Latest Notifications : 
    داعی توحید نمبر

التصريح بما تواتر في نزول المسيح - ایک تعارف


  • ڈاکٹر شکیل شفائی
  • Monday 1st of January 2024 12:17:57 PM

 التصریح بما تواتر فی نزول المسیح  - ایک تعارف
( قسط 1)

تمہید 

کتابِ ہذا عالَمِ اسلام کے مایہ ناز فقیہ ' محدث ' ادیب' مصنف ' عربی کے بلند پایہ شاعر ' صوفی ' زاہد امام انور شاہ المسعودی الکشمیری رحمہ اللہ کی تصنیف ہے - اس پر تحقیق ' تخریج اور تعلیق کا کام عالَمِ عرب کے معروف ربانی عالِم ' محدث' ادیب شیخ عبد الفتاح ابوغدہ رحمہ اللہ نے انجام دیا ہے اور اس کو مفتی اعظم پاکستان اور امام انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے شاگردِ رشید مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے مرتب کیا ہے - میرے خیال میں کتاب کے استناد کےلئے اتنے بڑے علماء کی نسبت کافی ہے - کتاب عربی میں ہے لہذا اَولی تو یہی تھا کہ اس کا تعارف بھی عربی میں دیا جاتا لیکن اس سے میرے پیشِ نظر مقصود پورا نہیں ہوتا - اول تو ہمارے دیار میں عربی زبان سمجھنے والوں کی تعداد خاصی کم ہے - دوم یہ کہ عامۃ المسلمین کو کتاب کے نفسِ موضوع سے روشناس کرانے کے لیے اردو زبان کا انتخاب مناسب سمجھ میں آیا - اس سے یہ فائدہ بھی متوقع ہے کہ عوام کتاب سے اجمالاً متعارف ہوجائیں تو  اہلِ علم اس کے مضامین کو جستہ جستہ مقامی زبان میں لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں جس کی فی زماننا اشد ضرورت ہے - 
اس کتاب کا مرکزی موضوع سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارےمیں قرآن و حدیث میں وارد نصوص کا بیان ہے لیکن اس میں دیگر علاماتِ قیامت جیسے خروجِ دجّال ' یاجوج ماجوج ' دابّۃ الارض ' دخّان وغیرہ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے - 
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آخری زمانے میں نزول پر جہاں قرآن کریم میں واضح اشارات پائے جاتے ہیں وہیں پر اس بارےمیں اتنی کثرت سے احادیث وارد ہوئی ہیں کہ علماء نے ان احادیث کے نفسِ مضمون پر تواتر کا حکم لگایا ہے -
برصغیر میں جب قادیانی فتنہ نمودار ہوا جس کی پشت پناہی اُس زمانے میں برطانوی حکومت کررہی تھی (اور آج بھی کرتی ہے) تو مرزا قادیانی نے اپنے خسیس مقاصد کے حصول کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول کا انکار کردیا - قرآن کی آیات میں انہوں نے باطل تاویلات سے کام لے کر اپنے تئیں نفس کو مطمئن تو کرلیا لیکن احادیث میں یہ مسئلہ اتنے وضوح کے ساتھ وارد ہوا تھا کہ اس میں باطل اور رکیک تاویلات کی گنجائش نہ تھی لہٰذا قادیانیوں نے احادیث کی حجیت ہی کا انکار کردیا - اس کے بعد منکرینِ حدیث کا فرقہ ظاہر ہوگیا - اس نے انکارِ حدیث کی لَے کو مزید آگے بڑھایا - کتبِ حدیث کو بے اعتبار قرار دیا - فقہاء ومحدثین پر زبانِ طعن دراز کی - سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کی شان میں دل آزار اور گستاخانہ جملے کہے - علماء پر کیچڑ اچھالنے کی مذموم کوششیں کیں - ان مکروہ کاوشوں اور سازشوں سے مسلمانوں کا ایک طبقہ متاثر ہوگیا - اس میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنہوں نے مسیحی دانشگاہوں میں تعلیم حاصل کی تھی - قرآن ' حدیث ' فقہ ' اصولِ حدیث ' اصولِ شریعت ' اصولِ دین ' عقائد ' عربی زبان اور اس کے نحوی ' صرفی ' بلاغی امتیازات کا انہیں مبتدیانہ علم بھی حاصل نہیں تھا (اور نہ آج حاصل ہے) لہٰذا انہوں نے اپنی کچی فہم سے اہلِ باطل کی ان رکیک تاویلات اور مسلماتِ علم و معرفت سے انکار پر ایمان لایا پھر اس کی تبلیغ بھی شروع کردی - علمائے دین نے بروقت ان فاسد خیالات و نظریات کا سنجیدہ نوٹس لیا اور اس فتنے کو قلع قمع کرنے کے لیے ایک سے ایک مدلل و مفصل کتابوں کے ڈھیر لگا دیے اور منکرینِ حق کے مزعومہ دلائل کے تاروپود بکھیر دیے - انہی کتابوں میں امام انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی زیرِ تبصرہ کتاب بھی شامل ہے - چونکہ یہ باطل فرقے آج بھی موجود ہیں اور اپنے کچے علم ' ناقص فہم سلف بیزار مزاج ' باطل تاویلات ' فکری اضمحلال ' تقویٰ و خشیت سے عاری پن ' اصولِ دین سے عدمِ آگہی ' عقائد میں انحراف ' تقلیدِ فرنگ کے زیرِ اثر اپنے نظریات کی تبلیغ بھی کرتے رہتے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے قادیانی گمرہی اور انکارِ حدیث کی ضلالت کو اہل ایمان کے حلقوں میں پھیلانے کی بھی مذموم کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں لہذا اس کتاب کی اور اس موضوع پر لکھی گئیں دوسری کتابوں کی اشاعت ' ترویج ' تعارف اور تبلیغ وقت کا اہم تقاضا ہے -
                                     (جاری)

(شکیل شفائی)


Views : 168

Leave a Comment