مولانا مسعود حسنی فیوضھم کی العلم لائبریری پر آمد
سالک بلال
حسنی خاندان کو علمی دنیا میں کون نہیں جانتا ۔اس پورے خاندان کو اللہ تعالی نے دین کی خدمت کے لیے قبول فرمایا ہے ۔اللہ تعالی نے اس خاندان کے ساتھ وابستہ علماء و مشائخ کو سلجھا ہوا دماغ عطا فرمایا ہے ۔ اسی حسنی خاندان کے ایک سرخیل عالم دین حضرت علی میاں ندوی رحمہ اللہ تھے جن کو اللہ تعالی نے علم و عمل ،حکمت و دانائی ،فہم و فراست اور جہاں بینی کے ساتھ ساتھ شستہ اور متین قلم کا مالک بنایا تھا ۔ انہوں نے علمی دنیا میں دعوت و تبلیغ کی عملی محنت کا تعارف اس طرح کرایا کہ وہ علماء جن کو اس محنت سے متعلق شرح صدر نہیں ہوتا تھا اس محنت کے فعال رکن بن گئے ۔ چونکہ موصوف نے تاریخ دعوت و عزیمت لکھ کر امت کو دعوت کی عزیم محنت کی طرف متوجہ کیا ۔ ندوۃ العلماء کے قیام کا مقصد تعلیم کے شعبے میں نہ ہی مکمل روایتی انداز کی تقلید تھی اور نہ ہی جدیدیت کی بے ہنگم پوجا ، بلکہ اس کے موسسین کا خواب یہ تھا کہ جدید چلینجز کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ادارہ قدیم صالح اور جدید نافع کے امتزاج کی ایک ایسی مثال بنے کہ مسلمانوں کی عصری ضرورتیں علمی بنیادوں پوری ہوں ۔ اس ادارے کے بانیوں کا یہ ماننا تھا کی تعلیم کا یہ ہرگز مقصد نہیں کہ ہم انگریزوں کے رنگ میں رنگ جائیں ۔ بلکہ ان کا نظریہ یہ تھا کہ دینی اقدار پر چلتے ہوئے ہمیں علم و فن میں مغربی تخلیقی ذہن کے طرز پر اپنے نو نہالوں کی تربیت کرنی چاہیے۔
گوہر میں ہو لاالہ تو کیا خوف
تعلیم ہو گو فرنگیانہ
علامہ اقبال علیہ الرحمہ بھی اسی خیال کے حامی نظر آرہے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ
قوت مغرب نہ از چنگ و رباب
نے ز رقص و دخترانِ بے حجاب
نے ز سحر ساحرانِ لالہ روست
نے ز عریاں ساق و نے از قطع موست
محکمی اورانہ از لا دینی است
نے فروغش از خطِ لاطینی است
قوتِ افرنگ از علم و فن است
از ہمیں آتش چراغش روشن است
حکمت از قطع و برید جامہ نیست
مانعِ علم و ہنر عمامہ نیست
علم و فن را اے جوان شوخ و شنگ۔
مغز می باید نہ ملبوس فرنگ
(ترجمہ)مغرب کی قوت نہ چنگ و رباب، یعنی ساز و سرود میں ہے، نہ بے حجاب لڑکیوں کے رقص میں، نہ لالہ رُخ جادوگروں کے سحر میں، نہ بے پردہ جسموں میں اور نہ بال کاٹنے یا ظاہری وضع قطع بدلنے میں۔ اس کی مضبوطی اور پائیداری لادینی کی وجہ سے نہیں اور نہ ہی اس کی ترقی محض لاطینی رسم الخط کی مرہونِ منت ہے۔ درحقیقت مغرب کی قوت علم و فن میں ہے اور اسی علم و فن کی آگ سے اس کا چراغ روشن ہے۔ حکمت و دانائی لباس کی تراش خراش کا نام نہیں، اور عمامہ علم و ہنر کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ اے زندہ دل اور شوخ و شنگ نوجوان! علم و فن حاصل کرنے کے لیے مغرب کا لباس نہیں، بلکہ اس کے جیسا علمی و فکری مغز درکار ہے۔
بہت سارے ندوی حضرات جو جدیدیت سے متاثر ہیں مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمہ اللہ کے اوپر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے اس کو دیوبند کی نہج پر لا کھڑا کر دیا یہ مولانا پر ایک بے بنیاد اعتراض یے۔ مولانا نے اپنے دور انتظام میں ندوے کو اپنی منہج سے ہٹنے نہیں دیا جبکہ یہ اعتراض کرنے والے اور ان کے حامی احباب ندوے کو ایک جدید دانشگاہ میں تبدیل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ وہ اسلامی سقافت اور تہذیب و تمدن کے زیادہ دلدادہ نہیں۔ وہ صرف دنیاوی ترقی اور مادی نقظہ نظر سے چیزوں کی افادیت کو پرکھتے ہیں ۔ مولانا نے صالحیت کے پہلو کو نظر انداز نہیں ہونے دیا ۔کیونکہ اس گھرانے میں اللہ تعالی نے صلاحیت اور صالحیت دونوں کو جمع فرمایا ہے ۔
