حضرت مولانا مفتی محمد عبد اللہ قاسمی سابقہ نائب مفتی دار العلوم دیوبند ۔
اللہ تعالی کا کشمیر کے ساتھ یہ خصوصی احسان رہا ہے کہ اس خطہ ارض سے ایسی ہستیاں پیدا ہوئیں جنہوں نے اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ۔ مغلوں کو اگر شاہی اتالیق کی ضرورت پڑتی ہے تو کشمیر کا انتخاب کرتے ہیں ۔ مجدد الف الثانی کی شخصیت کو نکھارنے میں شیخ یعقوب صرفی کشمیری رحمہ اللہ کا بڑا دخل ہے۔شاعری کے میدان میں اگر کوئی شاعر شاعر مشرق کہلانے کا اعزاز حاصل کرتا ہے تو وہ بھی کشمیر ی النسل ہے ۔ تقریر کی دنیا میں عطاء اللہ شاہ بخآری جیسے مقرر کو شاید ہی دنیا نے اس سے پہلے دیکھا ہو ۔ فن حدیث میں تو پانچ سو سالہ تاریخ انور شاہ رحمہ اللہ جیسے محدث پیدا کرنے سے قاصر رہی یہ میرے تاثرات نہیں بلکہ ایک جہاندیدہ مفکر حضرت علامہ اقبال رحمہ اللہ کے ہیں۔تصوف کے میدان میں ریشیان کشمیر کا سلسلہ کسی تعارف کا محتاج نہیں اس قافلے کا سرخیل علمدار کشمیر یکتائے زمانہ ہیں بہر حال کشمیر کی مٹی ہر اعتبار سے زرخیز ہے ۔ اس مٹی سے ایسے شجر ہائے برگدار پیدا ہوئے جو آج بھی علمی دنیا میں اپنی خوشبو بکھیر رہے ہیں۔ ایسے ہی معاصر افاضل علماء میں سے ایک گمنام عالم دین حضرت مفتی محمد عبد اللہ قاسمی دیوبندی ہیں ۔
آپ کا نام محمد عبد اللہ اور والد محترم کا نام کرم الدین ہے ۔آپ کی پیدائش چھتر گل تحصیل کنگن ضلع گاندر بل میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم مقامی عصری اسکول میں پانچویں جماعت تک ہوئی۔ گھٹل باغ گاندر بل کے ایک صوفی منش عالم دین مولانا حاجی میر عالم صاحب نقشبندی جو دیوبند سے فارغ التحصیل تھے نے آپ کے والد ماجد کو مشورہ دیا کہ اپنے اس فرزند ارجمند کو دینی تعلیم کے حصول کے لیے باہریعنی ہندوستان بھیج دو ۔ اس عالم دین کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے آپ کے والد ماجد نے آپ کا داخلہ مدرسہ شمس العلوم ٹنڈھیرا ضلع مظفر نگر یوپی میں کروایا ۔ اس مدرسے میں آپ نے درجہ فارسی سے لیکر عربی چہارم تک پڑھا اور مزید علوم کی تکمیل کے لیے دیوبند کا رخ کیا ۔ یہاں پنجم سے لیکر دورہ حدیث اور تکمیل افتاء کی ڈگریاں حاصل کیں ۔
دارالعلوم میں رہ کر جن اساتذہ سے آپ نےکسب علوم کیے وہ سب علم و عمل کے روشن ستارے تھے ۔ جب شاگرد میں ظرف ہو اور اساتذہ میں انتہاء درجے کی علم و حکمت ہو تو طالب علم کا مقدر جاگ اٹھتا ہے ۔لہذا جید اساتذہ کی نگرانی اور ذاتی دلچسپی نے مولانا کی شخصیت کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اساتذہ جن سے مولانا نے دارالعلوم میں رہ مختلف علوم پر مختلف کتابیں درسا پڑھی ان کے اسماء گرامی اس طرح ہیں ۔
