شریعت اسلامیہ نے ہمیں ایسا اسوہ دیا ہے کہ اگر ہم من حیث القوم اس پر عمل کریں گے تو کسی بھی فرد ،ادارے اور جماعت پر کسی کو اعتراض کرنے کا موقعہ نہیں ملے گا ۔ اگر بفرض محال اعتراض ہونگے بھی تو ان اعتراضات کو رفع کرنے کے لیے جو جوابی اقدام ہونگے وہ بھی اگر اسوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اسوہ صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین کے مطابق ہونگے تو اس کی برکت سے ہر قسم کا اشکال رفع ہو جائیں گے ۔ ہمارے پاس جو سیرت کا ذخیرہ ہے اس میں اس قسم کی ایسی بے شمار روایات ہیں جن سے ہم رفع اشکالات کے اصول و ضوابط مستنبط کر سکتے ہیں اور ہمارے اکابرین نے کیے بھی ہیں ۔ مناصب اسلامیہ پر فائز حضرات اس سے روشنی حاصل کر سکتے ہیں ۔
مناصب پر فائز حضرات میں جو اوصاف ہونے چاہئیں ان کا تعین منصب کی نوعیت کو دیکھ کر ہی کیا جاسکتا ہے ۔ مثلا اگر کوئی آدمی مسلمانوں کا امیر یا ذمہدار ہےتو حضرت ابوبکر ،حضرت عمر ،حضرت عثمان،حضرت علی ،حضرت حسن بن علی اور حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنھم اجمین کے اسوے ان کے لیے مشعل راہ ہیں ۔ انہوں نے خلافت وامارت کے فرائض کیسے انجام دیے وہاں سے ہمارے فقہاء نے امارت ،خلافت اور انتظامی مناصب پر فائز حضرات کے لیے بیش بہا فقہی قوانیین اور ضوابط کا استنباط کیا ہے۔ مثال کے طور پر انتظامی عہدے پر فائض حضرات جن کی خدمات رات دن کسی ادارے کو ضرورت ہوں ان کا مشاہرہ کتنا ہوناچاہیے ؟یہ ایک سوال ہے اس کا جواب ہمارے اسلاف نے اسطرح تلاش کیا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ایک متوسط انسان کی گھریلوضروریات کیا ہیں ۔ان کو مد نظر رکھ کر اس ذمہدار کا مشاہرہ طے کیا جائے گا ۔ کیونکہ جس مال میں سے اس کو مشاہرہ دیا جارہا ہے وہ قوم و ملت کا سرمایہ ہے اس میں سے کسی کو آج کل کی اصطلاح میں لکشری زندگی گذارنے کے لیے ہر قسم کی سہولت فراہم کرنے کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ کیونکہ شریعت میں سادگی ،قناعت اور زہد جیسی اقدار اسراف والی زندگی سے احتراز کرنے کی طرف مشیر ہیں ۔ بیت المال سے حضرت عمر اور ابوبکر کے مشاہرے اس اصولی موقف کی تائید میں پیش کیے جاسکتے ہیں ۔
جب ہمارے اداروں کے زمہ دار حضرات اپنے اسلاف کے اس اسوے کی برعکس چلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ تو ان پر سوال کا اٹھنا ایک یقینی بات ہے ۔
جس طرح وہ اپنے ادارے کا نگران ہے ٹھیک اسی طرح وہ ان لوگوں کے اوصاف کا بھی نگران ہے جو اسکے مامور ہیں ۔ان کی صلاحیت اور صالحیت کو دیکھنا اور صلاحیت اور صالحیت کی بنیاد پر ان کی تقرر ی اور کام کا سونپنا اس کے بنیادی فرائض میں سے ہے ۔ جب وہ صلاحیت اور صالحیت کونظر انداز کرتا ہے اور ان کو محض قربت اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر کسی عہدے سے نوازتا ہے تو ادارہ تنزل کا شکار ہو جاتا ہے اور اس طرح اس کی انتظامی صلاحیت پر سوالات کا اٹھنا ایک فطری بات ہے ۔ اس سلسلے میں مسند ِاحمد کی روایت مشعل راہ ثابت ہوسکتی ہے ۔روایت ہے کہ”جس شخص کو عام مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری سپرد کی گئی ہو، پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی و تعلق کی بنا پر بغیر اہلیت معلوم کیے دے دیا، اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ نہ اس کا فرض مقبول ہے نہ نفل، یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہو جائے۔“(مسند احمد) مستدرک حاکم اور طبرانی کی روایت ہے کہ ”جس شخص نے کوئی عہدہ کسی شخص کے سپرد کیا، حالاں کہ اس کے علم میں تھا کہ دوسرا آدمی اس عہدہ کے لیے اس سے زیادہ قابل اور اہل ہے تو اس نے اللہ کی خیانت کی اور رسول کی اور سارے مسلمانوں کی۔“(مستدرک حاکم)
اس کا یہ مطلب ہوا کہ اس نے اہل کو چھوڑ کر نااہل کو زمہ داری سونپ دی اس اعتبار سے یہ زمہ دار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوے کے برعکس چل رہا ہے ۔ لہذا ایسے حالات میں فساد کا وجود میں آنا ایک لا بدی بات ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
إذا وُسِّدَ الأمر إلی غیر أہلہ فَانْتَظِرِ السَّاعَة
(صحیح بخاری:۹۵)
”جب تم دیکھو کہ امور کی ذمہ داری ایسے لوگوں کو سپرد کردی گئی ،جو اُن کے اہل اورقابل نہیں تو قیامت کا انتظار کرو۔“ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی آبادی کے تحفظ اور معاشرے کی سالمیت وترقی کا ایک بہت ہی اہم قانون بیان فرمایا ہے. یعنی جب نااہل افراد کو کوئی ذمہ داری یا عہدہ اورمنصب سپرد کیا جائے تو فساد یقینی ہے اوراب دنیوی نظام کو فساد سے کوئی نہیں بچا سکتا؛ اس لیے اب قیامت کا انتظار کرو!۔ اس میں خلافت سے لے کر ایک ادنیٰ ملازمت تک کے سارے مناصب اور عہدے داخل ہیں؛ جس میں مدارس ومساجد، خانقاہوں اور دینی جماعتوں کے مختلف مناصب اور ذمہ داریاں، نجی کمپنیاں اورعوامی ادارے بھی شامل ہیں۔
مختصر یہ کہ جو بھی احباب دینی مناصب پر فائز ہیں ان کو چاہیے کہ سیرت کے قالب میں اپنے آپ کو ڈال کر دین کی بے لوث خدمت میں لگ جائیں ۔آجکل جو ہمارے دینی اداروں اور زمہ داروں پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں وہ سیرت سے دوری کی وجہ سے ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں سمجھ کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین