے با اہل علم (17)

Date : Friday 25th of February 2022 02:51:46 PM

مولوی غلام حسن صاحب(گامرو بانڈی پورہ)
    قصبہ بانڈی پورہ کے قریب ایک گاؤں ہے جس کا نام گامرو ہے۔ یہاں پر ایک بزرگ تھے جس کا اِسمِ گرامی غلام حسن صاحب تھا۔اُن کے والد صاحب کا نام عبدالقادر تھا۔ اُن کے نام کے ساتھ لفظِ اعرج بولا جاتا تھا۔ اعرج عربی لفظ ہے اور اعرج لنگڑے کو کہتے ہیں۔ بچپن میں زمین پر گرنے کی وجہ سے اُن کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ انہوں نے اس کا اعلاج و معالجہ کرایا اور پھرچلنے کے قابل ہوگئے۔ حکیم نے اُن کو بتایا تھا کہ جتنا زیادہ وہ چلیں گے اُتنا ہی اُن کی ٹانگ میں قوت آجائے گی۔ چنانچہ اُس زمانے میں مال مویشی پالنے کا عمومی رواج تھا،لہٰذامولوی صاحب خوب چلتے ت...


صحبتے با اہل علم (16)

Date : Sunday 20th of February 2022 05:03:02 PM

مولوی محمد عبدللہ چشتی صاحب بارہمولہ
  
 قصبہ بارہمولہ میں ایک محلہ ہے جس کو محلہ جلال صاحب کہتے ہیں۔ یہاں پر ایک بزرگ کی زیارت ہے جن کا اسم گرامی شیخ جلال چستی تھا۔ مصنفِ تاریخ حسن نے لکھا ہے کہ شیخ جلال صاحب شیخ عبدالرحمن چستی کے بیٹے اور خلیفہ تھے۔ ان پر مدہوشی اور مستی کا غلبہ رہتا تھا۔ اکثر محویت ِ ذاتِ الٰہی میں غرق ہوتے تھے۔ ان کے والد شیخ عبدالرحمن نے تھانیسر جا کر خواجہ نظام الدین سے خطِ ارشاد حاصل کیا اور واپس آکر وادیئ کشمیر میں چستی طریقہ کو رواج دیا۔ مورخِ حسن ...


صحبتے با اہل علم  (15)

Date : Thursday 17th of February 2022 04:42:49 PM

مولوی محمد یوسف شاہ صاحب مرحوم 

علاقہ نارواو  وادی کشمیر کے اندر ایک چھوٹیسی وادی ہے۔کچھاہل دانش اس کو Mountain Valley   یعنی پہاڑوں سے گھری ایک وادی بھی کہتے ہیں۔ یہ وادی دو مربع میل پر پھیلی ہوئی ہے اس کیساتھ اگر کا بالائی علاقہ بھی ملایا جائے تو اس چھوٹی سی وادی کا حجم تین مربع میل ہے۔ یہ ایک خوبصورت وادی ہے اور اس میں میر سید علی ہمدانی کے زمنے میں آئے ہوئے تقریباً ایک سو سادات کرام جن میں کچھ مستورات بھی ہیں مدفون ہیں۔ غلام حسن کھوہامی جو علاقہ بانڈی پورہ کشمیر کے ایک مشہور مورخ ہیں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ یہ علاقہ...


صحبتے با اہل علم  (14)

Date : Wednesday 9th of February 2022 04:07:55 PM

صحبتے با اہل علم  14

ؒمحمد لطیف بیگ صاحب
  

 تاریخ اقوام کشمیرکے مصنف اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ تحصیل اُوڑی (کشمیر) میں ایک معزز قطب شاہی اعوان خاندان عرصہئ دراز سے آباد ہے۔ اوڑی سے پونچھ کو جاتے ہوئے لب سڑک ایک موضع بلکوٹ آتا ہے وہاں مولوی غلام مرتضیٰ بیگ رہتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے پہاڑی موضع میں مولانا کے پاس ایک مختصر سا عربی، فارسی اور اُردو زبان کا کُتب خانہ بھی ہے۔ سردار محمد رحیم بیگ شہید آپ کے پردادا تھے،جن کی اس علاقہ میں بہت شہرت ہے۔ اس خاندان کی ایک شاخ بارہمولہ ...