بہر حال اس خانوادے کے علماء اور شیوخ کو کشمیر کے ساتھ کافی تعلق ہے وہ کشمیر وقتا فوقتاً آتے رہتے ہیں ۔مولانا سید ابو الحسن علی ندوی بھی کئی مرتبہ کشمیرعلمی دوروں پر آئے ہیں ۔ ان کی کتاب تحفہ کشمیر ان ہی علمی دوروں کا ماحصل ہے ۔
اسی حسنی خانوادہ کے چشم و چراغ حضرت مولانا مسعود حسن حسنی ندوی مد ظلہ العالی کی آمد بھی ہمارے لیے کسی نعمت مترقبہ سے کچھ کم نہیں تھی۔ میرے بھتیجے مولانا ابرار الحق الندوی جو اس وقت ندوے میں تحقیق کا کام کر رہے ہیں نے ہمیں مطلع کیا کہ حضرت ایک علمی دورے پر کشمیر آرہے ہیں اور ہم نے ان کو مجلس علمی کے صدر دفتر اور العلم لائبریری میں ایک علمی محاضرہ کی درخواست کی ہے۔ ہم کافی خوش ہوئے اور مجلس سے تعلق رکھنےبوالےاحباب کو دعوت دی کہ وہ اس میں شرکت کریں ۔ مدعوکیے گئے تمام احباب نے شرکت کی ۔
مولانا مرتضی صاحب نے تلاوت کا فریضہ انجام دیا اور برادر یونس صاحب نے اپنی دلکش آواز میں نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم گنگنایا جس سے پوری مجلس محظوظ ہوئی ۔اس کے اس کے احقر نے مجلس علمی اور ادارہ راہ نجات کے علمی اور تحقیقی کام کا مختصر خاکہ پیش کیا ۔ پھر حضرت نے "کتاب اور مطالعہ :علم و تحقیق کی بنیاد " عنوان پر ایک پر مغز محاضرہ پیش کیا ۔ اس محاضرے کا خلاصۃ الخلاصہ یہ تھا کہ علم اور عبادت کا آپس میں چولی دامن کا تعلق ہے ۔ عبادت جب ہی درست ہوگی جب وہ علم کے ساتھ ہو بغیر علم کے کوئی عبادت درست نہیں ہوتی ۔انسان کی پیدائش کا مقصد قرآن نے عبادت قرار دیا ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے علم ایک وسیلہ ہے۔ واجب کا مقدمہ واجب ہوتا ہے لہذا علم کا حاصل کرنا بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح مقصد کا پورا کرنا ۔ لہذا مقصد حاصل کرنے کے لیے وہی علم درکار ہے جو مقصد پورا کرنے میں معین بن سکتا ہے ۔ اور وہ علم شریعت کا علم ہے ۔ لیکن شریعت کا علم اس کے اصلی مصادر سےحاصل کرنے ہونگے ۔ ان مصادر کا جاننا بھی ایک طالب علم کے لیے ضروری ہے ۔سب سے اہم اور بنیادی مصادر جو شرعی احکام کے استنباط و استخراج کے لیے بیان کیے گیے ہیں وہ قرآن ،حدیث ،تعامل صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ،اجماع امت اور قیاس مجتھدین ہیں ۔
فرمایا فقہی استنباط کے لیے جس طرح پندرہ سے زائد علوم کا جاننا ضروری ہے اسی طرح تفسیر قرآن کے لیے بھی اتنے ہی علوم کا عالم ہونا ضروری ہے ۔ تاہم کسی ترجمے کو سامنے رکھ کر یا کسی تفسیر کو خود پڑھ کر اس کا بیان کرنے کے لیے کسی متدین تعلیم یافتہ کے لیے کوئی حرج نہیں ۔ فرمایا بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو ادبی ذوق ہوتا ہے ہمارے علماء نے ان کے ذوق کے مطابق دینی علوم میں کام کیا ہے ۔ ان کے رشحات کا مطالعہ کر کے ادبی ذوق رکھنے والے احباب خود کو محظوظ کر سکتےہیں ۔