حضرت مولانا عبد الحق خان دیوبندی شیخ الحدیث دار العلوم دیوبند سے مولانا نے"بخاری شریف" کی جلد اول پڑھی،حضرت مولانا انظر شاہ ابن امام العصر مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ سے "بخاری شریف" کی جلد دوم درسا پڑھی ۔اس طرح بخآری کی تکمیل، حدیث کے ان دو بڑے اساتذہ سے ہوئی ۔حضرت مولانا سعید احمد پالن پوری (1940 – 2020ء) دیوبندی جو کہ اپنے وقت کے بڑے پایہ کے عالم، مفتی، مصنف اور محدث تھے، جنھوں نے دار العلوم دیوبند کے شیخ الحدیث اور صدر المدرسین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔اور ان کی لکھی ہوئی کئی کتابیں دار العلوم سمیت کئی مدارس میں داخل نصاب بھی ہیں۔اور جن کو بھارت کی تیرھویں صدر پرتھیا دیوی سنگھ پاٹل نے 64 ویں یوم آزادی پر عربی زبان میں ان کے علمی شغف اور مسلمہ قابلیت کے لیے پریسیڈینٹل سرٹیفکیٹ آف آنر (صدارتی توصیفی سند) سے نوازا تھا سے مولا نا موصوف نے سبعہ معلقہ ، نسائی شریف، مشکوات شریف ،ملا حسن اور الحجة اللہ البالغه (جو کہ اگر چہ نصاب میں داخل نہیں تھی تاہم اپنے شوق کی تکمیل کے لیے )پڑھیں۔ اس کے علاؤہ یہ کتاب قاری طیب صاحب سے مسجد میں بیٹھ کر بھی پڑھی ۔ حضرت مولانا وحید الزمان کیرانوی رحمہ اللہ (1930–1995ء) دیوبندی جو عربی زبان کے مایۂ ناز ادیب و مصنف تھےاور دار العلوم میں تقریباً 27 سال مشترکہ طور پر تدریسی و انتظامی خدمات انجام دیں سے "المنتخبات فی صحف العرب" درسا پڑھی ۔واضح رہے یہ کتاب یعنی "المنتخبات في صحف العرب" دراصل مولانا وحید الزمان کیرانوی کی ہی تالیف ہے جو دار العلوم کے نصاب میں شامل عربی صحافت اور جدید نثر کے ذوق کو بیدار کرنے کے لیے پڑھائی جاتی ہے۔حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی سے" تاریخ الادب العربی" اور "القراة الواضح" ،حضرت مولانا محمد حسن بہاری سے "ترمذی شریف" ،مولانا نعیم صاحب سے "مسلم شریف"، مولانا قمر الزماں رحمہ اللہ سے "ابو داؤد شریف"،مولانا خورشید دیوبندی سے "ھدایہ اولین"،مولانامعراج الحق سے "ھدایہ آخرین"،مولانا سالم دیوبندی سے "مشکواہ شریف حصہ اول" پڑھی ، اس طرح فضیلت تک کی تمام کتب کو درسا پڑھ کر تکمیل دورہ حدیث ہوا اور اس کے بعد افتاء میں داخلہ لیا ، یہاں حضرت مفتی محمود گنگوہی مفتی اعظم دار العلوم دیوبند رحمہ اللہ سے "شرح عقود رسم المفتی" ، مفتی نظام الدین اعظمی رحمہ اللہ سے قواعد الفقہ " "تمرین افتاء "و سراجی پڑھی اور افتاء سے آپ نے فراغت کی ۔ اس طرح حدیث و فقہ میں کامل مہارت حاصل کر کے آپ دار العلوم سے فارغ ہوئے ۔
