Latest Notifications : 
    داعی توحید نمبر

مولانا بٹھوی مرحوم کی تفسیر القرآن الکریم پر ایک نظر


  • ڈاکٹر شکیل شفائی
  • Friday 15th of September 2023 02:05:50 PM

مولانا بٹھوی مرحوم کی " تفسیر القرآن الکریم " پر ایک نظر

قسط (2) 

 انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے لفظی ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ حتی الامکان آیت کے ہر لفظ کا ترجمہ آئے نیز اسے اردو محاورے کے مطابق بنانے کی کوشش بھی کی ہے- مولانا نے ترجمہ کرنے میں جو طریقہ اختیار کیا ہے اس کے بارے میں لکھتے ہیں:

" عربی زبان میں کچھ اوزان معنیٰ میں مبالغہ کے لیے وضع کیے گئے ہیں مثلاً قادر اور قدیر ' عالِم اور علیم کے معنیٰ میں فرق ہے مگر اکثر تراجم میں قدیر کا معنیٰ قادر یا قدرت رکھنے والا اور علیم کا معنیٰ جاننے والا یا واقف کیا گیا ہے جبکہ قدیر کا معنیٰ پوری طرح قادر یا خوب قدرت رکھنے والا اور علیم کا معنیٰ خوب جاننے والا یا پوری طرح واقف ہونا چاہیے- بعض حضرات نے کچھ الفاظ کے ترجمے میں اس کا خیال رکھا ہے اور کچھ میں نہیں رکھا- بعض نے ایک لفظ کے ترجمے میں ایک جگہ یہ بات ملحوظ رکھی ہے اور دوسرے مقامات پر نہیں رکھی- میں نے رحمٰن' رحیم' علیم' حکیم' عزیز' عفو' غفور' تواب اور دوسرے تمام الفاظ میں' جہاں بھی وہ آئے ہیں' اسی بات کا خیال رکھا ہے " ص 7

اس طرح کی توضیحات انہوں نے حروفِ تاکید' تنوین' مفعول مطلق' مِن ' اِذا ما' اِمَّا ' اِن زائدہ' باء زائدہ' الف لام' حصر' تخصیص' الفاظ کے زائد حروف میں پیش کی ہیں جو لائقِ استفادہ ہیں - ان حروف کی موجودگی ترجمے پر خاصا اثر ڈالتی ہے- اس سے آگے بڑھ کر مولانا مرحوم نے صیغے کے مطابق مگر آسان اردو ترجمہ کرنے نیز لام امر '  کان  اور نفی کے ساتھ کان کے ترجمے کے بارے میں وضاحتیں پیش کی ہیں- 
اس کے بعد مقدمہ تفسیر میں اپنے تفسیری منہج پر گفتگو کی ہے- وہ جمہور کی طرح اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن کی تفسیر اولاً قرآن ہی سے کی جانی چاہیے ' اس کے بعد صحیح حدیث سے' پھر صحابہ کرام اور تابعین ِ عظام کے اقوال سے - پھر وہ عام مفسرین کی تفاسیر سے استفادہ کو بھی اہم سمجھتے ہیں- تفسیر ابن جریر اور ابن کثیر کے علاوہ انہوں نے زمخشری' رازی' ابوحیان' بقاعی' ابن عادل' ابن عاشور ' آلوسی اور قاسمی کی تفاسیر کو مختلف نوعیتوں میں شاندار قرار دیا ہے-
مولانا حد سے زیادہ ضعیف اور موضوع روایات سے قرآن کی تفسیر کرنے کو صحیح نہیں سمجھتے اسی طرح وہ بدعتی فِرقوں باطنیہ' معتزلہ' خوارج' روافض' جہمیہ' قدریہ وغیرہ سے تعلق رکھنے والی تفاسیر کو بھی رد کرتے ہیں اور ساتھ ہی دورِ جدید کے متجدد اور عقل پرست مصنفین کی تفسیر سے بھی گریز کرتے ہیں- انہوں نے اسرائیلیات کے بارے میں بھی اپنا موقف ظاہر کیا ہے جو تقریباً وہی ہے جو مشہور حنفی عالِم مولانا نظام الدین اسیر ادروی نے اپنی کتاب " تفسیروں میں اسرائیلیات" میں پیش کیا ہے جس پر پروفیسر ابوسفیان اصلاحی نے ایک وقیع مقالہ لکھا ہے جو سہ ماہی تحقیقاتِ اسلامی (علیگڑھ) کے شمارہ اپریل- جون 2023  میں شائع ہوچکا ہے- مولانا نے جدید مفسرین اور آثارِ قدیمہ سے قرآن کی تفسیر کرنے کے بارے میں بھی اپنے موقف کی وضاحت کی ہے- 

