طبقاتِ حنفیہ ( رضوان اللہ علیہم )
قسط (1)
سلف صالحین نے صحابہ کرام ، تابعینِ عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بعد میں آنے والے مجتہدین ، علماء ومشائخ ، فقہاء و محدثین ، مصلحین و مجددین ، ادباء و شعراء ، اولیاء و صوفیاء کی مبارک زندگیوں کے احوال و کوائف بڑی محنت و مشقت ، دِقَّتِ تحقیق ، گہری بصیرت اور معتبر معلومات کی روشنی میں اپنی تصنیفات وتالیفات میں محفوظ کیے ہیں تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے اپنی مضبوط بنیادوں کو صحیح جہت سے جاننے ، سمجھنے اور انہی کے فراہم کردہ خطوط پر اپنے فکر و نظر اور عقیدہ و عمل کی عمارت کو استوار کرنے کے مواقع مہیا ہوتے رہیں
احوالِ رجال کی کتابوں کو مختلف نام دیے گئے ہیں ان میں ایک نام " طبقات" ہے - طبقات میں کسی خاص قوم یا ملک ، پیشہ سے وابستہ افراد ، ایک ہی گروہ کے علماء یا خاص مسلک و مشرب سے تعلق رکھنے والے اہلِ علم کا تذکرہ کیا جاتا ہے
امام ابو عاصم محمد بن احمد العبادی الشافعی رحمه الله اپنی کتاب " طبقات الفقہاء الشافعیۃ" میں لکھتے ہیں
رأيت ُ السلف رحمة الله عليهم صرفوا هممهم إلى ذكر طبقات الصحابة لوجوب الاقتداء بهم و الاهتداء بهديهم و فِرَقِ التابعين و أتباعهم و مَن يليهم من العلماء النجباء لكونهم وسائط بيننا و بين الصحابة و ما في تأدية مناهج الفقه و الأحكام و معرفة حدود المعاني و الأعلام و اشتهر بعدهم أصحاب الفتاوى من العلماء المعروفين في البلاد الذين هم نجوم زاهرة للعباد
( ص 1 مكتبة البلدية الاسكندرية)
" میں نے دیکھا کہ سلف (رحمہم اللہ) نے صحابہ کے مختلف طبقات کو بیان کرنے میں اپنی تمام ہمّتیں لگا دیں یہ اس لیے تاکہ ان کی اقتداء کی جا سکے اور لوگ ان کے طریقہ پر چلیں ، اسی طرح تابعین ، تبع تابعین اور ان سے متصل نیک نہاد علماء کا بھی تذکرہ کیا کیونکہ یہ سب ہمارے اور صحابہ کے درمیان واسطے ہیں ، فقہ اور احکام کے مناھج نیز شخصیات اور معانی کی حدود کی معرفت بھی انہی علماء پر منحصر و موقوف ہے ان کے بعد معروف علماء میں اصحابِ فتاویٰ مشہور ہوئے جو بندگان خدا کے حق میں چمکتے ہوئے تارے ہیں (جن سے وہ اپنی راہ پاتے ہیں )
ابن سعد کے طبقات سے اہلِ علم واقف ہیں - یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے تذکرے پر مشتمل ہیں
علماء کے تذکرے میں شوافع کو سبقت حاصل ہے - سب سے پہلے انہوں نے ہی اپنے علماء کے تذکرے طبقات میں لکھے - پھر بتدریج احناف اور مالکیہ و حنابلہ بھی اس طرف متوجہ ہوگئے یوں پچھلے ایک ہزار سال میں طبقات کا کافی ذخیرہ منظر عام پر آیا
احناف میں سب سے پہلے امام عبد القادر بن محمد القرشی المصري الحنفي رحمہ اللّٰہ( م : 775ھ) نے طبقات پر" الجواهر المضية فيطبقات الحنفية " کے نام سے کتاب لکھی- صاحبِ کشف الظنون لکھتے ہیں
" فيه لحن كثير و تصحيف لأنه أول تاليف فيه و الرجل معذور ثم لخصه الشيخ الإمام ابراهيم بن محمد الحلبي المتوفى سنة 956 ج 1 ص 593 دار الكتب العلمية - بيروت لبنان ط: 2018
" اس میں کافی غلطیاں واقع ہوئی ہیں اور بعض ناموں میں تصحیف ہوئی ہے - یعنی حرفوں اور نقطوں کے ہیر پھیر سے الفاظ کی شکل بگڑ گئی ہے - چونکہ یہ اس باب میں پہلی کتاب ہے لہذا اس کے مصنف کو معذور قرار دیا جا سکتا ہے - امام ابراھیم بن محمد حلبی ( م : 956) نے اس کی تلخیص لکھی ہے
خود امام قرشی نے لکھا ہے
ولم أر أحداً جمع طبقات أصحابنا وهم أمم لا يحصون ( مقدمة الجواهر المضية)
میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ ہمارے اصحاب کے طبقات کو کتاب میں جمع کیا ہو حالانکہ وہ اتنی بڑی امت ہے جس کا شمار بھی مشکل ہے
اس میں شک نہیں کہ شیخ عبدالمالک بن ابراھیم بن احمد الہمدانی نے اس سے پہلے " طبقات الحنفیہ و الشافعیۃ" لکھی تھی لیکن اس میں احناف کے ساتھ ساتھ شوافع کا بھی ذکر تھا - یقیناً امام قرشی نے اس کتاب سے بھی استفادہ کیا ہے تاہم ان کی کتاب تذکرہ احناف میں پہلی مستقل کتاب کا درجہ رکھتی ہے
الجواھر المضیہ پانچ جلدوں میں چھپ چکی ہے - اس ک پہلا ایڈیشن دار احیاء الکتب العربیہ اور دار العلوم بالریاض نے 1978 تا 1988 شائع کیا اور دوسرا ایڈیشن ، جو میرے پیش نظر ہے ، اسے فی ھجر للطباعۃ و النشر و التوزیع و الاعلان" نے 1993 میں شائع کیا ہے - ڈاکٹر عبدالفتاح محمد الحلو نے اس پر تحقیق کی ہے
( جاری)
(شکیل شفائی)