فراغت کے بعد آپ گھر لوٹے ۔یہاں چونکہ مدارس کا کوئی مضبوط سلسلہ ابھی تک قائم نہیں ہوا تھا یا اگر چند ایک مدرسے قائم ہوئے بھی تھے تاہم وہ ابھی ابتدائی مرحلے میں تھے جہاں ابھی ابتدائی قاعدے کے درجات ہی متعارف تھے ۔ ان ہی مدرسوں میں سے ایک بانڈی پورہ کا دار العلوم رحیمیہ بھی تھا جہاں پر مولانا رحمت اللہ قاسمی صاحب کے ایماء پر آپ نے تقریبا ایک سال کام کیا ۔ ان دنوں دار العلوم رحیمیہ اس کی آج کی عصری ونگ فیض عام پبلک اسکول کی جگہ پر قائم تھا ۔یہاں مولانا رحمت اللہ قاسمی صاحب سے مل کر تقریبا 15 بچوں کو جمع کر کے تعلیم و تدریس کا سلسلہ شروع کیا ۔ تاہم بقول مولانا تعلیم بڑی محنت اور لگن سے حاصل کی تھی اور مآخذ کتب سے لگاؤ تھا لہذا قاعدہ پڑھانے میں دل نہیں لگا ۔ مجھے اس چیز کی آرزو تھی کہ میں کہیں کسی بڑے مدرسے میں رہ کر بڑی درسی کتابوں کو پڑھاؤں تاکہ طلباء کو فایدہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ اپنی علمی پیاس بھی بجھتی رہے ۔مولانا فرماتے ہیں کہ " اس اضطراب کی کیفیت میں میں نے اپنے شفیق و مربی استاد شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری رحمہ اللہ کو خط لکھا تو انہوں مجھے بذریعہ خط وہاں بلا لیا اور میرا تقرر ضلع میرٹھ کے دار العلوم حسینیہ میں فرما دیا ۔یہاں میری دلی مراد پوری ہوئی اور مجھے مشکواةشریف ،ھدایہ آخرین اور سراجی وغیرہ بڑی درسی کتابیں پڑھانے کا موقعہ وشرف حاصل ہوا " ۔ اسی اثنا میں گھر واپس آنا ہوا پھر بقول مولانا واپس جانےکی کوئی صورت بن نہ پڑی ۔ اس مدرسے میں مولانا نے تقریبا دو سال درسی خدمات انجام دیں۔
اسکے بعد پھر گھر واپس لوٹ گئے کچھ عرصہ گزار کر پھر بارہمولہ آیا اور چھ سال تک یہاں مقیم رہا۔ اس دوران امیر احمد خان صاحب کی نگرانی میں جامع العلوم جس کو آج دار العلوم سبیل الرشاد کے نام سے جانا جاتا ہے میں کام کیا ۔ یہ مدرسہ اس زمانے میں موبائل یا چلتا پھرتا مدرسہ تھا کیونکہ کوئی خاص ٹھکانا میسر نہیں ہوا تھا ۔ امیر احمد خان صاحب کی کوششوں کے باوجود کسی نے اس مدرسے کے لیے زمین یا کوئی مکان وغیرہ وقف نہیں کیا ۔ ان چھ سال میں سے چار سال گنائی ہمام کے ایک بوسیدہ مکان میں گذارے اور بقیہ دو سال آرمپورہ کی ایک درس گاہ میں بتائے۔ محلہ گنائی ہمام میں ایک شخص جس کا نام عبد الاحد تھا نے اپنا مکان کرایہ پر دیا اور اسی میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اس موبائل مدرسے کے اولین طلباء میں سے علاقہ نارواو کے مایہ ناز ندوی عالم دین حضرت مولانا یوسف جمیل ندوی صاحب بھی ہیں اور پھر یہ مدرسہ چیرہ داری منتقل ہوا۔ چونکہ مولانا غلام محمد قاسمی صاحب کا نکاح چیرہ داری کی ایک با اثر شخصیت حضرت غلام محمد وانی صاحب کی لڑکی سے ہوا تھا لہذا ان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ان کو وہاں ایک قطعہ زمیں میسر ہوئی جس میں آج دار العلوم سبیل الرشاد قائم ہے ۔ واضح رہے محترم الحاج غلام محمد وانی دعوت و تبلیغ کے ان ابتدائی احباب میں سے ہیں جنہوں نے اس تحریک کو پوری وادی میں متعارف کروایا اس اعتبار سے تحریک دعوت و تبلیغ کے ان احباب میں سے ہیں جو وادی کشمیر میں اس محنت کے بنیادی اور مؤسس ارکان ہیں ۔ ژیرہ داری منتقل ہونے کے بعد آپ نے دو سال آرمپوہ کی ایک مسجد میں امامت بھی کی ۔ یہاں بارہمولہ میں رہ کر چھے سال گزارنے کے بعد آپ پھر گھر واپس لوٹے ۔