منہجِ تفسیر:  
اولاً سورہ کا نام تحریر فرماتے ہیں- اگر سورہ کا نام کسی حدیث میں وارد ہوا ہو تو اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں- پھر سورہ کے فضائل بیان کرتے ہیں - فضائل میں وارد احادیث کو نقل کرتے ہیں پھر ان فضائل سے حاصل شدہ فوائد کو نقطہ وار پیش کرتے ہیں - اس سلسلے میں اکابر علماء کی تحقیقات بھی پیش کرتے ہیں اور اپنے غور و فکر کے نتائج کو بھی نقل کرتے ہیں- پھر وہ اصل تفسیر کی طرف آتے ہیں- سورہ فاتحہ کی تفسیر میں نہایت خوبصورت عالمانہ نِکات بیان کیے ہیں- صرف دو جگہ' میری حقیر رائے میں' وضاحت کی ضرورت پڑتی ہے- 
* عبادہ بن صامت(ض) کی روایت  " لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب " سے انہوں نے استنباط کیا ہے کہ جو نماز فاتحہ کے بغیر ہو وہ نماز ہی نہیں - اس بات میں اور احناف کے موقف میں اصلاً کوئی تعارض نہیں- احناف بھی نفسِ فاتحہ کو واجب قرار دیتے ہیں اور عمداً ترکِ فاتحہ پر اعادہِ نماز کا حکم لگاتے ہیں - البتہ احناف مقتدی پر فاتحہ کی قرأت کی بجائے اِنصات کو ترجیح دیتے ہیں- اس میں احناف منفرد نہیں اور بھی ائمہ ان کے ہم خیال ہیں اور ان کے اپنے دلائل ہیں- 
* دوسری بات انہوں نے یہ لکھی ہے کہ بعض لوگ زندہ یا فوت شدہ لوگوں کے نام کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ فلاں کے وسیلے سے' یا واسطے سے' یا بحرمتِ فلاں میری دعا قبول فرما- یہ بدعت ہے اور قرآن و سنت سے کہیں ثابت نہیں - انتہیٰ کلامہ
بعض لوگوں نے اس عمل کو شرک کہا ہے لیکن یہ اُن کا تشدد ہے- یہ عمل ہر گز شرک نہیں- عدم جواز کے قائلین عموماً اسے بدعت کہتے ہیں جیسا کہ خود مولانا عبدالسلام مرحوم نے بھی اسے بدعت کہا ہے- البتہ وہ صفات الہی یا خود اپنے اعمال سے توسل کو جائز کہتے ہیں- شیخ محمد بن عبدالوہاب بھی اسی کے قائل ہیں جیسا کہ ڈاکٹر ابوالفتح بیانوی نے اپنی کتاب " مباحث فی الاختلافات العلمیہ " میں شیخ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہر چند وہ زندہ یا فوت شدہ بزرگوں کے توسل سے دعا کرنے کو جائز نہیں کہتے تاہم وہ اس کے قائلین کو اہلِ سنت سے خارج قرار نہیں دیتے وہ اس مسئلے اور ان جیسے دوسرے مسائل کو عقیدے کی فروعات میں شمار کرتے ہیں- 
لیکن اس کے باوجود میں کہتا ہوں کہ اکابر علماء کی اکثریت وسیلے کی اس قسم کی قائل ہے - اس باب میں ان کے اپنے دلائل ہیں جن کی تفصیل کا یہ موقعہ نہیں-

(جاری) 

 


Views : 1380

Syed Nasrullah Andrabi

Jazakallah, good content

2023-09-15 19:51:41


Leave a Comment