Latest Notifications : 
    داعی توحید نمبر

الحاج عبد الخالق ناگو صاحب رحمہ اللہ


  • آسی غلام نبی مؤسس مجلس عملی جموں و کشمیر
  • Tuesday 2nd of April 2024 05:33:38 PM

مرحوم الحاج عبد الخالق ناگو صاحب قصبہ بارہمولہ کے    آزاد گنج میں پیدا ہوئے ۔ کسی نے کیا خوب فرمایا ہے کہ  

*ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است*

یعنی ہر پھول کو اپنی مہک اور اپنا رنگ ہوتا ہے ۔مرحوم کو اللہ رب العزت نے اپنی خاص عنایت سے نوازا تھا ۔ مرحوم ایک شریف النفس اور معاملہ فہم انسان تھے۔ جو اس دور میں اپنی پہلی جد و جہد میں اکھٹے تین چلے لگانے میں کامیاب ہوا جب بڑی خوشامد کے بعد کوئی شخص تین دن اللہ کے راستے میں دینے کے لیے تیار ہوتا تھا۔ مرحوم کا بڑا بھائی ایک ایماندار ٹھیکہ دار تھا ۔اسی صحبت میں رہ کر موصوف نے بھی اپنے ابتدائی دور میں ٹھیکہ داری کا کام کیا ۔آپکا پورا خاندان اور کنبہ تجارتی ذہن کے انسان تھے ۔جب اللہ نے آپ کو اپنے راستے میں قبول کیا ۔آپ نے نہ صرف تبلیغ کا کام کیا بلکہ اپنے آپ کو فنا فی التبلیغ بنایا ۔ یہ چند نوجوان تھے جنہوں نے آزمائش کے دور میں اپنے آپ کو دعوت کے میدان میں جھونک دیا اور اپنےآپ کو کندن بنانے میں کامیاب ہوگئے ۔اللہ ان کے درجات کو بلند فرمائے ۔

 آپ کا پورا شباب دعوت کے میدان میں گذرا ۔ آپ نے صوبہ جموں کے سنگلاخ علاقوں میں اس دور میں کام کیا جب ان پہاڑوں کو سر کرنا اپنے آپ کو جان جوکھوں میں ڈالنے کا کام تھا ۔ موصوف نے اپنے پورے خاندان کو کام میں جھونک دیا۔1975 عیسوی میں اپنے والد صاحب کو اس ناچیز کے ساتھ ہندوستان کے سفر پر روانہ کیاجس نے میرے ساتھ ایک پورا چلہ یو۔پی اور میوات میں لگایا۔ مالی مشکلات کے باوجود بار بار اللہ  کے راستے میں نکلتے تھے اور نکلتے وقت کسی مصلحت سے کام نہ لیتے تھے ۔ سچ فرمایا گیا ہے کہ

 "رند عالم سوز را مصلحت بینی چہ کار " 

(ترجمہ) عالم کو بلانے والے رند کو مصلحت بینی سے کیا واسطہ ۔ 

آخر کار ایک دوسرے سفر میں آپ کے والد صاحب ایک سڑک حادثے میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اور اپنےباپ کا یہ فرزند اف تک زبان پر بھی نہ لایا ۔ دیگر ساتھیوں کو ان کی پر مشقت زندگی پر ترس  آتا تھا ۔اور تبلیغ کے معاملے میں موصوف اتنے دیوانے تھے کہ والد صاحب کی شہادت کے بعد بھی ان کے عزم و جوش میں کوئی فرق نہ آیا اور تبلیغ کی چوکھٹ کو نہ چھوڑا ۔ فاقے اور عسرت کو برداشت کیا ۔ دعوت کے میدان میں اپنے آپ کو جھونکنے کے بعد بس دعوتی ہوگئے ۔ آپ کی دلی تمنا تھی کہ دعوت کا کام مرکز نظام الدین کی نہج پر چلے ۔آپ مرحوم مہجو صاحب اور مرحوم غلام رسول ریگو صاحب کے قریبی ساتھیوں میں تھے ۔ اور چاہتے تھے کہ قول و فعل میں کسی تضاد کے بغیر ہمیں دیوانے کی طرح اپنے آپ کو دعوت میں جھونکنا چاہیے۔خدا نے آپ کو ایک زود فہم انسان بنایا تھا اور عسرت کی زندگی گزارنے کے باوجود کام کو سینے سے لگایا۔ بقدر ایثار و قربانی اللہ نے آپ کو دعوتی فہم سے نوازا اور آپ کے بیان میں ایسی باتیں ہوتی تھیں جو الہامی معلوم ہوتی تھیں ۔زبردست جوشیلا بیان کرتے تھے۔یہ چند اشخاص تھے جو ایک بڑا کاروان محسوس ہوتا تھا ۔نوجوانوں کو قابو کرنے کا ایک خاص وطیرہ اللہ نے آپ کو عطا کیا تھا جو بدقسمتی سے ان کے لیے ایک آزمائش کا سبب بنا ۔ پھر آپ نے اسی دین دارانہ جد وجہد کے دوران حج و عمرہ کے لیے ایک ٹریول ایجنسی بنائی۔ اسی ٹریول ایجنسی کے ساتھ احقر نے 2001 عیسوی میں عمرہ کیا اور 2006 عیسوی میں حج کیا ۔