اللہ تعالی کی مشیئت کہ یہاں سے اسی دوران محترم آسی غلام نبی وانی صاحب لکھنؤ ایک دعوتی سفر پر تشریف لے گئے تھے اور وہاں پر آپ کی ملاقات ندوہ العلماء لکھنؤ میں حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ سے ہوئی ۔ مولانا نے آپ کو واپس کشمیر لوٹنے پر اپنے علاقے میں ایک دینی مدرسہ قائم کرنے کی ترغیب دی اور فرمایا کہ اس کا الحاق یا تو دارالعلوم دیوبند سے رکھا جائے یا دارالعلوم ندوہ سے۔ وطن واپسی پر ایک متمول اور دعوتی فکر رکھنے والے بزرگ مرحوم حاجی عبد السبحان لون صاحبؒ کو اللہ تعالی نے اس کام کے لیے قبول فرمایا تھا اور انہیں مدرسہ کے لیے زمین وقف کرنے کا ذہن بنا تھا ، یہ 1986 سنہ عیسوی کی بات ہے ، بعد میں اس نے اس خیال کو عملی جامہ پہنا دیا اور ایک قطعہ زمین وقف کر ہی دیا۔چنانچہ1990 ء میں واقف نے یہ قطعہ زمین باقاعدہ ایک عدالتی وقف نامہ کے تحت آسی غلام نبی وانی ہی کے ذریعہ سے " مدرسہ اسلامیہ عربیہ دار العلوم شیری" کے نام وقف کی۔جیسے کہ حضرت مولانا علی میاں ندویؒ نے دیوبند یا ندوہ سے ربط کی خواہش ظاہر فرمائی تھی،لہٰذا ان کی خواہش کے مطابق اس ادارے کا الحاق دیوبند کے ساتھ کیا گیا۔ حضرت علی میاں صاحب اگر چہ خود دارلعلوم ندوہ کے ساتھ وابسطہ تھے تاہم مشورہ دیتے وقت انہوں نے الحاق کے سلسلے میں پہلے دیوبند کا ذکر فرمایا اور بعد میں اپنے ادارے کا۔ اس سے ان بزرگوں کے اخلاص اور للٰہیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ دیوبند کا انتخاب اس لیے مقدم رکھا گیا کیونکہ حضرت نے پہلے دار العلوم دیوبندکا نام لیا۔
زمین تو مہیا ہوئی لیکن اب ادارے کو چلانے کے سلسلے میں ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو اسے اصولوں کے تحت چلائے ۔اس سلسلے میں مجلس شوری نے مشورہ کیا اور مفتی عبد اللہ قاسمی صاحب کو اس ذمہ داری کے لیے بہت ہی موزوں آدمی پایا ۔ چونکہ آپ نے اس سے پہلے بھی بارہمولہ میں کام کیا تھا اس لیے مجلس شوری کے احباب کو ان کا تعارف تھا ۔ لہذا مدرسہ اسلامیہ عربیہ دار العلوم شیری کی مجلس شوری نے انہیں بحیثیت مہتمم ذمہ داری سنبھالنے کی گزارش کی ۔ مجلس شوری نے آپ کے پاس محترم غلام محی الدین تانترے صاحب کو بھیجا اس طرح آپ نے یہ پیشکش قبول فرمائی اور یہاں تشریف لے آئے ۔ بقول موصوف مدرسہ عربیہ اسلامیہ دار العلوم شیری کا دستور مہتمم کے انتخاب کے سلسلے میں یہ تھا کہ" مجلس شوری اس شخص کوجو کسی مستند دینی ادارے کا فاضل ،ظاہر و باطن کے اعتبار سے شریعت کا پابند اور انتظامی صلاحیتوں کا حامل ہو مدرسے کا مہتمم مقرر کرے گی اور وہ ہر اعتبار سے شوری کے سامنے جوابدہ ہوگا "۔ مجلس شوری نے موصوف کو ان خوبیوں کا حامل پایا لہذا ان کو اہتمام کی زمہ داری سونپ دی اور اس طرح موصوف نے مجلس شوری کے تحت کم و بیش دو سال تک مدرسے کے اولین مدرس و مہتمم کی حیثیت سے خدمت انجام دی ۔ مفتی موصوف مدرسے میں دن رات قیام پذیر رہے اور علاقے کی مضافات میں مجلس شوری کے احباب خصوصا آسی غلام نبی وانی صاحب کے ساتھ چل پھر کر چند والدین کو اپنے بچے مدرسے میں داخل کرانے پر آمادہ کیا ۔
جس طرح ازھر الھند دار العلوم دیوبند اور دار العلوم مظاہر العلوم و غیرہ امہات المدارس میں مجلس شوری کو انتظامی امور سنبھالے کا مکمل اختیار ہوتا ہے اور وہ سال میں کم سے کم دو مرتبہ شوری بٹھا کر مہتمم کو چھے مہینے تک ھدایات کا ایک ٹارگٹ دیتے ہیں اسی طرح اس مدرسے کا بھی منہج تھا ۔ واضح رہے اسی منہج کو سامنے رکھ کر اس مدرسے کا ایک دستور مرتب کیا گیا جس کو اس وقت کی شوری نے منظور کیا اور اس طرح یہ کشمیر کا پہلا مدرسہ ہے جو ایک مرتب دستور کے تحت آج بھی چل رہا ہے ۔
دارالعلوم شیری میں آپ نے بڑے ہی خوشگوار ماحول میں مجلس شوری کی نگرانی و سرپرستی میں اپنی تدریسی و انتظامی خدمات انجام دیں ۔ یہاں سے رخصت ہو کے آپ نے دارلعلوم قاسمیہ سرینگر میں مولانا احمد سعید شاہ صاحب لولابی کے ساتھ بھی تقریبا 6 سال کام کیا ۔ اس کے بعد آپ دیوبند میں بحیثیت نائب مفتی دار الافتاء دار العلوم دیوبند منتخب ہوئے اور وہیں منتقل ہوئے ۔ یہاں رہ کر آپ نے بارہ سال اپنی خدمات انجام دیں اور بدقسمتی سے ایک حادثہ کے شکار ہوئے جس سے آپ کی صحت پر زبردست اثر پڑا اور آپ اس سلسلے کو جاری نہیں رکھ سکھے ۔ آپ کی زیر تحقیق بڑے بڑے علمی ، عصری اور سیاسی مسائل جو فقہی نوعیت کے تھے کے تحقیقی جوابات قلم و قرطاس کے حوالے ہوئے وہ دار العلوم دیوبند کے دار الافتاء میں محفوظ ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو حاصل کیا جائے اور ان کو الگ سے شائع کیا جائے تاکہ کشمیر کے اس مایہ ناز عالم دین کی وہ خدمت جو انہوں نے ازھر الہند دار العلوم دیوبند میں انجام دی کو خاص و عام کے استفادہ کے لیے علمی دنیا میں دستیاب رکھا جائے ۔ مجلس علمی جموں و کشمیر اس سلسلے میں کوشش کرے گی ۔اللہ سے دعا ہے کہ مجلس کے ذریعے یہ کام معرض وجود میں ائے۔ آمین
سالک بلال
نائب سرپرست ماہنامہ راہ نجات بارہمولہ
نوٹ: مولانا کی ذات، حالاتِ زندگی اور علمی و دینی خدمات سے متعلق تمام معلومات براہِ راست مولانا سے ہونے والی تفصیلی ملاقات اور انٹرویوکی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