الحاج مرحوم پیر محمد یحیی صاحب شیری

Aasi Ghulam Nabi
Tuesday 14th of April 2026 08:32:50 AM


مرحوم الحاج پیر محمد یحیی شاہ صاحب ۔ اخلاص و اعتدال کا روشن استعارہ ۔ 

پیر محمد یحیی شاہ صاحب علاقہ نارواو کے ایک معروف گھرانے کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔ان کے والد بزرگوار ایک باوجاہت بزرگ تھے جن کے ساتھ لوگوں کو کافی عقیدت تھی اور وہ بھی حسب روایت لوگوں کی دلجوئی فرماتے تھے ۔اسی روحانی و اعتقادی ماحول میں پیر صاحب کی تربیت ہوئی تھی۔ پیشے کے لحاظ سے موصوف محکمہ تعلیم میں ایک سئنیر استاد بھی تھے جہاں ان کا رویہ ساری استاد برادری کے ساتھ ہمیشہ بڑا رحیمانہ اور کریمانہ رہا کرتا تھا ۔

 مرحوم کشمیر کی ایک اعلی روحانی و علمی شخصیت کے مالک یعنی امیر شریعت مفسر قرآن حضرت مولانا قاسم شاہ صاحب بخاری کے ساتھ اپنے شباب سے ہی منسلک ہوئے اور ان کی تحریک " انجمن تبلیغ السلام " کے ساتھ ابتداء ہی سے وابسطہ رہے ۔ مرحوم نے انجمن کو اپنا مشن بنایا اور اس کے نظم کے تحت اکثر سال میں ایک دو دفعہ بڑے اہتمام کے ساتھ علامہ بخاری رحمہ اللہ کو مدعوکرتے اور پھران کی خوب عزت افزائی فرماتے تھے۔ ان کے ساتھ جتنے بھی مہمانان کرام ہوتے تھے ان کی آو و بھگت کا سارا بوجھ خود ہی برداشت کرتے تھے ۔ مرحوم کا معمول تھا کہ سال میں ایک دفعہ میلاد النبی کا اجتماع منعقد فرماتے تھےاور اس پر ایک خطیر رقم خرچ کرتے تھے اور سینکڑوں مہمانان کرام کو کھلاتے پلاتے تھے ۔ وادی میں پیری مریدی کے عمومی رحجان کی تاریخ چونکہ بہت پرانی ہے لہذا مرحوم نے اپنے والد مرحوم کی طرح اس روایت کو حسب دستور زندہ رکھا ۔اس طرح کافی لوگ ان کے ساتھ وابستہ تھے ۔

 

ایک دفعہ انہوں نے مفسر قرآن مولانا قاسم شاہ بخاری صاحب کی تشریف آوری کے موقع پر دوسری تحریک کے ساتھ وابستہ کئی دیگر ذی عزت افراد کو بھی مدعو کیا اور بڑی لجاجت کے ساتھ مشورہ دیا کہ اگر کسی بھی صاحب کو کوئی بھی سوال پوچھنا ہو تو وہ حضرت مولانا سے پوچھ سکتے ہیں۔ اس قسم کی مجالس کے انعقاد کے پیچھے خدا کے اس مخلص بندے بندے کی غرض صرف یہ تھی کہ مسلمان آپس میں کسی تلخی کا شکار نہ ہوجائیں اور مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد قائم رہے ۔ اگر چہ پیر صاحب مجھ سے چند برس عمر میں بڑے تھے لیکن میرے ساتھ بھی ان کا رویہ ان کے محبتی مزاج کے اعتبار سے بڑا مشفقانہ اور محبانہ رہا ۔ لہذا مولانا بخاری صاحب کی تشریف آوری پر آپ مجھے بطور خاص مدعو کرتے تھے ۔ آپ اکثر نماز جمعہ شیری جامع مسجد میں ادا کرتے تھے جہاں پر احقر چالیس سال سے خطابت کا فریضہ انجام دیتا آیا ہے ، اور پیر صاحب اکثر پہلی صف میں بیان شروع ہونے کے ساتھ تشریف فرما ہوتے تھے اور بڑی محبت شفقت کے ساتھ بیان وغیرہ سنتے تھے ۔ اور جب احقر کشمیر کے اولیاء کرام کے تاریخی واقعات اور مثنوی مولانا روم کی حکایتیں بیان کرتا تھا تو آپ پر اکثر و بیشتر رقعت طاری ہوتی تھی اور پھر بعد نماز میرے پاس آکر اپنی قلبی مسرت کا اظہار کرتے تھے ۔ لہذا مجھے بار بار اصرار کرتے تھے کہ آپ مثنوی مولانا روم کا ورد بار بار اپنے بیانات میں جاری رکھیں کیونکہ ان کے روحانی کلام سے مسلمانوں کو بہت بڑا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اور اکثر کہا کرتا تھا کہ اس دور فتن میں ہم جیسے لوگوں پر بہت زیادہ زمہ داری عاید ہوتی ہے کہ ہم لوگوں کے سامنے صحیح واقعات بیان کریں کیونکہ اس میں کئی فائدے ہیں ،جن میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہمارا ان بزرگوں کے ساتھ تعلق قائم رہے گا ۔ 

جب احقر نے سنہ 2012 سے مجلس علمی جموں و کشمیر اور راہ نجات کے دعوتی و علمی کام کا باقاعدہ آغاز کیا تو مرحوم پیر محمد یحییٰ شاہ صاحب نہایت محبت اور اخلاص کے ساتھ مجلس کے پروگراموں میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔ اسی نوعیت کا ایک پروگرام جب ستمبر 2023 ، العلم لائبریری فتح گڑھ میں مجلس علمی کے زیر اہتمام ایک اہم علمی سیمینار منعقد ہوا، جس میں امیر شریعت مفسر قرآن مولانا قاسم شاہ بخاری رحمہ اللہ کے علمی جانشین اور سیرت البخاری کے مصنف مولانا شوکت حسین کینگ صاحب مدعو کیے گیے تھے ۔جب آپ کو یہ اطلاع ملی کہ امیر شریعت کے علمی جانشین اس نشست میں تشریف لا رہے ہیں تو اس مردِ درویش کو علامہ بخاری کی محبت و عقیدت نے چین سے نہ بیٹھنے دیا اور پیرانہ سالی کے باوجود خود تشریف لائے اور پوری نشست میں ابتدا سے اخیر تک نہایت انہماک اور خاموشی کے ساتھ شریک رہے۔ مزید یہ کہ جب بھی مولانا کینگ صاحب اپنے بیان کے دوران علامہ بخاری صاحب رحمہ اللہ کا تذکرہ فرماتے تو آپ کی آنکھیں نم ہو جاتیں اور بے اختیار آنسو رواں ہو جاتے، جو ان کے قلبی تعلق، اخلاص اور اہل علم سے سچی محبت کا جیتا جاگتا ثبوت تھے۔

یہ سارے واقعات اس وقت ہماری آنکھوں کے سامنے آرہے ہیں اور بڑی آرزو کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ خد رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را ۔

آسی غلام نبی وانی ۔ 

مؤسس مجلس علمی جموں و کشمیر و سرپرست ادارہ راہ نجات بارہمولہ ۔