ہماری تحریر میں بے اثر کیوں
علامہ دمیری رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب حیاۃ الحیوان میں الایل یعنی بارہ سنگھا پر گفتگو کے ذیل میں امام زجاجی رحمہ اللہ کا ذکر کیا ہے ۔ لکھا ہے کہ امام نے ایک کتاب لکھی جس کا نام "کتاب الجمل" ہے۔ ضرب الامثال پر طویل بحث کی ہے، اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ جو بھی اس کا مطالعہ کرتا ہے خوب مستفید ہوتا ہے، وجہ اس کی یہ لکھی ہے کہ انہوں نے یہ کتاب مکۃ المکرمہ میں تصنیف کی ہے۔ جب ایک باب سے فارغ ہوتے تو ایک ہفتہ تک طواف کرتے ،کتاب کا مطالعہ کرنے والوں کے لئے دعائیں مانگتے کہ اللہ تعالی مطالعہ کنندگان کو فائدہ پہنچائے اور مصنف کی مغفرت فرمائے۔
ان کی کتاب کا نمونہ یہ ہے،"ما حرم اللہ شیئاً الا واحل بازائه""اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز حرام کی ہے تو اس کے بدلہ میں حلال چیز ضرور دی ہے""حرم الميتة واباح المذكى"" مردار حرام کیا ہے تو اس کے بدلہ میں ذبیحہ حلال کیا۔""وحرم الخمر واباح النبيذ""شراب حرام کی تو نبیذ حلال کی،وحرم السفاح واباح النكاح وحرم الربوا واباح البيع ۔ زنا کو حرام قرار دیا تو نکاح کو جائز قرار دیا، سود کو حرام کیا تو بیع وشرا کو جائز قرار دیا۔
مندرجہ بالا واقعہ سے خوب اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری تحریروں میں کمیت کی نہیں بلکہ کیفیت کی کمی ہے ۔ وہ تحریر اس غرض سے لکھتے تھے کہ پڑھنے والوں کو فایدہ پہنچے اور لکھنے والے کی مغفرت ہو جائے ۔جبکہ آج کل اکثر و بیشتر تحریرں علمی دھاک بٹھانے کی غرض سے لکھی جاتی ہیں ۔ اگر علمی اور تحقیقی کام دینی اغراض اور عمومی استفادہ کے خاطر کیا جائے تو اس میں یقینا اثر ہوگا ۔کہتے ہیں کہ "هر چه از دل خیزد، لاجرم بر دل نشیند" یعنی جو بات دل کی گہرائیوں سے، خلوص اور سچائی کے ساتھ نکلتی ہے، وہ لازماً دوسرے کے دل پر اثر کرتی ہے۔
اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ وہ ہماری تحریروں میں اثر پیدا فرمائے ۔اور ہمیں تحقیق و تدقیق کا کام محض امت کے فائدے کی خاطر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
سالک بلال