جھوٹی نسبت :ایک غیر اخلاقی عمل

سالک بلال احمد
Thursday 24th of September 2026 11:06:37 AM


جھوٹی نسبت ایک غیر اخلاقی عمل 

 

سالک بلال 

 

جھوٹی نسبت عام طور پر کسی ایسے تعلق، رشتے، یا انتساب کو کہا جاتا ہے جو حقیقت پر مبنی نہ ہو بلکہ دھوکے، فریب، یا غلط فہمی کی بنیاد پر قائم ہو۔ اردو ادب، ڈراموں، اور عام گفتگو میں یہ اصطلاح مختلف مفاہیم میں استعمال ہوتی ہے۔ ابنے فائدے یا سماجی رتبے کے لیے کسی بڑے خاندان یا شخصیت سے اپنا غلط تعلق جوڑنا خاندانی یا نسبی جھوٹ کہلاتا ہے ۔کسی بزرگ یا نظریے کے ساتھ خود کو جھوٹا منسوب کرنا روحانی یا مذھبی دھوکہ دہی ہے اسی طرح کسی ادارے سے سند حاصل کیے بغیر یا وہاں سے علمی اکتساب کیے بغیر اس ادارے کے ساتھ خود کو منسوب کرنا اور اس نسبت کا لاحقہ اپنے نام کے ساتھ جوڑنا علمی دھوکہ دہی ہے ۔ آجکل اس قسم کے انتساب نے وبائی شکل اختیار کی ہوئی ہے ۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :

نسبتیں جھوٹی سچی سب کا حساب ہوتا ہے

دل کے آئینے میں ہر نقاب بے نقاب ہوتا ہے 

اگر چہ جھوٹی نسبت کا سہارا لے کر شہرت حاصل کی جاسکتی ہے تاہم کبھی کبھار یہ بہت مہنگا پڑتا ہے ۔ اس موقع پر ہم اس حدیث سے بات کو منقح کرنے کی کوشش کریں گے جس میں نسبی طور سے جھوٹی نسبت قائم کرنے والے پر بڑی وعید آئی ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"جس شخص نے جان بوجھ کر اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کو اپنا باپ دعویٰ کیا (یعنی جھوٹی نسبت کی)، تو اس پر جنت حرام ہے" (صحیح بخاری: 6766۔

معلوم ہوا کہ جھوٹی نسبی نسبت قائم کرنا فعل حرام ہے ۔ آجکل بہت سارے لوگ نسبی تفاخر کے لیے کسی اعلی خاندان کا لاحقہ جوڑتے ہیں اور دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ وہ کسی اعلی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ سراسر غلط ہے ۔ علماء نے اس کی مذمت کی ہے ۔ محققین نے اسی لیے خاندانوں، قبیلوں کی تاریخ کو محفوظ کیا ہے ۔ محمد الدین فوق نے اس حوالے سے کشمیر کے تناظر میں تاریخ اقوام کشمیر لکھ کر کافی اچھا کام کیا ہے ۔ جس طرح نسبی نسبتوں سے متعلق علم الانساب ہے۔ اور عرب میں یہ صرف انسانی نسب تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ گھوڑوں اور دوسرے جانوروں کی نسل کا علم بھی لوگ رکھتے تھے ۔تاکہ جانوروں کی نسل بھی معلوم و محفوظ رہے۔ اسلام نے ایسے علوم کی حوصلہ شکنی نہیں کی بلکہ اس کو باقاعدہ فروغ دیا ۔ 

 اسلامی تاریخ میں علمی نسبتوں کی حفاظت کے سلسلے میں فن اسماء الرجال وضع کیا گیا ۔ جس میں تمام علمائے حدیث کی علمی نسبتوں کو بالتفصیل بیان کیا گیا ہے ۔ روحانی نسبتوں میں بھی یہ روایت ہمارے شیوخ نے قائم رکھی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تمام روحانی سلسلوں شیوخ اور خلفاء کی تاریخ محفوظ ہے ۔ لہذا تمام سلسلوں میں اجازت کی سند شیخ سے اپنے خلیفے کو ملتی ہے اور اس طرح یہ روایت ابتداء آفرینش سے چلتی آرہی ہے ۔ اگر اس کو محفوظ نہ کیا جائے تو فتنہ برپا ہو سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں چند غیر سنی حضرات نے شاہ ہمدان کے واپس جانے کے بعد یہاں خود کو ان کا مرید ظاہر کر کے بہت سارے لوگوں کو سنیت سے دور کر دیا ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ شاہ ہمدان کے سچے پکے مرید نہیں تھے ۔ 