ہمارا سفر کیا تھا ، موصوف چونکہ ہماری ٹیم کے معلم بھی تھے لیکن سفر پر نکلنے کے وقت ان کی بیٹیاں کسی تکلیف میں مبتلا ہوگئیں اور اس نے معلمی کی ساری ذمہ داری میرے سر پر ڈالی ۔ہم یہاں سے سیدھے کلکتہ گئے جہاں ایک دعوتی بزرگ سید رضوان شیر صاحب اس ایجنسی  کو چلا رہے تھے ۔موصوف کلکتہ تک ہمارے ساتھ آگئے اس کے بعد ہمیں بذریعہ جہاز پہلے سفر میں عمرہ کے لیے روانہ کیا اور بڑی رعایت کے ساتھ ہمارے ساتھ لین دین کا معاملہ طے کیا ۔اللہ موصوف کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے ۔وہ سفر اگر چہ ذاتی طور  سے عمرہ اور حج کا  سفر تھا ۔لیکن ہمارا پورا کافلہ چونکہ تبلیغی  افراد پر مشتمل تھا لہذا ہمارا سفر ایک دعوتی سفر بن گیا۔ روزانہ تعلیم اور روزانہ مشورہ ہوتا تھا اور اس سفر میں ہمارے ساتھ تقریبا ایک درجن عورتین بھی تھیں ۔اور ہم کویت اور اردن بھی گئےاور جہاں جہاں گئےدعوت کا کام کرتے تھے ۔میرے ان عظیم سفروں کا ذریعہ اللہ تعالی نے عبد الخالق ناگو صاحب کو ہی بنایا اور میں کبھی کبھی اپنی تنہائی کی دعاؤں میں بھی مرحوم کو شریک کرتا ہوں ۔ مرحوم نے اکرام و اعزاز کا معاملہ اس سفر میں جو ہمارے ساتھ کیا وہ یقینا ایک مثالی برتاؤ تھا ۔چند دن کلکتہ میں ٹھرے ۔ آپ کی صاحب زادی چونکہ وہاں ایک محترم دعوتی بزرگ کے نکاح میں ہے اس نے اور اس کے شوہر نے روسائے کلکتہ کو بھی مدعو کیا اور ہمارے لیے ایک مثالی  دعوت کا اہتمام کیا ۔سفر سے واپسی کے بعد گھر تک واپس پہنچایا اور پھر مبارک باد دینے کے لیے علاحدہ طور سے ہمارے غریب خانے پر تشریف لائے ۔ اور ایک دفعہ جب ان کے داماد کشمیر تشریف لائے تو وہ بھی ہمارے گھر پر تشریف لائے ۔اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس دور میں دعوتی لوگوں کا باہمی اکرام اور برتاؤ کس جذبے کے تحت تھا ۔اور جس نوعیت کا تھا ۔ایک دفعہ موصوف بستی نظام الدین میں تھا واپسی پر میں نے موصوف سے پوچھا کہ آج مرکز کی کوئی خاص بات سناؤ فرمایا کہ *حضرت علی میاں ندوی صاحب نے مرکز نظام الدین میں آکر صاف لفظوں میں اس بات پر زور دیا کہ ایک لمحہ کے لیے بھی بغیر امیر کے مت گذارو اور مرکز ہمیشہ ہمسایہ ملک کے برعکس صرف ہندوستان میں رہنا چاہیے* ۔ اس میں کیا حکمت تھی یہ تو مرحوم ہی جانتے ہونگے ۔بہر حال حضرت علی میاں ندوی ایک جہان دیدہ آدمی تھے اور دعوت کو مولانا الیاس رحمہ اللہ کی نہج پر چلانا چاہتے تھے اور دعوت کا تحفظ چاہتے تھے ۔پھر فرمایا اگر آپ کو نظام الدین مرکز میں کوئی آدمی نہیں ملتا ہے تو چوراہے سے کسی آدمی کو پکڑ کر لاؤ اور امارت کی کرسی پر بٹھاؤ اور بغیر امیر کے ایک لمحہ بھی تبلیغ کو مت رکھو ۔ اس کے چند برس بعد موصوف زندہ رہ کر اس عالم فانی سے عالم بقا کی طرف رحلت فرما گئے ۔قصبہ بارہمولہ کے عوام نے بھر پور طریقہ سے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور احقر نے بارہمولہ کے عید گاہ میں عوام کے ایک جم غفیر میں موصوف کے کارناموں پر روشنی ڈالی اور محترم المقام امیر احمد خان صاحب نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی ۔اللہ امیر صاحب کی زندگی میں برکت نصیب فرمائے جنہوں نے اپنی پیرانہ سالی میں بھی اپنے دعوتی احباب کو یاد رکھا اور ان کی حوصلہ افزائی فرمائی ۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ۔۔۔۔۔۔۔.  

ازقلم: آسی غلام نبی وانی

(سرپرست ادارہ راہ نجات و مؤسس مجلس علمی جموں و کشمیر)


Views : 131

Leave a Comment