حضرت مولانا عبد الکبیر مسعودی شتلوہیؒ
المعروف بہ عبد الکبیر ثانی
"ایک جید فاضلِ دیوبند، شاگردِ رشیدِ شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور ناشرِ رسالۂ تحلیل الذبائح"
علم و فضل کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی علمی خدمات اگرچہ اپنے عہد میں نمایاں مقام رکھتی ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کے حالات و واقعات پردۂ خفا میں چلے جاتے ہیں۔ ان اہلِ علم کے تذکرے کو محفوظ کرنا محض ماضی کی یاد تازہ کرنا نہیں، بلکہ علمی و دینی روایت کی حفاظت اور آئندہ نسلوں تک اس کے انتقال کی ایک اہم صورت ہے۔ حضرت مولانا عبد الکبیر مسعودی شتلوہی ابن عبد العزیررحمہ اللہ المعروف بہ عبد الکبیر ثانی، بھی ایسی ہی ایک علمی شخصیت تھے، جن کا تعلق شمالی کشمیر کےایک دور دراز گاؤں شتلوہ رفیع آباد سے تھا ۔
آپ ایک جید فاضلِ دیوبند تھے ۔اپ نے دار العلوم دیوبند سے سند فراغت شعبان 1365 ھجری بمطابق جولائی 1946 سنہ عیسوی میں حاصل کی۔یہاں دارالعلوم میں حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کی شاگردِی کا شرف بھی حاصل رہا۔ آپ کی سند فضیلت پر مولانا فخر الدین احمد مراد آبادی رحمہ اللہ جو علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے شاگرد عزیز تھے کا دستخط ثبت ہے۔ اگر چہ اس زمانے میں مولانا حسین احمد مدنیؒ دار العلوم دیوبند کے صدر مدرس اور شیخ الحدیث تھے۔ اسی سال (1365ھ/1946ء) مولانا فخر الدین احمد نے بھی کچھ عرصہ دار العلوم دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دی۔
الغرض مولانا عبد الکبیر مسعودی رحمہ اللہ نے اپنے عہد کے ممتاز علمی ادارے سے نسبت حاصل کی اور پھر کشمیر میں دینی علوم کی روایت سے وابستہ رہے۔ آپ کا شمار ان اہلِ علم میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے علمی ذوق اور دینی وابستگی کے ذریعے اسلاف کے علمی ورثے کو محفوظ رکھنے میں حصہ لیا۔
آپ کی ایک اہم علمی خدمت یہ ہے کہ آپ نے حضرت امام العصر علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری محدثؒ کے رسالے تحلیل الذبائح کو شائع کیا۔ یہ نسبت آپ کی علمی دلچسپی اور اکابرِ علماء کی تصانیف کی اشاعت سے وابستگی کی نشان دہی کرتی ہے۔ اس خدمت کی اہمیت اس اعتبار سے بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہ کشمیر کے خاص حالات کے تناظر میں لکھی گئی حضرت شاہ صاحب کی بہت ہی اہم تصنیف ہے شمار کی جاتی ہے ۔
آپ کے لائق فرزند ارجمند محترم پیر ریاض الدین مسعودی صاحب نے مجھے انٹرویو میں کہا کہ میرے چاچا جان فرماتے تھے کہ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ ہمارے پھپھیرے بھائی تھے ۔ اسی خاندانی تعلق کی نسبت سے حضرت انور شاہ صاحب نے ان کواس وقت جب وہ لاہور سے فارغ ہوئے تھے دیوبند سے لکھا تھا کہ تکمیل کے بعد واپس گھر لوٹنے کے بجائے یہاں چند سال کے لیے آجاؤ تاکہ مزید علوم کی تحصیل کے ساتھ ساتھ بڑے علماء سے نسبت بھی قائم ہو جائے۔ اس طرح حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی ترغیب پر انہوں نے گھر لوٹنے کے بجائے دیوبند جانے کو ہی ترجیح دی ۔ یہاں دیوبند میں رہ کر حسین احمد مدنی رحمہ اللہ جیسے کبار شیوخ سے علمی استفادہ کر کے علامہ انور شاہ صاحب کے ہمراہ ایک سفر میں واپس کشمیر لوٹے ۔