مولانا محمد امین بدخشی رحمہ اللہ

آسی غلام نبی وانی بانی و سرپرست ماہنامہ راہ نجات بارہمولہ
Monday 12th of October 2026 04:05:14 PM


"صحبت با اہل علم "

حضرت مولانا محمد امین بدخشی رحمہ اللہ

تحریر : آسی غلام نبی دامت فیوضھم

کتابت :سالک بلال

حضرت مولانا محمد امین بدخشی رحمہ اللہ شہر سرینگر کے نور باغ علاقےکے رہنے والے تھے ۔ آپ نومبر 1912 عیسوی میں پیدا ہوئے ۔آپ نے دینی علوم کے لیے کشمیر کے بعد امرتسر کا رخ کیا کیونکہ اس زمانے میں امرتسر علم و ادب کا ایک بہت بڑا گہوارہ تھا ۔ یہاں موصوف نے دینی علوم مختلف اساتذہ سے حاصل کیے ۔ یہیں پر حضرت مولانا عبد الکبیر رعنا کشمیری علیہ الرحمہ سے بھی درسا پڑھا۔ اس طرح مولانا بدخشی مولانا عبد الکبیر صاحب کے براہ راست شاگرد تھے ۔ اس کے بعد سہارنپور یوپی کا رخت سفر کیا اور وہاں وقت کے بڑے شیوخ سے علمی استفادہ کیا ۔دینی علوم سے فراغت کے بعد سلوک میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ کی طرف رجوع کیا ۔ ان سے بیعت ہوئے اور بعد میں حکیم الامت کے خلیفہ اول اور مجاز حضرت مولانا محمد حسن امرتسری علیہ الرحمہ سے سلوک میں تکمیل کا شرف حاصل کیا ۔ مولانا محمد حسن امرتسری میر واعظ کشمیر حضرت محمد یوسف شاہ صاحب کے بھی مرشد تھے ۔

اس کے بعد واپس کشمیر لوٹے اور یہاں دینی مہمات میں اپنے آپ کو مشغول رکھا ۔مولانا بخاری علیہ الرحمہ سے برکت کے لیے ترمذی شریف درسا پڑھی۔ کیونکہ ان کے ساتھ مولانا کو کافی عقیدت تھی ۔ اسی زمانے میں اسلامیہ کالج میں بحیثیت استاد تعینات ہوئے اور کافی برسوں تک یہاں درسی خدمات انجام دی۔ اور ساتھ ہی ساتھ مجلس تحفظ ختم نبوت کے لیے بھی کام کرتے رہے۔ چونکہ ذکر و فکرمیں مشغول رہنا فطرتا اللہ تعالی کی طرف سے ودعیت ہو چکا تھا لہذا آوراد شریف کی اجازت حضرت مولانا محمد حسین وفائی علیہ الرحمہ سے حاصل کی ۔ مولانا وفائی صاحب کشمیر کے جید علماء میں شمار ہوتے تھے ۔ مولانا موصوف یعنی مولانا حسین وفائی رح مولانا محمد یوسف شاہ صاحب علیہ الرحمہ اور نور الدین ترالی علیہ الرحمہ کے بھی استاد تھے ۔مولانا وفائی صاحب کی علمی شان کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ ان کی خط و کتابت علامہ انور شاہ کشمیری علیہ الرحمہ کے ساتھ رہی ہے ۔ ان خطوط میں سے ایک خط الانور میں بھی شائع ہو چکا ہے ۔

مولانا بدخشی صاحب چونکہ دین کے ایک مخلص داعی تھے لہذا وہ دینی تحریکات میں رضاکارانہ انداز سے حصہ لیتے تھے ۔ جب میر واعظ کشمیر حضرت مولانا یوسف شاہ صاحب علیہ الرحمہ اور مولانا قوام الدین علیہ الرحمہ نے جمعیت علماء جموں و کشمیر کو قائم کیا، تو مولانا بدخشی صاحب علیہ الرحمہ بھی اس کے فعال کارکن بنے اور اس کے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ۔ بعد میں یہ تحریک عدم توجہی کی وجہ سے گوشہ گمنامی میں چلی گئی ۔ پھر اس تحریک کو از سر نو جلا بخشنے والے احباب میں مولانا ازہری علیہ الرحمہ اور آپ یعنی مولانا محمد امین بدخشی علیہ الرحمہ کا نام سر فہرست تھا ۔ اس تحریک میں حضرت مولانا شوکت حسین کیکنگ صاحب بھی ان کے رفیق رہے ہیں ۔