اسی تناظرمیں اگر بات مکاتب فکر کی کی جائے تو بہت سارے احباب ایسے ہیں جو کسی مکتب کو ثواب پر جانتے ہیں لیکن یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ اپنے نام کے ساتھ اس مکتب کا لاحقہ استعمال کریں ۔ کیونکہ وہ مخصوص مکتب ایسے حضرات کو ان کے حسن ظن کی بنا پر اپنا ترجمان کبھی تصور نہیں کرتے ہیں ۔ اگر کوئی دیوبند کو حق پر سمجھتا ہے اور ان کی آراء اور دین و شریعت کی تشریح کو صواب سمجھتا ہے تو وہ دیوبندی پھر بھی نہیں کہلائے گا کیونکہ دیوبندی ایک انسان دو ہی صورتوں میں ہوسکتا ہے ۔ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ شخص دار العلوم کا فارغ ہو یا اس کی کسی رجسٹرڈ شاخ کا فارغ التحصیل ہو ۔ایسا شخص علمی نسبت کے عنوان کے تحت دیوبندی کہلا سکتا ہے ۔دوسری صورت یہ ہے کہ وہ دیوبند کا رہنے والا ہو ۔اس صورت میں یہ نسبت مقامی ق سکونتی ہوگی کیونکہ دیوبند ایک مقام کا نام بھی ہے ۔ جیسے ہمارے بہت سارے شیوخ دہلوی کے لاحقے سے پہچانے جاتے ہیں مثلا شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ ۔ 

میرے والد محترم ایک معتدل قسم کے اسکالر ہیں ۔ ہمارے علاقے میں کچھ لوگ شیدید قسم کے بریلوی ہیں جو ان کو دیوبندی تصور کرتے ہیں اور کچھ لوگ متشدد قسم کے دیوبندی ہیں وہ انکو بریلوی تصور کرتے تھے ۔ والد محترم نے ایک مرتبہ شیری جامعہ مسجد کے ممبر پر کہا کہ نہ میں دیوبندی ہوں اور نہ بریلوی ۔کیونکہ میں نے ان دو اسکولوں میں سے کسی ایک سے بھی بلا واسطہ علمی اکتساب نہیں کیا ہے اور نہ میں ان دو جگہوں میں سے کسی ایک جگہ کا مستقل باشندہ ہوں ۔ میں ایک سیدھا سادھا حنفی المسلک کشمیری مسلمان ہوں ۔ 

حضرت نے یہ بات یونہی ہی نہیں کہی کہ بلکہ اس کے پیچھے ایک اصول ہے جس کو ہمارے علماء نے بیان کیا ہے ۔علماء فرماتے کہ 

لا يجوز للطالب أن يدّعي التلمذة على شيخٍ لم يتلقَّ عنه، ولا أن ينسب إليه سماعًا أو إجازةً لم تثبت۔ 

ترجمہ:

"طالبِ علم کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایسے شیخ سے تلمذ کا دعویٰ کرے جس سے اس نے علمی استفادہ نہ کیا ہو، اور نہ ایسے شیخ کی طرف سماع یا اجازت کی نسبت کرے جو ثابت نہ ہو۔"

یہ شیخ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ہر اس ادارے پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جو ایک آدمی کو علمی استناد فراہم کرتا ہے ۔ پرانے زمانے میں یہ سند ،شیوخ دیتے تھے اور آجکل ادارے ۔ اسی طرح علمِ حدیث میں اگر کوئی شخص حقیقت میں کسی شیخ سے نہیں ملا یا اس سے سماع نہیں کیا، لیکن ایسا ظاہر کرے کہ اس نے اس سے سماع کیا ہے، تو یہ تدلیس اور کذب کے دائرے میں آتا ہے۔خطيب بغدادیؒ نے روایت کے الفاظ کے بارے میں واضح کیا کہ:

"ولا يجوز أن يقول: حدثنا ولا أخبرنا"

یعنی جہاں مطلوبہ طریقۂ تحمل موجود نہ ہو وہاں ایسا لفظ استعمال نہیں کیا جاسکتا جو حقیقی سماع کا مفہوم دے۔ 

لہذا آجکل جو بہت سارے لوگ کسی مکتب یا مشرب سے عملی اور نسبتی تعلق کے بغیر اپنے نام کے ساتھ اس مکتب یا مشرب کا لاحقہ جوڑتے ہیں۔ یہ عمل بالکل غلط اور غیر اخلاقی ہے ۔ اس کے غلط ہونے کی دو وجہیں ہیں اول یہ وہ اس مکتب ،مشرب کے اصلی شاگرد ہی نہیں ہوتے ہیں ،دوم یہ کہ ان کی ہر چھوٹی بڑی علمی یا عملی خطا اس مکتب و مشرب کی طرف منسوب کی جائے گی ۔جس سے اس مکتب و مشرب کے بدنام ہونے کا اندیشہ ہے ۔ لہذا ہر دو وجوہ کی بنا پر ایسا انتساب غیر اخلاقی تصور کیا جائے گا ۔ 

ھذَا مَا عِنْدِي، فَمَنْ جَاءَ بِأَهْدَى مِنْهُ قَبِلْنَاهُ