آہ! مولانا سید سلمان ندوی حسینی صاحب نہ رہے ۔
آج 29 جو ن 2026 عیسوی بمطابق 13 محرم 1448 ھجری صبح سویرے بذریعہ پوسٹ جو برخوردار مولانا و مفتی ابرار الحق ندوی سلمہ اللہ نے الدائرہ العلمیہ میں ڈالا تھا سے معلوم ہوا کہ مولانا سلمان ندوی صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ جہاں تک مولانا کی شخصیت کا تعلق ہے وہ ایک بڑے عالم اور مفکر تھے ۔ ان کی علمی شان کے معترف ان کے ساتھ اختلاف کرنے والے بھی ہیں اور ایسا کرنا انصاف کا تقاضا بھی ہے ۔ علمی دنیا میں بہت سے علماء ، مفکرین اور مورخین ایسے گزرے ہیں جن کی تشریحات ،تاویلات اور معتقدات سے اہل السنہ نے اختلاف ہی نہیں بلکہ برملا رد بھی کیا ہے۔ تاہم انہوں نے جو کام علمی دنیا میں کیے ان سے بغیر کسی عار کے استفادہ بھی کیا ہے ۔علامہ زمخشری کی تفسیر "الکشاف" دینی اداروں میں پڑھایا جاتا ہے اور مفسرین ، فقہاء اور محققین ان کی صحیح تشریحات اور استدلالات کا یہ کہہ کر رد نہیں کرتے کہ وہ معتزلہ عقائد کے علم بردار تھے ۔ اسی طرح بعض عقائد کی تعبیر میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے موقف کے ساتھ علماء نے اختلاف کیا ،حتی کہ علامہ انور شاہ صاحب کشمیری رحمہ اللہ ان کی علمی شان کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی چند آرا ء سے اختلاف رکھتے تھے۔مگر اس کے باوجود ان کے فتاوی اور استدلال کو ہمارے علماء بغیر کسی لیت و لعل کے بیان کرتے ہیں ۔ مولانا علی میاں نے تاریخ دعوت و عزیمت میں انکے علمی اور روحانی محاسن کو خوب علمی پیرائے میں بیان کیا ہے ۔بہر حال اس قسم کی بہت ساری مثالیں دی جاسکتی ہیں جن سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ شدید اختلاف کے باوجود (اور وہ بھی معتقدات میں) علماء نے ان کے محاسن بیان کرنے اور مفید چیزوں کو لینے میں بخل سے کام نہیں لیا ہے ۔ اس تناظر میں جب ہم مولانا سلمان ندوی صاحب کی شخصیت کو دیکھتے اور پرکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سارے علماء جو ان کے ہم عصر ،ہم مکتب اور ہم مشرب رہےہیں نے ان کے چند نظریات اور فکری تفردات کے بارے میں شدید تحفظات کا برملا اظہار کیا ہے ۔چونکہ مولانا اصل میں حدیث کے طالب علم تھے لہذا اس باب میں انکی کاوشیں علماء کے نزدیک قابل تحسین رہی ہیں تاہم تاریخ اور حدیث میں کہیں کہیں جو تضاد نظر آرہا ہے اس میں ہمارے متقدمین کی طرح مولانا ایک معتدل اور قابل قبول رائے قائم نہیں کر سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ مشاجرات صحابہ میں جو ہمارے اسلاف نے احتیاط کا پہلو اختیار کیا ہے اس میں مولانا کا انداز بالکل برعکس نظر آرہا ہے ۔جب میں نے 2019 عیسوی میں علی گڈھ کے ایک مایہ ناز استاذ پروفیسر مولانا مظہر یاسین صدیقی رحمہ اللہ سے مولانا سلمان ندوی صاحب کی شخصیت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ حدیث میں انکو کافی درک حاصل ہے تاہم سیاسیات اور دوسرے ابواب میں ان سے لغزشیں ہورہی ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ کاش ان کو علی میاں صاحب رحمہ اللہ نے صرف حدیث کے ساتھ مشغول رہنے کا پابند بنایا ہوتا تو بے انتہا فایدہ ہوا ہوتا۔ الغرض علمی تسامحات اور استدلالی لغزشوں کا ہوناعلمی میدان میں کوئی نئی بات نہیں اور یہ علماء کا فریضہ ہے کہ وہ ہر اختلافی بات کا تجزیہ کرتے ہیں اور بعد تجزیہ قبول یا رد کا فیصلہ سناتے ہیں ۔ لہذا جن اہلیان علم نے مولانا کی پکڑ کی ہیں وہ کسی بھی طرح غیر مخلص قرار نہیں دیے جاسکتے ہیں ۔ یہ انکا علمی فریضہ ہے جس کا پورا نہ کرنا کافی مفسدات کا بیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح ہے کہ مولانا ایک جید عالم دین ،مفکر اور شعلہ بیان مقرر تھے ۔ عالم اسلام کے حالات پر ان کی کافی نظر تھی ۔ اتحاد امت کے خواہاں تھے اور عرب حکمرانوں کی تعیش پسندی کے مخالف تھے ۔ مولانا کے مختلف فیہ خیالات اور نظریات کو یکسو چھوڑ کر ان کی پوری شخصیت اس بات کی بین دلیل ہے کہ اپنی تقاریر اور تحاریر سے امت کو بے حسی پر جھنجھوڑنے والا مبلغ اب شاید ہی ایسا کوئی اٹھے گا ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔
(از) سالک بلال
نائب سرپرست ماہنامہ راہ نجات بارہمولہ کشمیر