ماورائے عقل اور خلاف عقل

سالک بلال
Saturday 17th of January 2026 10:18:51 AM


ماوراءعقل اور خلاف عقل میں فرق

 

بہت سارے لوگ ماوراء عقل اور خلاف عقل  ہونے والی باتوں میں تمیز نہ کرنے کی وجہ سے بڑے حقائق کا انکار کر بیٹھتے ہیں ۔ اور اس قسم کا رویہ فکری گمراہی کا سر چشمہ بن جاتا ہے ۔ خلاف عقل ہونا الگ بات ہے اور ماوراء عقل ہونا الگ ۔ ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جوعقل کے دائرے میں نہ انےکے باوجود اپنے وجود اور ماہیت کے اعتبار سے حقیقت ہوتی ہیں لہذا ان کو جھٹلانا بذات خود کم عقلی پر دلالت کرتا ہے ۔علمی اور تجرباتی تاریخ نے یہ بات ثابت کر کے دی ہے کہ بہت سی باتیں وہ ہیں جو ایک دور کے تمام عقلاء کے نزدیک خلاف عقل اسلیے سمجھی جاتی تھیں کہ ان کی عقلیں ان باتوں کا ادراک کرنے سے عاجز رہیں ،مگر وہی باتیں علمی ترقی کے دوسرے دور میں جاکر نہ صرف ممکن الوقوع قرار پائی بلکہ مشاہدہ اور تجربہ میں بھی آگئیں۔ لہذا اگر کوئی شئےکسی ایک انسان یا جماعت یا کسی دور کے تمام اہل عقل کے نزدیک ماوراء عقل ہونے کی وجہ سے خلاف عقل کہلانے کی مستحق  تھی تو وہ دوسرے دور میں کیوں کر عقل کے لیے ممکن ہوئی اور مشاہدہ میں آگئی ۔

یہ ایک فکر انگیز سوال ہے جس کا سمجھنا ہمارے لیے ضروری بنتا ہے ۔

مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی رحمہ اللہ قصص القرآن جلد چہارم میں حضرت عیسی علیہ السلام کے قصہ میں خلاف عقل اور ماوراء عقل امور کے درمیاں فرق سے متعلق لکھتے ہیں کہ"خلاف عقل بات وہ ہوسکتی ہے جس کے نہ ہوسکنے کے متعلق علم و یقین کی روشنی میں مثبت دلائل و براہین موجود ہوں اور عقل دلیل و برہان اور علم یقین سے یہ ثابت کرتی ہو کہ ایسا ہونا ناممکن اور محال ذاتی ہےاور ماوراء عقل اس بات کو کہتے ہیں کہ بعض باتوں کے متعلق عقل ہی کا یہ فیصلہ ہے کہ چونکہ انسانی عقل کا ادراک ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھتا اور حقیقت اسی حد پر ختم نہیں ہوجاتی لہذا ہر وہ بات جو عقل کے احاطہ میں نہ آسکتی ہو مگر اس کے انکار پر علم و یقین کے ذریعہ برہان و دلیل بھی دی جاسکتی ہوں تو ایسی بات کو خلاف عقل نہیں بلکہ ما وراء عقل کہیں گے ۔ خلاف عقل اور ماوراء عقل کے درمیان امتیاز ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ جن چیزوں کو کل کی دنیا میں عام طور پر خلاف عقل کہا جاتا رہا ان کو اہل دانش و بینش نے خلاف عقل نہ سمجھتے ہوئے موجودہ دور میں ممکن  بلکہ موجود کر کے دکھایا اور کل یہی عقل کی ترقی آج کی بہت سی ماوراء عقل باتوں کو احاطہ عقل میں لاسکے گی اور نہ معلوم یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا ۔

اسی لیے شریعت نے عقل میں نہ آنے والی ایسی باتوں پر جن کا تعلق مابعد کی زندگی سے ہے یا ایسے حقائق سے جن کا تعلق وجود باری یاعالم بالا سے ہیں (اور ان کا علم ہمیں حضور صلی اللہ کے ذریعے سے ہوا) پرحضور صلی اللہ ہی کےاعتماد پر یقین کرنے کی ترغیب دی ہے۔اسی اعتماد کو ایمان کہتے ہیں اور انکار کو کفر۔ لہذا اپنی محدود عقل کا استعمال کر کے ان کا انکار کرنا کسی بھی طرح عقل و دانش کا کام نہیں۔