"صحبت با اہل علم "
حضرت مولانا سید محمد امین بدخشی رحمہ اللہ
تحریر : آسی غلام نبی دامت فیوضھم
کتابت :سالک بلال
حضرت مولاناسید محمد امین بدخشی رحمہ اللہ شہر سرینگر کے نور باغ علاقےکے رہنے والے تھے ۔ آپ نومبر 1912 عیسوی میں پیدا ہوئے ۔آپ نے دینی علوم کے لیے کشمیر کے بعد امرتسر کا رخ کیا کیونکہ اس زمانے میں امرتسر علم و ادب کا ایک بہت بڑا گہوارہ تھا ۔ یہاں موصوف نے دینی علوم مختلف اساتذہ سے حاصل کیے ۔ یہیں پر حضرت مولانا عبد الکبیر رینہ کشمیری علیہ الرحمہ سے بھی درسا پڑھا۔ اس طرح مولانا سید محمد آمین بدخشی علیہ الرحمہ مولانا عبد الکبیر صاحب علیہ الرحمہ کے براہ راست شاگرد تھے ۔یہاں سے فراغت کے بعد مزید علوم کی تحصیل کےلیے سہارنپور یوپی کا سفر کیا اور وہاں وقت کے بڑے شیوخ سے استفادہ کیا ۔دینی علوم سے فراغت کے بعد سلوک میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ کی طرف رجوع کیا ۔ ان سے بیعت ہوئے اور بعد میں حکیم الامت کے خلیفہ اور مجاز حضرت مولانا محمد حسن امرتسری علیہ الرحمہ سے سلوک میں تکمیل کا شرف حاصل کیا ۔ مولانا محمد حسن امرتسری میر واعظ کشمیر حضرت مولانا محمد یوسف شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے بھی مرشد تھے ۔
اس کے بعد واپس کشمیر لوٹے اور یہاں دینی مہمات میں اپنے آپ کو مشغول رکھا ۔ مفسر قرآن حضرت مولانا سید محمد قاسم شاہ صاحب بخاری علیہ الرحمہ سے برکت کے لیے ترمذی شریف درسا پڑھی۔ کیونکہ ان کے ساتھ مولانا کو کافی عقیدت تھی ۔ اسی زمانے میں اسلامیہ ہائی اسکول سرینگر میں بحیثیت استاد تعینات ہوئے اور کافی برسوں تک یہاں درسی خدمات انجام دیں ،اور ساتھ ہی ساتھ مجلس تحفظ ختم نبوت کے لیے بھی کام کرتے رہے۔ چونکہ ذکر و فکرمیں مشغول رہنا فطرتا اللہ تعالی کی طرف سے ودعیت ہو چکا تھا لہذا اوراد شریف یعنی اوراد فتحیہ کی اجازت حضرت مولانا محمد حسین وفائی علیہ الرحمہ سے حاصل کی ۔ مولانا وفائی صاحب کشمیر کے جید علماء میں شمار ہوتے تھے ۔ مولانا موصوف یعنی مولانا حسین وفائی رح میر واعظ کشمیر حضرت مولانا محمد یوسف شاہ صاحب علیہ الرحمہ اورحضرت مولانا نور الدین ترالی علیہ الرحمہ کے بھی استاد تھے ۔مولانا وفائی صاحب علیہ الرحمہ کی علمی شان کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ ان کی خط و کتابت امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری علیہ الرحمہ کے ساتھ رہی ہے ۔ ان خطوط میں سے ایک خط الانور میں بھی شائع ہو چکا ہے ۔
حضرت مولانا سیدمحمد امین بدخشی صاحب علیہ الرحمہ چونکہ دین کے ایک مخلص داعی تھے لہذا وہ دینی تحریکات میں رضاکارانہ انداز سے حصہ لیتے تھے ۔ جب میر واعظ کشمیر حضرت مولانا محمد یوسف شاہ صاحب علیہ الرحمہ اور حضرت مولانا مفتی محمد قوام الدین صاحب علیہ الرحمہ(مفتی اعظم ریاست) نے جمعیت علماء جموں و کشمیر کو قائم کیا، توحضرت مولاناسید محمد امین بدخشی صاحب علیہ الرحمہ بھی اس کے فعال کارکن بنے اور اس کے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ۔ بعد میں یہ تحریک عدم توجہی کی وجہ سے گوشہ گمنامی میں چلی گئی ۔ پھر اس تحریک کو از سر نو جلا بخشنے والے احباب میں حضرت مولانا مفتی عبد الغنی ازہری علیہ الرحمہ اور آپ یعنی حضرت مولانا سید محمد امین بدخشی علیہ الرحمہ کا نام سر فہرست تھا ۔ اس تحریک میں حضرت مولانا شوکت حسین کیکنگ صاحب (علمی جانشین حضرت مولانا محمد قاسم شاہ بخاری علیہ الرحمہ ) بھی ان کے رفیق رہے ہیں ۔
چونکہ آپ علیہ الرحمہ فکری اعتبار سے میر واعظ خاندان کے ساتھ وابسطہ تھے ، لہذا آپ نے برس ہا برس تک سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیے ۔ جس طرح تبلیغی جماعت اپنی دعوتی محنت کو اجتماعی طریقے سے جماعتوں کی شکل میں انجام دیتی ہے، موصوف اس زمانے میں انفرادی طور پر اسی طرز پر دعوتی کام انجام دیتے تھے ۔ سرینگر سے تنہا آکر اوڑی جیسے دور افتادہ علاقے میں جاکر کر دعوت کا فریضہ انجام دیتے تھے ۔موصوف شریعت مطہرہ کے زبردست پابند تھے اور اسلامی وضع و قطع کے زبردست حامی ۔ آپ اپنے اندر زبردست دینی رکھتے تھے لہذا آپ دل سے یہ چاہتے تھے کہ مسلمانان کشمیر بیدار ہو جائیں اور شریعت مطہرہ کو اپنا نصب العین بنایں۔ چونکہ آپ کا روحانی تعلق حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ کے ساتھ تھا لہذا آپ بدعات کے زبردست مخالف تھے اور ان علماء کے ساتھ آپ کا تعلق تھا جو انہی اوصاف کے مالک تھے ۔
بارہمولہ میں آپکا تعلق حضرت مولانا عبد الولی شاہ علیہ الرحمہ (خلیفہ و مجاز حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رح) کے ساتھ تھا اور علاقہ نارواو میں آپکا تعلق علاقہ کے ایک معروف دینی بزرگ حضرت مولانا محمد یوسف شاہ صاحب (رح) کے ساتھ تھا ۔ آپ جب بھی اوڑی سے دعوتی مہم سے واپس لوٹتے تھے تو اکثر کچہامہ میں حضرت مولانا محمد یوسف شاہ صاحب کے پاس اور فتحگڈھ میں اس ناچیز (یعنی آسی غلام نبی) کےیہاں قیام فرماتے تھے ۔ آپ ذکر و فکر ،اوراد و اذکار کے بہت پابند تھے اور جہان پر محسوس کرتے تھے کہ کوئی دینی ضرورت ہے تو از خود وہاں پر جاکر اس ضرورت کو پورا کرنے کی انتہائی کوشش فرماتے تھے ۔ آپ نے جب سنا کہ اوڑی کے اندر اہل تشیع ایک تحریک کے انداز میں اپنے مسلک کی ترویج کر رہے ہیں۔ تو آپ تن تنہا سرینگر سے آکر اس دور افتادہ پہاڑی علاقہ میں اہل سنت والجماعت کے مسلک کی ترجمانی فرماتے رہے ۔
آپ ایک رضا کار مزاج کے مالک انسان تھے اور دین فروشی کے سخت مخالف تھے ۔ آپکا مزاج توحیدی تھا اور حق بات کہنے میں کبھی کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے تھے ۔آپ ہمیشہ اہل حق کا ساتھ دیتے تھے اور حق گوئی میں کسی کا کوئی پاس و لحاظ نہیں کرتے تھے ۔ زمانہ اب ایسے بے لوث بزرگوں کو شاید نہ دیکھے کیونکہ یہ ایسے حضرات تھے جو عمل و یقین کا مجسمہ تھے ۔ اور دین کی سربلندی کے لیے ہر چیز داؤ پر لگانے کے لیے کمر بستہ رہتے تھے ۔گویا میر واعظ خاندان نے جو دینی خدمات سرینگر اور ملحقات میں وقتا فوقتاً انجام دی ہیں آپ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھے ۔
آپکا معمول تھا کہ سال میں ایک مرتبہ دیوبند ،سہارنپور وغیرہ علمی آماجگاہو ں کا دور کرتے ۔ وہاں وقت بڑے بڑے علماء کے یہاں مہمان بن قیام فرماتے اور وہ بھی ان کا بڑا احترام کرتے۔ اور دین کا ایسا قوی جذبہ رکھتے تھے کہ آپ کا بڑھاپا کبھی دین کی ترقی کے امور میں مانع نہ بنا ۔ وفات سے چند سال پہلے آپ کو حج بیت اللہ بھی نصیب ہوا ۔بالآخر آپ 2005 عیسوی میں اس دارفانی سے رخصت ہوئے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کی ضخیم لائبریری آپ کے وارثین نے دار العلوم قاسمیہ لال بازار سرینگر کو وقف کی ۔
اللہ تعالی موصوف کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ان کی اولاد و احفاد کو انکا صحیح جانشین بنائیں ۔
نوٹ
اس مقالے کو ترتیب دینے میں احقر (آسی غلام نبی وانی )نے مولانا شوکت حسین کینگ صاحب صاحب سے بھی معلومات حاصل کیں۔ کیونکہ مولانا شوکت حسین کینگ صاحب دامت فیوضھم مولانا سید محمد امین بدخشی سے واقف ہی نہیں بلکہ ان کے رفیق بھی رہے ہیں ۔