Latest Notifications : 
    داعی توحید نمبر

ڈاکٹر قاضی نثار کے ہمراہ علماء کی جماعت کی عیادت اور افادات مجلس


  • سالک بلال
  • Tuesday 23rd of January 2024 04:32:00 PM

*ڈاکٹر قاضی نثار صاحب اورعلماء کی جماعت کی عیادت*
ڈاکٹر  قاضی نثار احمد کے ہمراہ علماء کرام کی ایک جماعت جو احمد آباد گجرات سے تعلق رکھتی تھی آج یعنی اکیس جنوری  2024  صبح دس بجے والد محترم کی عیادت کے لیے پہنچی ۔ ڈاکٹر قاضی نثار احمد صاحب ضلع راجوری سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ ندوہ سے فارغ التحصیل عالم ہونے کے ساتھ ساتھ عربی میں ڈاکٹریٹ بھی ہے ۔ اللہ تعالی نے موصوف کو کافی علمی اور تحقیقی صلاحیت سے نوازا ہے۔ محترم موصوف علمی مصروفیت کے علاؤہ دعوتی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ سب سے بڑی چیز جو موصوف کی شخصیت کا امتیاز ہے ،وہ تحذب سے پاک ذہن ہے اور نیک امور میں بلا امتیاز مسلک و فکر ہر کسی کی اعانت کرنا ہے ۔بہر حال ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہمارا تعلق کافی گہرا ہے۔ انہوں نے   مجلس علمی کا تعارف  راجوری کے علماء اور دانشوروں میں  خوب کیا اور اس کی مجالس  میں بذات خود یہاں یعنی وادی میں بھی  وقتا فوقتاً شریک ہوتے رہے۔ چونکہ والد محترم کی علالت کے بعد وہ چند مجبوریوں کی وجہ سے ابھی تک عیادت کے لیے نہیں آسکے تھے۔ بقول موصوف آج موقع پاتے ہی عیادت کے لیے ادھر کا رخ کیا ۔ چونکہ موصوف اس وقت جماعت کے ساتھ ہیں لہذا پوری جماعت سمیت والد محترم کے ہاں تشریف آور ہوئے۔ جونہی والد محترم نے قاضی صاحب اور جماعت کی تشریف آوری کی اطلاع سنی کافی مسرت کا اظہار کیا اور انتہائی ضعف کے باوجود کافی دیر تک استقبال کے لیے کھڑے رہے ۔ جونہی  قاضی صاحب اور علماء حضرات کمرے میں داخل ہوئے تو ان کی باچھیں کھل گئی ۔ جماعت کے احباب کے ساتھ مختصر تعارف کے بعد قاضی صاحب نے دینی مہمات کی بات چھیڑی۔ بہر حال جماعت کی مناسبت سے  کشمیر میں ابتدائی زمانے میں تبلیغی مہمات کا تذکرہ کرنا مناسب سمجھا۔ فرمایا کہ یہ حضرت منشی اللہ دتا صاحب رحمہ اللہ تھے جنہوں نے ابتدائی زمانے میں کشمیر میں دعوت کا کام کیا ۔فرمایا منشی صاحب کی تائید حضرت مولانا عبد الولی رحمہ اللہ نے یہ کہہ کر کی کہ تبلیغی جماعت حق ہے لہذا ان کا یعنی تبلیغی احباب کا ساتھ دو ۔ اس طرح ہم لوگ اس جماعت کے ساتھ جڑ گئے۔ مولانا عبد الولی صاحب سے متعلق فرمایا کہ انہوں نے یہاں تحریک توحید 1920عیسوی سے چلائی اور اس سلسلے میں ان کو کافی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔مختلف مقدموں کا سامنا کرنا پڑا اور اس طرح  انکی زندگی کا بیشتر حصہ مقدمات کی پیروی میں صرف ہوا ۔ ان کو زہر  بھی دیا گیا  اور کئی دفعہ ان پر جان لیوا حملے کیے گئے۔ جماعت کے احباب سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ ہمارے بزرگوں نے اور خصوصا کاندھلوی خاندان نے اس کام کو اللہ سے رو رو کر مانگا ہے اور پھر حاصل کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ کام امت پنے کا ہے اس میں ساری امت کو جوڑنے کی فکر کی جارہی ہے ۔ حالیہ تبلیغی اختلاف کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اختلاف رونما ہونے سے بہت پہلے میں نے  خواب میں  دیکھا کہ میں مرکز نظام الدین اولیاء مسجد میں ہوں اورجماعت کی نماز کھڑی ہو رہی ہے کہ اسی اثنا میں حضرت مولانا انعام الحسن حضرت جی ثالث رحمہ اللہ جوکہ میرے مرشد بھی تھے ممبر میں پیچھے کی طرف مڑ گئے اور اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا غلام نبی باہر نکلو ،اپنی انگلی سےدہلی کے چاروں اطراف کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ باہر آگ لگی ہوئی ہے۔ فرمایا اس کے چند سال بعد یہ ناخوشگوار اختلاف رونما ہوا ۔  چونکہ اس غیبی اشارہ کو مد نظر رکھتے ہوئے موصوف نے وادی میں تبلیغی جماعت کی بگڑتی ہوئی  صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے چند اصلاحی اقدام اٹھائے تھے جن کی وادی کی سطح پر خواطر خواہ  پزیرائی حاصل نہیں ہوئی ۔ اس سلسلے میں ایک دس نکاتی تحریر بھی ایک کل ریاستی مشورہ میں تفقد کے لیے وادی کے تمام ذمہ داروں کے سامنےپڑھی گئی جو شنیدن و برخواستن کی نظر ہوئی۔ فرمایا اللہ نے تبلیغ کو دو بڑی شخصیات دی تھیں جن کے زمانے میں تبلیغی کام کو عالمی سطح پرپزیرائی ہوئی ایک حضرت جی ثالث مولانا انعام الحسن صاحب ،دوم حضرت عمر صاحب پالنپوری رحمھما اللہ ۔ حضرت عمر صاحب کو مولانا انعام الحسن صاحب لسان الدعوہ و تبلیغ کہا کرتے تھے۔ فرمایا پرانے تبلیغیوں نے اس کام کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا  بنایا تھا اس ضمن میں ممبی کے کسی بھائی شفیع کا ذکر کیا جو اپنے زمانے میں فنا فی التلیغ ساتھی تھے ۔ان کا نام لینا ہی تھا کہ آبدیدہ ہوئے۔ تمام احباب سے فرمایا کہ جس طرح تبلیغی جماعت کا کام "امت پنے" کا ہے اسی طرح ہمارا کام یعنی مجلس علمی کا کام بھی امت پنے کا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارا انداز علمی اور تعلیمی ہے ۔مجمعے سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ ہماری اس مجلس میں تمام مکاتب فکر سے جڑے احباب بہت ہی علمی انداز میں اپنے نظریات اور شاکلوں میں رہتے ہوئے دین کی خدمت مثبت انداز میں کرتے ہیں۔اس کے بعد حضرت نے جماعت کے امیر سے دعا کی گزارش کی اگر چہ انہوں نے حضرت ہی کو دعا کرنے کی گزارش کی تاہم حضرت نے ان سے فرمایا کہ آپ اس وقت سفر میں ہیں اور مسافر کی دعا جلد قبول ہوتی ہے لہذا انہوں نے الامر فوق الادب کے تحت تعمیل کی ۔ دعا میں تمام احباب پر رقت طاری ہوئی اور بعد دعا یہ تمام احباب پر نم آنکھوں سے بدا ہوئے ۔ نکلتے نکلتے ہر ایک ساتھی کو دو دو کتابیں (مقصد تخلیق کائنات اور مولانا الیاس کی دینی دعوت اور کشمیر ) بطور ہدیہ پیش کی گئیں ۔ حضرت معذوری کا خیال نہ کرتے ہوئے مشائعت میں نکلنے کے لیے کھڑے ہوئے تاہم جماعت والوں نے منع کیا ۔ یہ مجلس کافی نفع بخش رہی اللہ حضرت کا سایہ ہمارے اوپر  تادیر قائم رکھے ۔

