کپواڑہ اور وادئ لولاب کی روح پرور فضا علم و ادب اور حکمت و دانائی کو ایک استعارہ ہے

ابرار الحق وانی ندوی
Friday 3rd of April 2026 04:55:23 PM


کپواڑہ اور وادئ لولاب کی روح پرور فضا علم و ادب اور حکمت و دانائی کو ایک استعارہ ہے 

پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب

مرغانِ سحر تیری فضاؤں میں ہیں بیتاب

اے وادیِ لولاب

اسی وادئ لولاب سے وہ چشمہ پھوٹا ہے جس سے پوری امت مسلمہ سیر ہوئی اور ہنوز فیضان جاری و ساری ہے اور دن بدن فیض یافتگان کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جارہا ہے ، اور اسی کپواڑہ سے وہ شمس بھی طلوع ہوا جس نے چاروں جانب روشنیاں بکھیری اور ہر شب کو روشن کیا اور ہر ظلمت کو نور کر دیا اور یہ سلسلہ بھی اپنی پوری طاقت و قوت کے ساتھ جاری و ساری ہے ، یکم اپریل 2026 بروز بدھ کو ہمیں اس منبع علم و ادب جامعہ شمس العلوم کپواڑہ میں حاضر ہونے کی سعادت حاصل ہوئی داخل ہوتے ہی حضرت اقدس پیر شمس الدین نور اللہ مرقدہ کے مرقد مبارک پر نظر پڑی دیکھتے ہی وہ اخلاص و للہیت کا بحر بیکراں اور علم و فضل کا مجسمہ ذہن مین گردش کرنے لگا جن سے بارہا ملاقات کے لیے ہم یہاں حاضر ہوا کرتے تھے اور لب پر فارسی زبان کا یہ مصرعہ جاری ہوا 

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را 

یہاں مولانا پیر جعفر ندوی صاحب باہر انتظار کر رہے تھے دیکھتے ہی ہمارے طرف چلے آئیں اور ہم ان کی طرف مصافحہ و معانقہ کے بعد آفس میں حاضر ہوئے وہاں حضرت پیر عبد الرشید صاحب سے ملاقات ہوئی اور مدرسے کے دیگر اساتذہ کرام سے بھی ملاقات ہوئی ، یہاں کھانے سے فارغ ہو کر ہم ایک قافلے کی شکل میں لولاب کی جانب روانہ ہوئے جس میں بھٹکل کے دو مہمان بھی شریک تھے ورنو لولاب میں امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے والد مرحوم حضرت مولانا معظم شاہ اور دیگر اہل خانہ رحمہم اللہ اجمعین کے مرقد پر فاتحہ خوانی کی اور بیت امام العصر کا نظام بھی کیا اور واپسی کے لیے تیار ہوئے مولانا اصغر شاہ لولابی سے پہلے ہی فون پر بات ہوچکی تھی وہ بھی راستہ میں تھے ان سے ملاقات ہوئی اور ان کے دولت خانے پر حاضر ہوئے مولانا موصوف نے پر تکلف چائے ناشتہ سے مہمان نوازی فرمائی اور اس پر مستزاد ان کے اخلاق حسنہ اور علمی ذوق نے سفر کی تھکان دور کر دی یہاں سے ہم نے گھر کے لیے رخت سفر باندھا اور پہلے نطنوسہ مولانا شمشاد ندوی کو چھوڑا اور پھر یہاں سے وسکورہ پہنچیں جہاں حافظ ریاض صاحب کے گھر پر ان سے اور کے گھر والوں سے ملاقات ہوئی اور چائے پی کر گھر روانہ ہوئے اور بھٹکل کے ساتھی اب ہمارے مہمان بن چکے تھے بالآخر رات دس بجے کے آس پاس تھکن سے چور ہم گھر پہنچے اور نیند کی آغوش میں چلے گئے ۔

 

ابرار الحق وانی ندوی 

4 اپریل 2026