چونکہ آپ علیہ الرحمہ فکری اعتبار سے میر واعظ خاندان کے ساتھ وابسطہ تھے ، لہذا آپ نے برس ہا برس تک سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیے ۔ جس طرح تبلیغی جماعت اپنی دعوتی محنت کو اجتماعی طریقے سے جماعتوں کی شکل میں انجام دیتی ہے، موصوف اس زمانے میں انفرادی طور پر اسی طرز پر دعوتی کام انجام دیتے تھے ۔ سرینگر سے تنہا آکر اوڑی جیسے دور افتادہ علاقے میں جاکر کر دعوت کا فریضہ انجام دیتے تھے ۔موصوف شریعت مطہرہ کے زبردست پابند تھے اور اسلامی وضع و قطع کے زبردست حامی ۔ آپ کے اندر ایک زبردست دینی جذبہ قائم تھا اور آپ دل سے یہ چاہتے تھے کہ مسلمانان کشمیر بیدار ہو جائیں اور شریعت مطہرہ کے کو اپنا نصب العین بنایں۔ چونکہ آپ کا روحانی تعلق حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ کے ساتھ تھا لہذا آپ بدعات کے زبردست مخالف تھے اور ان علماء کے ساتھ آپ کا تعلق تھا جو انہی اوصاف کے مالک تھے ۔

بارہمولہ میں آپکا تعلق مولانا عبد الولی شاہ علیہ الرحمہ کے ساتھ تھا اور علاؤہ نارواو میں آپکا تعلق یہاں کے ایک معروف دینی بزرگ مولانا محمد یوسف شاہ صاحب کے ساتھ تھا ۔ اوڑی سے واپس آنے کے بعد آپ اکثر کچہامہ میں مولوی یوسف شاہ صاحب کے پاس اور فتحگڈھ میں اس ناچیز کےیہاں قیام فرماتے تھے ۔ آپ ذکر و فکر ،اوراد و اذکار کے بہت پابند تھے اور جہان پر محسوس کرتے تھے کہ کوئی دینی ضرورت ہے تو از خود وہاں پر جاکر اس ضرورت کو پورا کرنے کی انتہائی کوشش فرماتے تھے ۔ آپ نے جب سنا کہ اوڑی کے اندر اہل تشیع ایک تحریک کے انداز میں اپنے مسلک کی ترویج کر رہے ہیں۔ تو آپ تن تنہا جاکر وہاں پر اہل سنت والجماعت کے مسلک کی ترجمانی فرماتے رہے ۔

آپ ایک رضا کار مزاج کے مالک انسان تھے اور دین فروشی کے سخت مخالف تھے ۔ آپکا مزاج توحیدی تھا اور حق بات کہنے میں کبھی کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے تھے ۔آپ ہمیشہ اہل حق کا ساتھ دیتے تھے اور حق گوئی میں کسی کا کوئی پاس و لحاظ نہیں کرتے تھے ۔ زمانہ اب ایسے بے لوث بزرگوں کو شاید نہ دیکھے کیونکہ یہ ایسے حضرات تھے جو عمل و یقین کا مجسمہ تھے ۔ اور دین کی سربلندی کے لیے ہر چیز داؤ پر لگانے کے لیے کمر بستہ رہتے تھے ۔گویا میر واعظ خاندان نے جو دینی خدمات سرینگر اور ملحقات میں وقتا فوقتاً انجام دی ہیں آپ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھے ۔ اور دین کا ایسا قوی جذبہ رکھتے تھے کہ آپ کا بڑھاپا کبھی دین کی ترقی کے امور میں مانع نہ بنا ۔ بالآخر آپ 2005 عیسوی میں اس دارفانی سے رخصت ہوئے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کی ضخیم لائبریری آپ کے وارثین نے دار العلوم قاسمیہ لال بازار سرینگر کو وقف کی ۔

اللہ تعالی موصوف کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے اولاد و احفاد کو ان کا صحیح جانشین بنائیں ۔