سالک بلال


Views : 40

Bilal Ahmad Wani

اللہ والوں کی نظر دور بین و دور رس ہوتی ہے بہت عمدہ تاثرات پُر از معلومات کاش تبلیغی جماعت انتشار کا شکار نہ ہوتی - اس محنت سے امت کو بڑا فائدہ حاصل ہورہا تھا - ہر چند بعض امور میں اختلاف کی لکیریں بھی ابھرتی رہتی تھیں تاہم اس کا خیر اس کی کمزوریوں پر غالب تھا - لیکن وہ جو کہتے ہیں ع اے بسا آرزو کہ خاک شد

2024-01-23 22:06:41


Bilal Ahmad Wani

اللہ والوں کی نظر دور بین و دور رس ہوتی ہے بہت عمدہ تاثرات پُر از معلومات کاش تبلیغی جماعت انتشار کا شکار نہ ہوتی - اس محنت سے امت کو بڑا فائدہ حاصل ہورہا تھا - ہر چند بعض امور میں اختلاف کی لکیریں بھی ابھرتی رہتی تھیں تاہم اس کا خیر اس کی کمزوریوں پر غالب تھا - لیکن وہ جو کہتے ہیں ع اے بسا آرزو کہ خاک شد

2024-01-23 22:06:41


Bilal Ahmad Wani

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم حضرت مولانامحمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ اور ان کی تحریک دعوت اور حضرت مولانا بخاری قبلہ مرحوم عزیز القدر محترم سالک صاحب نے کل مجلس علمی جموں وکشمیر کے گروپ میں بحوالہ ڈاکٹر قاضی نثار احمد صاحب اور علماء حیدرآباد جو بسلسلہ تبلیغ وارد کشمیر ہوےہیں اور انہوں نے فتح گڑھ بارہمولہ جاکر قبلہ آسی صاحب مدظلہ کی عیادت کا فریضہ انجام دیا کے متعلق جامع پوسٹ سینڈکرکے حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللّٰہ علیہ کی دینی دعوت کا دلنشین تذکرہ چھیڑا ۔۔۔ حضرت الاستاذ علامہ سید محمد قاسم شاہ صاحب بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللّٰہ علیہ کو بچشمِ شعور دیکھا تھا خصوصاً اس مجلس نکاح میں جو حضرت مفتی اعظم ہند مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے کاشانہ اقدس میں حضرت مفتی صاحب موصوف کی صاحبزادی کے عقد مسنون کے سلسلہ میں منعقد ہوئی تھی خطبہ مسنون ا ور ایجاب وقبول کا فریضہ حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللّٰہ علیہ نے انجام دیے کر ساتھ اپنے مخصوص اندازِ بیاں میں دعوت کے موضوع پر بسیط علمی خطاب فرمایا تھا حضرت مولانا یوسف قدس اللہ سرہ کے ساتھ علامہ بخاری قبلہ مرحوم کی خط وکتابت جاری تھی ۔تو حضرت مولانا یوسف قدس سرہ کا حادثہ وفات درپیش آیا حضرت مولانا یوسف علیہ الرحمۃ کا والہانہ تذکرہ کرکے بار بار ان کی وفات حسرت آیات کا ذکر کرتے تھے آج سے قبل علامہ بخاری قبلہ مرحوم نے بربنائے تجربات سوپور میں مرحوم قادر جو صاحب جانواری کی مسجد شریف میں ماہ رمضان المبارک میں اپنے خطبہ میں اس انتشار کی خبر دی جس نے اس خالص دعوتی جماعت کو دو حصوں میں تقسیم کیا اس وقت جناب علی محمد صاحب آف ہندوارہ ۔۔۔۔یا۔۔۔‌کپوارہ۔ ۔۔ پورا تعارف یاد نہیں ۔۔۔بزرگ کی قیادت میں ایک جماعت مسجد شریف میں مقیم تھی بہرحال علامہ بخاری مرحوم نے کبھی اس دعوت کی مخالفت نہیں کی جس کا دکر قبلہ مولانا آسی صاحب مدظلہ نے بخاری صاحب کی وفات حسرت آیات یکم ذیقعدہ الحرام 2020ھجری کے بعد قلمبند فرمایا ھے حالانکہ مولانا آسی صاحب مدظلہ کے ساتھ میں گذشتہ سال اولین دفعہ متعارف ہوا باقی آئندہ انشاءاللہ العزیز خلوص کیش شوکت حسین کینگ علمی جانشین حضرت امیر شریعت مفسر قرآن علامہ سید محمد قاسم شاہ صاحب بخاری قبلہ مرحوم

2024-01-23 22:05:46


Leave a Comment