صحبتے با اہل علم(13)

Date : Monday 7th of February 2022 12:10:16 PM

مولانا فضل الرحمان صاحبؒ تُرک 
    محمد الدین فوق ایک کشمیر ی الاصل مؤرخ ہے۔ انہوں نے ستر کتایں تصنیف کی ہیں۔ کشمیر کے متعلق اُن کی تصانیف تاریخی اعتبار سے بڑا مقام رکھتی ہیں۔ چنانچہ تاریخ اقوام کشمیر اُن کی عالی قدر تصانیف میں شمار کی جاتی ہے، جس میں انہوں نے کشمیر کی تمام ذاتوں کے تاریخی حالات لکھئے ہیں۔ اُن کے پردادا کا نا م حسن ڈار تھا،جو ابتدائے شباب میں ہی کشمیر ہردو شیوہ سوپور سے پنجاب چلا آیا تھا۔اُس زمانے میں کشمیر میں افغانوں کی حکومت تھی۔ پنجاب میں ایک جگہ ہے،جس کا نام گھڑتل ہے۔ اور وہ وہیں آباد ہوا۔ آپ ضد1977  عیسوی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھڑتل اور لاہور میں حاصل کی...


صحبتے با اہل علم(12)

Date : Friday 4th of February 2022 05:20:26 PM

 
صحبت نمبر12

ؒ مولانا جلال الدین صاحب کشمیری

احقر نو عمری سے ہی اس بات کا متمنی رہتا تھا کہ مجھے زیادہ سے زیادہ علماء کرام و بزرگان دین کی صحبت و زیارت نصیب ہو جائے یہ  1984 عیسوی  کے آس  پاس   کہ اس شوق نے مجھے ایک دن مجبور کیا کہ میں صدر مفتی جموں و کشمیر مرحوم جلال الدین صاحب ؒ کی خدمت میں حاضری دوں۔ اس سے پہلے مجھے مرحوم کے ساتھ کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔مرحوم ان دنوں خانقاہ معلی سرینگر کے قریب ہی سکونت پزیر تھے۔ اور قدیم ترین مرکزی دار الفتویٰ خانقاہ معلیٰ سرینگر میں ہی موجود تھا۔ جب احقر  مکان کے صحن میں داخل ہوا تو ان...


صحبتے با اہل علم (11)

Date : Wednesday 2nd of February 2022 04:47:45 PM

صحبت نمبر11

 مولانا عبید اللہ صاحب بلیاویؒ 

احقر جب پہلی بار بنگلہ والی مسجد بستی نظام الدین اولیاء پہنچا تو وہاں پر ایک نوارانی ماحول پایا۔ ایسا لگتا تھا کہ اس جگہ صاف دل اور نیک  باطن لوگوں نے ایک ایسی چھوٹی مو ٹی بستی قائم کی ہے جس میں ہر شخص دو سرے کا غمخوار دکھائی دیتا تھا۔ اس دور میں موبائل اور انٹرنیٹ کا نام و نشان تک بھی نہیں تھا،مجموعی طور پر خبر رسانی کا واحد ذریعہ ڈاک و تار کا محکمہ انجام دیتا تھا اور دیہاتوں میں یہ واحد نظام بھی اتنا سست ہوتا تھا کہ ایک دفعہ پورا چلہ لگانے کے بعد جب میں گھر پہنچا تو ڈاکیہ ہمارے گھر پر آیا اور اس کے ہا...


صحبتے با اہل علم (10)

Date : Monday 31st of January 2022 01:22:50 PM

ؒ مولانا انعام الحسن صاحب
 

جانور پروں سے اڑتے ہیں اور انسان کے پر اس کی ہمت ہے۔ مشہور مقولہ ہے ”ہمت مرداں مدد خدا“۔ہمت اور استقامت انسان کے مضبوط پر ہیں جن سے انسان کوئی بھی مہم سر کرسکتا ہے۔اپنے دعوتی سفر میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے مولانا الیاس ؒ کو دو قیمتی جوہر عطا کیے ایک ان کے فرزند اور دوسرے مولانا انعام الحسن ؒ صاحب۔مولانا الیاس کے بعد دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری بالترتیب ان ہی دو حضرات کے کندھوں پر پڑی۔اگر چہ دفعہ مولانا الیاس کے بعد دعوت و تبلیغ کی امارت کا بوجھ مولانا محمد یوسف صاحب ؒ کے کندھوں پر پڑا لیکن ان کی اچانک رحلت کے بعد اکابرین نے امارت کی ذمہ داری ...


صحبتے با اہل علم (9)

Date : Friday 28th of January 2022 05:40:19 PM

صحبت نمبر9
 

ؒمولانا عمر پالنپوری 
 

 مولانا الیاس ؒ نے جب دعوت و تبلیغ کا کام شروع کیا تو رو رو کر اللہ سے دعائیں مانگی کہ اے اللہ اہل علم حضرات کا دل اس طرف مائل فرما دے۔آپ بذات خود علماء کے پاس جاکر حاضری دیتے تھے۔ اور ان کو نہایت ہی حکیمانہ انداز سے اس طرف متوجہ کرتے تھے۔مولانا بذات خود ایک بہت بڑے عالم تھے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ ایک ایسا علم عطا کیا تھا جس کو علم لدنی کہا جاتا ہے اور اس علم کا ثبوت ہمیں قرآن مجید سے ملتا ہے چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ سورہ کہف میں آیت نمبر 65  میں فرماتا ہے”و...


