عربی زبان اور فہم شریعت
جہان تک عربی زبان سیکھیے بغیر شریعت کے سمجھنے کا تعلق ہے اس وقت سوشل میڈیا پر اس سے متعلق کافی کچھ بولا اور لکھا جارہا ہے ۔ کچھ لوگ عربی زبان میں غیر ماہر حضرات کے فہم دین اور سوجھ بوجھ پر کلام کرتے ہیں جبکہ ایسے دانشور حضرات جن کو اس زبان میں درک حاصل نہیں وہ اس زبان میں درک حاصل کرنے کی قطعا ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔ دونوں طرف سے افراط و تفریط ہے ۔ جہاں تک عربی زبان کا تعلق ہے اسی زبان میں قرآن نازل ہوا ،جن پر نازل ہوا ان کی زبان بھی عربی تھی اور جو اس کے اولین مخاطب تھے وہ بھی عربی زبان جاننے والے تھے ۔
معلوم ہوا شریعت کو سمجھنے کے لیے پہلا سورس عربی زبان ہے کیونکہ یہی وہ زبان ہے جس میں اللہ کے احکامات نازل ہوئے اور ان احکامات کے شارح جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان کی زبان بھی عربی ہی تھی اور انہوں نے جن کے سامنے اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی شریعت مطہرہ کی شرح بیان کی وہ بھی زیادہ تر عربی زبان بولنے والے تھے۔ لہذا شریعت کی تعلیم و تفہیم اور شرح و تنقیح کے لیے عربی زبان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ قرآن کریم کا ثانوی زبانوں میں باضابطہ ترجمہ بعد کی بات ہے جبکہ دوسروں تک دین کا پیغام پہنچانے کے لیے ترجمہ کاروں اور ایلچیوں کا ثبوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ملتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ دین کی تفہیم ترجمے کے ذریعے سے بھی کی جاسکتی ہے تاہم جو پیغام سمجھایا جاتا ہے وہ عربی میں ہی محفوظ ہے ۔ اور یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ترجمہ خواہ کتنا ہی خوب کیوں نہ ہو تاہم وہ اصل نہیں بلکہ ثانوی درجہ ہی رکھتا ہے ۔ اس اعتبار سے دین حق کو مآخذ زبان سے سیکھنا اور سمجھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا بذات خود دین ۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے اتنی اہمیت کے باوجود یہ ایک ذریعہ ہے نہ کہ مقصد ۔ تاہم مقصد تک پہنچنے کے لیے جو ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں وہ مقدمہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ مسلمہ اصول ہے کہ "واجب کا مقدمہ واجب ہی کا درجہ رکھتا ہے "۔ اسی لیے امت میں علماء کا ایک ایسا گروہ جو دین مبین کو سمجھنے کے لیے تمام جزوی و ضروری علوم میں مہارت تامہ رکھتا ہو کا ہونا واجب علی الکفایہ ہے ۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مسجد ،عید گاہ وغیرہ کا ہونا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے لیکن مسجد وعید گاہ تک پہنچنے کے لیے راستہ ہونا چاہیے اور بغیر راستہ کے عید گا تک تقدیم نہیں ہوسکتی لہذا راستے کی اہمیت اور ضرورت کو غیر اہم سمجھنا صریح حماقت اور جہالت تصور کی جائے گی۔ اسی طرح عربی زبان سمجھنے کی اہمیت و افادیت کا سرے سے انکار کرنا بھی کوئی دانشمندی کی بات نہیں ۔
یار زندہ صحبت باقی