Latest Notifications : 
    داعی توحید نمبر

الحاج عبد الکریم صوفی المعروف کاک جان صاحب مرحوم


  • آسی غلام نبی وانی مؤسس مجلس علمی جموں و کشمیر
  • Saturday 13th of April 2024 09:44:05 AM

مرحوم عبد الکریم صوفی المعروف کاک جان صاحب بارہمولہ 
امام شافعی کا مقولہ ہے کہ الوقت سیف قاطع یعنی وقت ایک تیز کاٹنے والی تلوار کی طرح ہے جو کسی کا پاس و لحاظ نہیں کرتی ہے ۔ اللہ تعالی نے انسان کی زندگی کو وقت کے ساتھ جوڑا ہے ۔وقت ختم ہوا زندگی بھی ختم ہو گئی ۔لہذا بزرگوں نے وقت کی اس اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے وقت کی قدر کرنے کی نصیحت کی ہے ۔پاس انفاس در اصل وقت کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے بزرگوں کے یہاں اس عمل کا نام ہے جس میں ایک دین پسند انسان ہر سانس کو مناسب طریقے سے استعمال کرنے کے لیےحساب رکھتا ہے کہ کون سا سانس یاد الٰہی کے ساتھ گزرا اور کون سا سانس خالی گزرا اور اس کی تلافی کرنے کا اہتمام کرتے ہیں ۔  دعوتی محنت کے ابتدائی کارکن اسی ذہن کے تھے اور وہ ہر سانس کا لحاظ کرتے ہوئے اس کو مناسب طریقے سے استعمال کرنے کا جذبہ رکھتے تھے ۔موصوف مرحوم بھی ہمہ وقت یاد الٰہی میں مصروف رہتے تھے ۔ اور ابھی ہم اس تذبذب میں تھے کہ آیا ہم موصوف کو زندوں کے ساتھ جوڑیں یا مرحومین کے ساتھ ۔کہ اچانک سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ موصوف اپنا دم توڑ چکے اور مرحومین کے کھاتے میں داخل ہو گئے ۔ اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے ۔آج ہم ان کی غیر موجودگی کو محصوص کر تے ہیں کہ ایسے لوگ بار بار نہیں آتے ہیں بلکہ قدرت کے ایک بندھے ٹکے نظام کے تحت دنیا کے اندر تشریف لاتے ہیں اور اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے بعد مولا کے پاس چلے جاتے ہیں ۔ 
موصوف کا اصل نام عبد الکریم صوفی تھا لیکن عوام میں وہ "کاک جان صاحب" کے نام سے معروف تھے ۔ تبلیغی جماعت کےکافلہ  کے ابتدائی کارکنوں میں سے تھے اور زندگی بھر اسی فکر کے تحت جیے اور پورے خاندان کو اس مبارک محنت کے ساتھ جوڑے رکھنے کے لیے کوشاں رہے ۔ اب چونکہ وہ اپنا وقت پورا کرکے چلے گئے لہذا  ان کے ساتھ نسبت رکھنے والوں کا یہ اخلاقی فریضہ بنتا کہ وہ اسی محنت میں اپنے آپ کو تھکا دیں جو محنت کرتے کرتے موصوف اس دنیا سے چل بیٹھے۔ 
آپ نے اپنا پورا شباب اور جوانی دعوت کے میدان میں صرف کی اور دعوتی مراکز میں خدمت انجام دینے کا انتہائی ولولہ رکھتے تھے ۔ منشی اللہ دتا صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ فکری اور روحانی تعلق تھا جو ز دگی بھر قائم رہا ۔ بیرونی مہمان جماعتوں کی خوب خدمت کرتے تھے اور یہی خدمت ان کا مخصوص وصف تھا ۔ کئی اسفار ناچیز اور مرحوم کاک جان صاحب اکٹھے رہے ۔آپ ایک منٹ بھی نہ خود بے فکر ہو کر گزارتے تھے اور نہ ہی ساتھیوں کو بے فکر رہنے دیتے تھے ۔ اپنے مامورین کو ذکر ،تلاوت ،نوافل اور وظائف میں مصروف رہنے کی تلقین کرتے تھے اور اپنے ساتھیوں کا وقت انتہائی قیمتی گردانتے تھے اور یاد خدا کرنے کی تلقین کرتے تھے ۔ تقاضوں پر کام کرنے کے لیے سرعت کے ساتھ تیار ہوتے تھے ۔ علاقہ نارواو میں جماعت اپنے ساتھ لاتے تھے اور عام لوگوں کے ساتھ گھل مل جاتے تھے ۔اور تشکیل پر زور ہی نہیں بلکہ بڑی منت سماجت کے ساتھ اللہ کے بندوں کو نکالنے کی سعی کرتے تھے ۔ 
امیر صاحب کے ساتھ انتہائی عجز و انکسار کے ساتھ پیش آتے تھے اور ان کے مشورے کو اپنے لیے حکم سمجھتے تھے ۔ ساتھیوں کو اپنے گھر پر لینا اور تواضع سے پیش آنا آپ کی ایک انتہائی خصوصی صفت تھی ۔ آپ حلال روزی اپنے ہاتھ سے کماتے تھے اور خدا کے راستے میں خرچ کرتے تھے ۔اپنے ذاتی اعمال اوراد و وظائف کے انتہائی پابند تھے ۔ سالانہ چلہ اپنے لیے ضروری سمجھتے تھے اور بہت سے لوگوں کو ترغیب و ترہیب کے ذریعے اللہ کے راستے میں نکلنے کا ذریعہ بنے۔ 
آخر پر ہم اللہ سے دست بدعا ہیں کہ اللہ آپ کی حسنات کو شرف قبولیت سے نوازے اور سیئات کو معاف فرمائے۔ موصوف آج بروز سنیچر بتاریخ 13 اپریل  2024 کو اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ 

 


Views : 270

Leave a Comment