اس سفر میں انور شاہ صاحب رحمہ نے ان کے دولت خانہ جو شتلوہ رفیع آباد میں واقع ہے میں قیام کیا اور پھر یہاں سے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے ۔ اس کے بعد انور شاہ صاحب نے ایک خاص مدت تک گھر میں قیام کیا اور پھر واپس دیوبند لوٹے ۔ علامہ چاہتے تھے کہ آپ بھی دیوبند ہی میں قیام کریں، تاہم مولانا عبد الکبیر صاحب نے کشمیر میں رہنا پسند فرمایا۔ جب آپ کی فراغت کا علم جناب شیخ محمد عبد اللہ کو ہوا تو انہوں نے ان کو پیغام بھیجا کہ سرینگر آکر یہاں کے معروف دینی مدرسہ "مدینہ العلوم" میں تدریسی خدمات انجام دیں ۔ یاد رہے اس وقت مدینہ العلوم کے پرنسپل آپ کے ہمنام عا لم ربانی علامہ عبد الکبیر رینہ رحمہ اللہ مصنف " کشف الغطا ء عن مسئلہ شیأ اللہ" تھے ۔مولانا شوکت حسین کینگ صاحب فرماتے ہیں کہ ہم نے سنا ہے کہ جب کوئی مسئلہ قضا وغیرہ کا مدرسہ میں آتا تھا تو حضرت علامہ عبد الکبیر رینہ علیہ الرحمہ پرنسپل مدرسہ ھذا ان کو آپ یعنی مولانا عبد الکبیر مسعودی شتلوہی علیہ الرحمہ کے پاس بھیجتے اور مولانا اس کا شرعی تصفیہ فرماتے ۔ یہ بات اس چیز پر دال ہے کہ مولانا بڑے پایہ کی فقہی صلاحیت کے حامل عالم دین تھے ۔ آپ کے فرزند ارجمند سے گفتگو کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ آپ نے ایک رسالہ جمعہ کی مشروعیت جس میں "مصر اور غیر مصر" کے حوالے سے طویل علمی بحث قلمبند کی گئی تھی لکھا تھا ۔ آپ کے فرزند ارجمند کے ذاتی ریکارڈ میں وہ موجود تھا ۔اس کا حجم بقول آپ کے فرزند 10 سے 15 صفحات پر مشتمل تھا ۔ لیکن بعد میں ایک مقامی مدرسے کے منتظم نے اس کو مانگ کر لیا ۔ تاہم وہ عدم توجہی کی وجہ سے تلف ہوا ۔ اسی طرح مولانا کے ایک اور نسبتی فرزند محترم محمد مبارک شاہ مخدومی ولد حبیب اللہ شاہ ساکنہ کنڈی خاص ہندوارہ حال مقیم محلہ خواجہ صاحب بارہمولہ نے ان کا ذاتی کتب خانہ ایک مقامی مدرسے کو اس کے منتظم کے کہنے پر وقف کیا۔ ان کتابوں کو بھی حضرت کے ذاتی نام کے ساتھ کسی خاص الماری میں جیسا کہ جامعات کا اصول ہوتا ہے محفوظ نہیں کیا گیا ہے ۔ ان کتابوں اور اس خاص رسالے کو ڈھونڈ کر نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ حضرت کی علمی زندگی کے گوشے سامنے آسکیں ۔
بہر حال علمی دنیا میں آپ کے تذکرے میں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ آپ کو ایک ہم نام شخصیت، حضرت مولانا عبد الکبیر رینہ علیہ الرحمہ ، سے خلط ملط نہ کیا جائے۔ دونوں الگ شخصیات ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق آپ کی وفات، حضرت مولانا عبد الکبیر رینہؒ سے چند سال قبل ہوئی۔
آپ کی تاریخِ وفات 24 ذی الحجہ 1388ھ، مطابق 13 مارچ 1969ء ہے۔ آپ کا مدفن مقبرۂ مسعودیان، شتلوہ، شمالی کشمیر میں ہے۔
نامِ نیکِ رفتگاں ضائع مکن
تا بماند نامِ نیکت پائدار
(نوٹ)
اس مقالے کو تحریر کرنے میں جن بزرگوں نے معلومات فراہم کیں اور خصوصی شکریہ کے حق دار ہیں ،ان میں سر فہرست قبلہ حضرت مولانا شوکت حسین کینگ صاحب علمی جانشین حضرت علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاری رحمہ اللہ اورمحترم پیر ریاض الدین مسعودی ابن مولانا عبد الکبیر مسعودی شتلوہی رح ہیں ۔ میرے فرزند ارجمند سالک بلال احمد بھی جنہوں نے ترتیب دینے میں میری ممکنہ مدد کی ۔ اللہ تعالی تمام احباب کو جزائے خیر سے نوازے آمین ۔