آہ مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی رحمہ اللہ نہ رہے

سالک بلال
Saturday 10th of October 2026 09:54:27 AM


آہ تحریک ندوۃ العلماء کے ایک اور پاسبان حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی رحمہ اللہ نہ رہے !

 

سالک بلال احمد 

(نائب سرپرست ماہنامہ راہ نجات بارہمولہ )

 

یہ خبر سن کر نہایت دکھ اور افسوس ہوا کہ دار العلوم ندوة ۃ العلماء کے مہتم حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی اس دار فانی سے رخصت کر گئے ۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے مفر نہیں ۔ اللہ تعالی ہرایک انسان کو اس دنیا میں ایک مختصر وقت کے لیے بھیجتا ہے اور پھر امتحان لے کر اس کو واپس بلاتا ہے، تاکہ اس کو ان لوگوں سے علاحدہ کرے جو اس دنیاوی زندگی کو "بابر بہ عیش کوش عالم دوبارہ نیست " کے تصور کے تحت گذارتے ہیں ۔ کچھ لوگ اس دنیا میں زندگی آخرت کے تصور کے تحت گذارتے ہیں ۔اور اپنی زندگی کے ہر ہر لمحہ کا حساب رکھتے ہیں اور بزبان حال کہتے ہیں کہ ہم اس دنیا میں حادثاتی طور پر نہیں آئے ہیں بلکہ اللہ تعالی کے تخلیقی منصوبے کی شاہکار مخلوق کی حیثیت سے اس دنیا میں اس کی معرفت حاصل کرنے کے لیے مبعوث کیے گیے ہیں۔لہذا اللہ تعالی کی معرفت حاصل کرنے کے لیے اپنی پوری زندگی علم الہی کے حصول کے لیے وقف کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کی معرفت سب سے زیادہ علماء کو حاصل ہوتی ہے ۔ اس پر" انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء" دال ہے ۔ اسی قسم کے قدسی نفوس پوری عالم انسانیت کےلیے رحمت ہوتے ہیں ۔ ان کا نکلنا ان لوگوں کے لیے ایک بڑا سانحہ ہوتا ہے جوفطرتا ان ہی کی جنس سے ہوتے ہیں ۔اسی تناظر میں 

حضرت ابو الدرداءؓ سے یہ الفاظ منقول ہیں کہ 

"مَوْتُ الْعَالِمِ مُصِيبَةٌ لَا تُجْبَرُ، وَثُلْمَةٌ لَا تُسَدُّ، وَهُوَ نَجْمٌ طُمِسَ، وَمَوْتُ قَبِيلَةٍ أَيْسَرُ مِنْ مَوْتِ عَالِمٍ"

ترجمہ:عالم کی موت ایسی مصیبت ہے جس کی تلافی نہیں ہو سکتی، ایسا شگاف ہے جو پُر نہیں ہوتا، وہ ایک بجھا ہوا ستارہ ہے، اور ایک قبیلے کی موت عالم کی موت سے زیادہ آسان ہے۔ اسی طرح حضرت حسن بصریؒ کا قول صحیح سند کے ساتھ سنن دارمی میں اس طرح موجود ہےکہ 

مَوْتُ الْعَالِمِ ثُلْمَةٌ فِي الْإِسْلَامِ، لَا يَسُدُّهَا شَيْءٌ مَا اخْتَلَفَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ

ترجمہ:"عالم کی موت اسلام میں ایسا شگاف ہے جسے کوئی چیز پُر نہیں کر سکتی جب تک رات اور دن آتے جاتے رہیں۔ 

ایک صحیح حدیث کا مفہوم ہے کہ علم کو قبض علماء کے ذریعے سے اٹھا لیا جائے گا ۔ وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ۔ 

لہذا علماء کا اٹھنا اس اعتبار سے بہت بڑا نقصان ہوتا ہے جس کی تلافی ناممکن ہوتی ہے ۔ 

حضرت مولانا ڈاکٹر سعیدالرحمن اعظمی ندوی عصر حاظر کے ایک عظیم عالم دین، محقق اور اپنے اسلاف کی روایات کی پاسداری کرنے والے بزرگ عالم دین اور محقق تھے ۔ مولانا علی میاں علیہ الرحمہ کی خاص توجہ ان کو حاصل رہی ۔اس کا اندازہ ان کی "ساعۃ مع العارفین "اور" اڑتالیس سال شفقتوں کے سایے میں" پڑھ کر بخوبی کیا جاسکتا ہے .

آپ کی ولادت مئو ، اتر پردیش میں ہوئی، مدرسہ مفتاح العلوم، مئو میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد دار العلوم ندوۃ العلماء سے ادب عربی میں تخصص کیا۔ اس کے بعد دار العلوم ندوۃ العلماء میں بحیثیت استاذ ادب عربی مقرر ہوئے۔1958 عیسوی میں عربی زبان و ادب کے ماہر ڈاکٹر تقی الدین ہلالی مراکشی سے بغداد میں جاکر استفادہ کیا۔ 1993عیسوی سے 1999ء عیسوی تک دار العلوم ندوۃ العلماء کے "کلیۃ اللغۃ العربیۃ و آدابہا "کے عمید رہے۔ 2000عیسوی سے دار العلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم ہیں۔ عربی زبان کے بڑے پایہ کے خطیب اور قلم کار ہیں۔آپ کی کتابیں جو ابھی منصہ شہود پر آچکیں ہیں ساری کی ساری شاہکار ہیں کیونکہ آپکو اللہ تعالی نے ادب پر کافی عبور عطا کیا تھا ۔ آپ کی یہ شاہکار کتابیں آپکا نام علم ادب کی دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھیں گی آپ تقریبا ایک درجن کتابوں کے مصنف رہ چکے ہیں ۔ 