صحبتے با اہل علم (8)

Date : Thursday 27th of January 2022 04:00:36 AM

صحبت نمبر8

ؒ مولانا ظہور الحسن صاحب 
ایک دینی سفر میں اللہ نے مجھے قصبہ تھانہ بھون اترپردیش پہنچایا۔یہ وہی جگہ ہے جہاں حکیم الامت موانا اشرف علی تھانوی صاحب مدفون ہے۔آپ 1943  عیسوی میں اس دنیا سے تشریف لے چلے۔احقرنے حضرت تھانوی سے متعلق ایک رسالہ بھی لکھا ہے جس میں اپنے آتھ اشعار کو عنوان بنا کر ان کے وہ آٹھ کارنامے بیان کرنے کی کوشش کی ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے انجام دلوائے۔مولانا عبد الولی شاہ صاحب کشمیری ؒ کے واسطے سے حکیم الامت میرے دادا پیر ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ ان دونوں اصحاب علم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ 
حکیم الامت حضرت تھانوی ؒ اور ان کے خلفاء سے جو عظی...


صحبتے با اہل علم(7) 

Date : Tuesday 25th of January 2022 07:42:54 AM

صحبت نمبر7

ؒمولانا طلحہ صاحب سہارنپوری

آپ شیخ زکریا سہارنپوری کے فرزند ارجمند تھے۔اور شیخ زکریا  ؒ برصغیر کیی وہ عظیم ہستی ہے جو عالمی دینی محنت میں مولانا الیاس کے معاون و مددگار بنے۔ آپکے والد کا نام مولانا محمد یحییٰ تھا۔وہ بھی ایک بہت بڑے عالم دین تھے۔آپ کو اللہ نے طلحہ صاحب جیسا نیک اور صاحب علم فرزند عطا فرمایا۔اپنے دعوتی سفر کے دوران مجھے شیخ زکریا ؒ سے ملاقات کرنے اور ان سے مستفید ہونے کی بڑی تمنا تھی اور جب میں ان کے در دولت پر حاضر ہوا تو مولانا طلحہ صاحب نے بتایا کہ شیخ مدینہ طیبہ گئے ہیں۔در اصل شیخ زکریا ؒ صاحب دلی تمنا رکھتے تھے کہ انہیں مدینہ طیبہ میں جنت البقیع کی مٹی نصیب ہوجائے۔م...


صحبتے با اہل علم (6)

Date : Sunday 23rd of January 2022 07:54:10 PM

صحبت نمبر6

مولانا انظر شاہ کشمیریؒ 

آپ مولانا انور شاہ کشمیریؒ کے فرزند ارجمند تھے۔بچپن میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اعلیٰ قسم کی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔اپنے دیوبند کے سفر کے دوران احقر ان سے ملنے کے لیے ان کی کوٹھی پر ملنے کے لیے گیا لیکن وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ گھر سے دار العلوم کی طرف جانے والے ہیں کیونکہ مولانا دار العلوم (قدیم) کے ایک استادبھی تھے۔ مولانا نے فرمایا کہ آپ بعد نماز مغرب مجھ سے انار کے اس درخت کے پاس مل سکتے ہیں جہاں پر دار العلوم کی ابتداء ایک شاگرد اور ایک استاد سے ہوئی تھی قریب ہی ایک چھوٹی مسجد تھی...


صحبتے با اہل علم (5)

Date : Friday 21st of January 2022 05:42:01 PM

صحبت نمبر5

  ؒازہر شاہ قیصر
حضرت مولانا انور شاہ کشمیری کے دو فرزند تھے۔ایک کا نام ازہر شاہ صاحب تھا اور دوسرے کا نام انظر شاہ صاحب تھا۔ان دو بھائیوں میں فرق صرف یہ تھا کہ ازہر شاہ صاحب ایک اعلیٰ پایہ کے ادیب تھے اور ادب کے دائرہ میں رہتے ہوئے خاندانی شرافت کا مجسمہ بھی تھے لیکن انظر شاہ صاحب ایک اعلیٰ پایہ کے عالم دین تھے۔آپ پہلے دار العلوم دیوبند(قدیم)میں بھی بحیثیت استاد کام کرتے تھے پھر جب باہمی اختلاف کی وجہ سے دار العلوم (وقف) وجود میں آیا تو آپ نے زندگی کے بقیہ ایام اسی دار العلوم میں گذارے۔ 
جیسا کہ اوپر تذکرہ ہوا کہ ازہر شاہ صاحب ایک اعلیٰ پایہ کے ادیب تھے اور ا...


