Latest Notifications : 
    داعی توحید نمبر

مرحوم الحاج محمد مقبول مہجو صاحب بارہمولہ


  • آسی غلام نبی وانی سرپرست راہ نجات بارہمولہ
  • Wednesday 27th of March 2024 03:30:35 AM

مرحوم الحاج محمد مقبول مہجو بارہمولہ 
جب حضرت منشی اللہ دتا صاحب بارہمولہ تشریف لائے تو وہ بغیر کسی گروہی تعصب کے ہر شخص سے ملاقات کرتے تھے ۔ چاہے وہ کوئی معروف سیاسی کارکن ہوتا تھا یا غیر معروف لیکن کسی نہ کسی درجے میں جس کی گرفت لوگوں پر ہوتی تھی۔ چونکہ تبلیغ میں کسی خاص سیاسی مکتب فکر کو اپنانا مقصود نہیں بلکہ ہر وہ آدمی مطلوب ہے جس کے ذریعے سے دین کی کوئی شکل وجود میں آئے ۔ ایسی ہی ایک بااثر شخصیت  جناب محمد مقبول مہجو صاحب کی تھی  جو قصبہ بارہمولہ کے ایک معروف و مشہور سیاسی شخصیت تھی۔ کسی طریقے سے منشی اللہ دتا صاحب کی نظر ان پر پڑی تو ان کو دعوت میں جڑنےکی ترغیب دے دی ۔چونکہ مہجو صاحب ایک جہاندیدہ آدمی تھے اور انہوں نے بھی اس روحانی بزرگ کا اثر فورا قبول کیا اور دعوت کے ساتھ فکری و اعتقادی طور منسلک ہوئے اور وقت وقت پر تبلیغ کے دفاع میں ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے ۔ شاید اسی محبت اور طلب کی وجہ سے مرحوم نے ضرورت پڑنے پر ایک قطعہ زمین بھی قصبہ بارہمولہ کے عین وسط میں مرکز دعوت کے لیے وقف کیا ۔ جو آج کل مرکز مسجد الرشاد کے نام سے کشمیر میں جانا پہچانا جاتا ہے ۔ آزمائش کی گھڑی میں یہ دل گردے کی بات تھی کہ خدا کےاس بندے نے نہایت ہی ایثار کیا جو ایک مثالی قربانی کہی جاسکتی ہے ۔ تبلیغ سے منسلک لوگوں نے اس کو قبول کیا اور مہجو صاحب کی کشش نے ایک دفعہ حضرت مولانا انعام الحسن صاحب کو بھی ان کے دولت خانہ پر کھینچ لایا اور انہی کے فرمان پر اس مرکز کا نام مسجد الرشاد رکھا گیا۔ اور یہ نام سبھوں کو پسند آیا اور اس کے متصل ہی قصبہ بارہمولہ کے ایک معروف محلہ میں جو دار العلوم بنا اس کا نام بھی سبیل الرشاد رکھا گیا۔ اور اس طرح یہ لفظ مدرسے پر بھی حاوی ہوگیا  اور مرکز پر بھی۔ سبیل الرشاد ایک قرآنی لفظ ہے جو سورہ غافر میں موجود ہے اور آیت اس طرح ہے 
وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ
ترجمہ
اور کہا اسی ایماندار نے اے قوم راہ چلو میری اور پہنچا دوں تم کو نیکی کی راہ پر
نیکی کی راہ کو مرد مومن نے موسی علیہ السلام  اور اس پر ایمان لانے والوں کے رستے کو کہا اور چونکہ دعوت میں بھی بھلائی کی طرف دعوت دی جاتی ہے لہذا نام اور کام میں مناسبت کے اعتبار سے حضرت جی نے اس کا نام مسجد الرشاد رکھا اور اس میں بے شمار صوبائی اور ریاستی مشورے منعقد کیے گیے اور تا حال کیے جارہے ہیں اور مشاورت کے لیے اسی مرکز کی طرف ریاست میں مقیم دعوتی لوگ پیار بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور اس طرح منشی اللہ دتا صاحب کی دعوت اور مہجو صاحب کی طلب نے ایک اچھا رنگ لایا ۔ خدا اس مرکز کوقیامت کی صبح تک آباد رکھے ۔ 
جہاں تک واقف کے ذاتی اوصاف کا تعلق ہے وہ سخاوت اور ایثار کا ایک مجسمہ تھے ۔ موصوف منشی صاحب کے ایک سچے پکے مرید بھی تھے اور اس وقت جتنے بھی اکابر مرکز نظام الدین میں مقیم تھے ان کی فردا فردا خدمت کرتے تھے اور عقیدتا انکی خدمت میں ہدیے پیش کرتے تھے اور آخر کار ساری سیاست چھوڑ کر صرف دعوت ہی کے ہوگئے تھے۔ دعوتی فکر رکھنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ ایسے قربانی کے مجسموں کو ہمیشہ اپنی نیک دعاؤں میں یاد رکھیں ۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک 
طینت را ۔

نوٹ اس مرکز کی دیگر شخصیات جنہوں نےحضرت امیر صاحب کے شانہ بہ شانہ اس مرکز کی آبیاری کی اور اپنی جانی و مالی قربانیوں سے اس وقت ایک صحیح دعوتی فضا قائم کی ان کا تذکرہ انشاء اللہ دوسری اقساط میں کیا جائے گا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کاتب (سالک بلال)

 


Views : 231

Leave a Comment