 مجلس علمی کے مؤسس آسی غلام نبی دامت فیوضھم نے آپ کی وفات پر کافی دکھ و افسوس کا اظہار کیا کیونکہ ندوۃ العلماء کے اکابرین اور شیوخ سے مجلس علمی کے مؤسس حضرت آسی غلام نبی وانی صاحب دامت فیوضھم کا گہرا تعلق رہا ہے ۔ مولانا علی میاں ندوی علیہ الرحمہ کی ترغیب پر اپنے علاقے میں مدرسہ بنانا۔ اسی طرح جب مولاناعلی میاں رحمہ اللہ کشمیر علمی سفر پر آئے ہوئے تھے تو ان مجالس میں شرکت اور پھر ان کا خاکہ "صحبت با اہل علم" کے مقالوں میں کھینچنا ۔ مولانا فیصل بھٹکلی مد ظلہ العالی کا ہمارے یہاں تشریف لانا اور العلم لائبریری پر محاضرہ پیش کرنا ،مولانا سلمان ندوی صاحب رحمہ اللہ کا مؤسس مجلس علمی کے ساتھ تقریبا پونے گھنٹے تک بات کرنا اور مجلس علمی اور راہ نجات کے کام کی سراہنا کرنا اور فرمانا کہ مجلس کا یہ علمی کام ولی اللہی فکر کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے ۔ اسی طرح مفتی سید مسعود حسن حسنی دامت فیوضھم کا مجلس علمی کی لائبریری پر تشریف آوری اور علمی محاضرہ پیش کرنا ۔مجلس علمی کے خدام کے ساتھ نجی علمی مجلس اور پھر رات بھر کا قیام ۔ اور پچھلے سال مجلس علمی کے مؤسس محترم آسی صاحب دامت فیوضھم کے حفید مفتی ابرار الحق ندوی کے ذریعے سے چند کتابوں کا تحفہ مرحوم و مغفور مولانا ڈاکٹر سعید الرحمان اعظمی رحمہ اللہ کی خدمت میں ارسال کرنا اور ان کا وہ تحفہ دیکھ کر کافی خوش ہونا ۔یہ سارے حقائق مجلس علمی جموں و کشمیر اور ندوہ کے اکابرین کے درمیاں قلبی ،اور علمی تعلق کی عکاسی کرتا ہے ۔ چونکہ ندوہ جدید نافع اور قدیم صالح کے امتزاج کا خواہاں ہے لہذا اس اعتبار سے مجلس علمی اور اس ادارے کے درمیان ایک یگانگت ہے۔ 

الغرض مولاناڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی رحمہ اللہ تحریک ندوۃ العلماء کے اسی قدیم و جدید کے صالح اور نافع امتزاج کے پاسبان تھے ۔آپ ان علماء جو اس پر فتن زمانے میں صالح دینی فکر کے پاسبان بن کر امت کے ہر طبقے کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کا داعیہ رکھتے ہیں کے صحیح جانشین تھے ۔ مولانا مرحوم و مغفور اپنی کتاب "اسلامی ثقافت اور ندوہ العلماء" میں ندوہ کے اہداف کا خاکہ اس طرح بیان فرماتے ہیں :

"تحریک ندوۃ العلماء جن مقاصد کے لئے سرگرم عمل ہے وہ حسب ذیل ہیں

1)علوم اسلامیہ کے نصاب درس میں بنیادی اصلاحات، اور ہر دور میں تمدنی حالات کے تقاضے کے مطابق نئے نصاب کی تیاری۔

2 ) ایسے علماء تیار کرنا جو کتاب وسنت کے وسیع وعمیق علم کیساتھ جدید حالات سے بخوبی واقف اور زمانہ کے نبض شناس ہوں۔

3 )اتحاد ملی اور اخوت اسلامی کے جذبات کو فروغ دینا، اور باہمی نزاع کو ختم کرنا۔

4 )اسلامی تعلیمات کی اشاعت بالخصوص برادران وطن کو اسکی خوبیوں سے واقف کرانا، ان کے سامنے اسکی ہمہ گیری اور پوری انسانی برادری کے لئے باعث رحمت قرار دینا اور اسلام کے بارے میں ان کی وحشت کو دور کرنا۔

مذکورہ بالا مقاصد پر ندوۃ العلماء نے غیر معمولی توجہ دی اور بہت حد تک کامیابی اس کے حصے میں آئی، لیکن اب بھی بعض حلقوں میں اس کی تصویر بہت دھندلی اور اس کے نقوش غیر واضح ہیں، زمانہ کے تقاضوں کے پیش نظر اس وقت ندوۃ العلماء کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے، موجودہ ذمہ داران اس مشن کو لے کر سرگرم عمل ہیں اور حقائق و واقعات کے تناظر میں اس کی افادیت کو عالم آشکار کر رہے ہیں۔"

مولانا نے ان ہی اہداف کو سامنے رکھ کر اپنی علمی و عملی زندگی کو ترتیب دیا تھا ۔یہی وجہ ہےکہ ان کی تحریر ،تقریر اور تعبیر علمی دنیا میں کبھی باعث نزاع نہ بنی ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولانا مرحوم کی قبر کو نور سے بھر دے ، انکو اعلی علیین میں جگہ نصیب فرمائے اور ان کے لواحقین، متوسلین اور تلامذہ کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔آمین ۔ 

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

(ترجمہ ) خدا ان پاک طینت اور نیک فطرت عاشقوں پر اپنی رحمتیں نازل کرے۔

@highlight