(4) صحبتے با اہل علم 

Date : Thursday 20th of January 2022 01:32:56 PM

 

صحبت نمبر4

حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب ؒ 

  یہ 1976عیسوی کی بات ہے کہ ایک دعوتی سفر میں احقر دیوبند پہنچا۔چند دن دیوبند میں ٹھہرنا نصیب ہوا۔اُن دنوں قاری طیب صاحب ؒ دار العلوم دیوبند کے مہتمم تھے۔دل میں ان کی زیارت کرنے کا بڑا شوق تھا۔ لیکن وہ کہیں سفر پر گئے تھے۔ اور نائب مہتمم مولانا مرغوبا الرحمٰن صاحب دیوبند میں موجود تھے۔ ان کی زیارت نصیب ہوئی۔ مصافحہ کیا اور خیر خبر کی حد تک ہی بات چیت ہوئی۔اس کے بعد دار العلوم کے کمرے میں ہم پہنچے جہاں مولانا اظہر شاہ قیصر تشریف فرما تھے۔۔ان کی ملاقات نصیب ہوئی۔وہ ان دنوں دار العلوم دیوبند کا ماہوار رسالہ نکالتے تھے۔اسی کمرے میں مولان...


(3) صحبتے با اہل علم

Date : Wednesday 19th of January 2022 07:43:48 AM

 3 صحبت نمبر 
 

 ؒ مولانا منظور احمد نعمان 
گذشتہ عیسوی صدی کے ممتاز علمائے دین میں مولانا منظور احمد نعمانی ؒکا نام  سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔کیونکہ اس دور میں لوگوں تک بات پہنچانے کے ذرائع موجود نہیں تھے جو آجکل ہر شخص کو میسر ہیں۔اس دور میں نشر و اشاعت کے دو ذرائع موجود تھے۔حضرات علمائے کرام یا تو اپنی زبان کے ذریعے اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچاتے تھے یا رسائل و کتب کے ذریعے۔مولانا نعمانی  ؒ نے  ان دونوں کو خوب استعمال کیا۔آپ ایک اعلیٰ پایہ کے مبلغ،عالم اور صاحب قلم تھے۔ چنانچہ آپ نے مختلف موضوعات پر کتابیں لکھیں۔آپکے استادوں  میں ح...


(2) صحبتے با اہل علم

Date : Tuesday 18th of January 2022 05:47:56 AM

2صحبت نمبر
سید ابو الحس علی میاں ندوی ؒ 
گذشتہ عیسوی صدی کے ممتاز علمائے دین میں سے حضرت علی میاں ندوی ؒ ایک ممتاز شخصیت کے مالک تھے۔ آپ ایک علمی گھرانہ کے چشم و چراغ تھے۔ قصبہ رائے بریلی یوپی میں پیدا ہوئے اور ندوۃ العلماء لکھنو کے سرپرست تھے۔ آپ دل سے اکابرین دیوبند و سہارنپور کے قدر دان تھے اور اس نیم برصغیر کے تقریباً سارے ہی علمی حلقوں میں نہات ہی قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے۔ آپؒ اور مولانا منظور احمد نعمانیؒ ہم عصر تھے اور ملک کے تقسیم ہونے کے بعد آپ دونوں حضرات پہلے جماعت اسلامی پھر تبلیغی جماعت کے ساتھ منسلک رہے۔ دونوں جماعتوں میں آپ قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے۔آپ  دونوں حضرات علم و عمل کا مجسمہ تھے۔ مو...


(1) صحبتے با اہل علم

Date : Monday 17th of January 2022 06:44:48 AM

استاذی پیر غلام رسول چشتیؒ

بنیادی طور پر تمام علوم کو دو حصوں میں تقسیم،یا جاسکتا ہے۔ایک علم کا دائرہ دنیاوی علوم پر محیط ہے اور دوسرے علم کا احاطہ دینی علوم پر مشتمل ہے۔جیسے دنیاوی علوم کی مختلف شاخین ہیں اور ہر شاخ کے اپنے اپنے ماہر ہوتے ہیں ویسے ہی دینی علوم کے بھی ماہر ہوتے ہیں اور ان علوم کی بھی مختلف شاخیں ہوتی ہیں اور ہر شاخ کا کوئی نہ کوئی بڑا ماہر ہوتا ہے۔لیکن اللہ کے بندوں میں سے کچھ مخصوص بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اگر چہ ہر شاخ کے ماہر نہیں ہوتے ہیں لیکن ضرورت کی حد تک انہیں ہر...






© Copyright 2021. All Rights Reserved.