" علماء کو بھی تربیت کی ضرورت پڑتی ہے "
از قلم 🖊️ ڈاکٹر شکیل شفائی حفظہ اللہ ۔
امام بيضاوي رحمہ اللّٰہ ساتويں صدی ہجری کے شافعی عالم ، مفسر ، لغوی ، اصولی اور ادیب تھے - ان کی جملہ تصانیف میں سب سے زیادہ مشہور ان کی تفسیر " انوار التنزیل و اسرار التأویل " ہے - یہ تفسیر نوادرِ بلاغت اور لغوی تحقیقات کے اعتبار سے ایک شاہکار ہے - امام بیضاوی رح نے اس کے مباحث میں امام زمخشری رح کی تفسیر " الکشاف" سے خاصا استفادہ کیا ہے البتہ ان کے اعتزالی نظریات کا رد بھی کیا ہے نیز اہلِ سنت کے عقائد کی بھرپور حمایت و وکالت بھی کی ہے -
تفسیر بیضاوی پوری اسلامی دنیا میں مدارس میں پڑھائی جاتی رہی ہے اور آج بھی اس کا ایک حصہ برصغیر کے مدارس کے نصاب میں داخل یے -
امام بیضاوی رح کے حالات میں نقل ہوا ہے کہ جب انہوں نے اپنی تفسیر مکمل کی تو وہ بغداد آگئے - وہاں کسی مردِ حق آگاہ سے ملاقات ہوئی - وہ بھی ایک عالم تھے البتہ صوفی بھی تھے - اُس نے اِنہیں اجنبی پایا تو بغداد وارد ہونے کی وجہ پوچھی - امام بیضاوی نے فرمایا کہ میں نے قرآن مجید کی ایک تفسیر لکھی ہے میں اسے خلیفہ اور دوسرے اہلِ ثروت کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہ میری کچھ مالی امداد کریں - میری جوان بیٹیاں ہیں اور مجھے ان کی شادی کے لیے کچھ سامان اور خرچے کی ضرورت ہے -
اب ظاہر ہے اس میں شرعاً کوئی قباحت نظر نہیں آتی - یہ استعانتِ ظاہری تھی اور اس کے جواز پر سب کا اتفاق ہے لیکن بقولِ اقبال وہ لوگ " نظر جن کی خدا پر ہوتی ہے " ان کے پیش نظر معصوم علیہ السلام کا یہ قولِ مبارک رہتا ہے " ليسئل أحدكم ربه حاجته كله حتى يسئل شسع نعله إذا انقطع" - وہ صاحب باتوں باتوں میں پوچھ بیٹھے : " آپ نے آیت" اياك نعبد و اياك نستعين " کی کیا تفسیر لکھی ہے ؟
امام بیضاوی نے کتاب کھولی اور پڑھنے لگے:
" إن تقديم المفعول " إياك" يُفيد الحصر و الاختصاص أي : لا نعبد إلا إياك ولا نستعين إلا بك و فيه إظهار لكمال الإخلاص لله تعالى في العبادة و الاستعانة "
ان صاحب نے استفسار کیا : اس کا مطلب بھی بتائیے : قاضی بیضاوی نے کہا :
" اياك " مفعول ہے اور اسے آیت میں مقدم کیا ہے جو حصر اور اختصاص کا فائدہ دیتا ہے مطلب یہ ہے کہ ہم آپ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اور نہ مدد طلب کرتے ہیں مگر آپ سے ، اس میں عبادت و استعانت میں اللہ تعالیٰ کے لیے کمالِ اخلاص کا اظہار ہے -
" ما شاءاللہ ! زبردست تفسیر لکھی ہے لیکن کتنی عجیب ہے کہ آپ تفسیر میں استعانت کو اللہ کے لیے خاص کر رہے ہیں اور ماسوا سے مدد و اعانت کی نفی کرریے ہیں لیکن خود اتنا بڑا فاصلہ طے کرکے یہاں کے حکام سے ملنے آئے ہیں تاکہ وہ آپ کی مدد کریں "
یہ الفاظ قاضی صاحب پر بجلی بن کر گرے - وہ کچھ سوچ میں پڑ گئے - قرآن کی تفسیر بیان کرنے اور پھر عملی طور پر اس قرآنی سانچے میں ڈھلنے میں کتنا فرق تھا ؟
وہ الٹے پاؤں لوٹ آئے - انہوں نے سب سے دل اٹھا لیا - اخلاص و استخلاص کی وہ مثال قائم کردی کہ ان کی بیٹیوں کی شادی بھی ہوگئی اور ساتھ ہی تفسیر کو وہ قبولِ عام حاصل ہوا کہ آج تک بلا ناغہ پڑھی جاتی ہے ، سمجھی جاتی ہے -