یہ مجلس مغرب سے عشاء تک رہی ۔ اور بعد عشاء دوسری نجی مجلس مولانا و مفتی ابرار الحق صاحب کے دولت خانہ پر ہوئی کیونکہ انہی کے یہاں رات کا قیام تھا ۔ اس مجلس میں کافی دینی امور پر سیر حاصل گفتگو رہی۔ خاص کر حضرت آسی غلام نبی صاحب دامت فیوضہم اور مولانا مسعود صاحب کے درمیان گفتگو کافی معلوماتی رہی ۔ آسی صاحب نے اپنے ایک دینی سفر کی روداد اور اس سفر میں مولانا علی میاں علیہ الرحمہ کے ساتھ ملاقات کا قصہ سنایا ۔ فرمایا کہ مولانا کے ساتھ جو ملاقات ہوئی اس میں مولانا نے نصیحتیں کیں اور آخر پر فرمایا کہ جب آپ واپس جائیں گے تو ایک مدرسے کو قائم کرنا اور اس کو یا تو دیوبند کے ساتھ منسلک رکھنا یا ندوۃ العلماء کے ساتھ ۔ فرمایا یہ اخلاص کی انتہا تھی کہ خود تو ندوہ کے رئیس تھے لیکن پہلے دیوبند کا نام لیا ۔ ورنہ یہ ایک فطری بات ہے کہ کسی مدرسے کا رئیس ہرگز پہلے کسی دوسرے ادارے کا نام نہیں لے گا ۔ فرمایا جب ہم وہاں سے واپس آئے تو یہاں اللہ تعالی نے ایک آدمی کا مدرسے کے لیے زمین وقف کرنے کا ذہن بنادیا تھا ۔ واقعات کا یہ تعلق کسی کرامت سے کم نہیں ۔
پھر مجلس اور راہ نجات کے ذریعے اب تک کے تمام علمی مقالات اور کتابوں کا ذکر ہوا ۔ اس پر حضرت مسعود حسنی صاحب نے کافی مسرت کا اظہار فرمایا ۔ فرمایا اتنا کام بڑی بڑی انجمنیں نہیں کر پارہی ہیں جو کام معمولی عرصے میں آپ کے اس ادارے نے کیا ۔ فرمایا کہ اپنی تحقیقات کو مجلس تحقیقات و نشریات ندوہ بھیجا کرو تاکہ طلباء بھی ان سے استفادہ کر سکیں ۔
ہمارے علاقے میں جو مدرسہ قائم ہوا اس کی ترغیب کا سہرا جہاں اسی حسنی خانوادے کو جارہا ہے وہیں مجلس علمی کے کام پر اطمینان کا اظہار کر کے مجلس کے عملے کو حوصلہ فراہم کرنا اور مجلس کو ایک بڑا ادارہ بنانے کی خواہش کا اظہار کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس خانوادے کو علم و تحقیق کے ساتھ کتنا قلبی لگاؤ اور شغف ہے ۔
اس نجی علمی محفل کے اختتام پر حضرت مسعود حسنی صاحب نے فرمایا کہ" آسی صاحب کے ساتھ میری ملاقات نے میرے اس سفر کو کامیاب بنادیا "۔ آسی صاحب سے ملاقات پر کافی خوشی کا اظہار کیا ۔ حضرت مسعود صاحب کے ساتھ اس علمی دورے میں مفتی امتیازصاحب مہتم مدرسہ تعلیم القرآن شالٹینگ اور پیرزادہ خوشحال صاحب تھے حضرت کے ساتھ چند گھنٹوں کی یہ صحبت کافی کار آمد رہی ۔ حقیقت یہ ھے کہ آپ بقیۃ السلف ہیں ۔ آپ جیسا متواضع عالمِ دین شاید ہی میں نے آج تک دیکھا ہو۔ بس آپ کی ذات ان احادیث کی آئینہ دار تھی کہ حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے بہترین افراد کی نشان دہی نہ کروں؟ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے بہترین افراد وہ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ کی یاد آئے۔اسی طرح ایک اور روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ ہمارے بیٹھنے اٹھنے والے کیسے لوگ ہونے چاہیے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جس کو دیکھ کر تمہیں خدا یاد آئے، اور جس کی گفتگو سے تمہارا علم بڑھے، اور جس کے عمل کو دیکھ کر آخرت کی یاد تازہ ہو۔“ یہ اس تھا حضرت کی صحبت کا تاثرجو میں اپنے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا تھا ۔
ہر کہ خواہَد ہمنشینی با خدا
او نشیند در حضورِ اولیا
اللہ تعالی آپ کاسایہ ہمارے اوپر تا دیر قائم رکھے ۔