مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمتہ اللہ علیہ کی یاد میں

ڈاکٹر شکیل شفائی
Wednesday 31st of December 2025 01:21:17 PM


" مفکرِ اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللّٰہ" کی یاد میں 

 

جنابِ رسولِ تاجدار صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے شرف و منصبِ ختمِ نبوّت کا براہِ راست فیض ، جو اس امتِ مرحومہ پر سایہ فگن ہوا ، بدیں صورت ظہور میں آیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ بالغہ کے تحت علماء و مشائخ ، فقہاء ومحدثین ، مصلحین و مجددین اور مصنفین و مؤلفین کا ایک لا متناہی سلسلہ جاری کردیا - 

ان علماء نے کہیں پر نصوص کی حفاظت کا کام انجام دیا تو کہیں ان کی معتبر و مستند تشریح کے ذریعے انحرافات و گمراہ میلانات کے دروازے مسدود ہوئے - یہ علماء ہی تھے جنہوں نے اعلائے کلمۃ اللہ کی شمعیں روشن کیں ، یہ علماء ہی تھے جنہوں نے درس و تدریس کی مجالس و محافل آراستہ کیں ، یہ علماء ہی تھے جنہوں نے تزکیہ نفس و تصفیہ باطن کی انگیٹھیاں دہکائیں اور یہ علماء ہی تھے جنہوں نے اعداء و اغیار کی ریشہ دوانیوں کا پردہ چاک کیا - 

جب جب امت مسلمہ پر اضمحلال و انحطاط کے گھنے کالے بادل چھا گئے ، علماء کے خامہ ہائے ایقان خیز کے افق سے ہدایت و رہنمائی اور استقامت و ثابت قدمی کے شموس و اقمار طلوع ہوئے - تاریخِ اسلامی کی کوئی صدی ایسے علماء کے وجود سے خالی نہیں رہی حتیٰ کہ جب بظاہر مایوسیوں کے گہرے سائے ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے ، یکایک ایسے متبحر اور ربانی علماء کا ظہور ہوا جنہوں نے مخالف سَمت سے آنے والی طوفانی دریاؤں کا رُخ پھیر دیا - 

مفکرِ اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللّٰہ کا اعتداد بیسویں صدی کے نصف ثانی میں ایسے ہی درخشان و تابناک سیرت وکردار اور فکر و نظر رکھنے والے اہلِ دل و اہلِ قلم علماء میں ہوتا ہے - 

فکری توازن و اعتدال ، خامہ و خطابت کی صاحبقرانی ، حدیثِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی عظمت و فقہ اسلامی کی توقیر ، تاریخ و ثقافت اور دین و ادب کا امتزاج ، اُردو و عربی تحریر کا تبحر ، قلب و ذہن کی درّاکی ، روحانی کیفیات کی اثر انگیزی اور فہم و ادراک کی گہرائی ، اصلاحِ امت کی سوز مندی اور دعوتِ دین کی درد انگیزی ، حفاظتِ عقیدہ کے لیے بے قراری اور زوالِ امت پر قلق و اضطراب اگر کسی عالِم کے وجود کا استعارہ بن چُکا تھا ، اس کی شخصیت کی معرفت و شناخت انہی امورِ مذکورہ سے عبارت تھی تو وہ مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللّٰہ تھے - 

مولانا مرحوم امت مسلمہ کی تاریخ کا وہ روشن باب تھے جس نے خود تاریخ کے معنی سمجھائے ، خشک سوتوں کو سیراب کیا ، جس نشیمن پر بجلیاں آسودہ حال رہتی ہیں ، اس کے پاسبانوں کو بیدار کیا - 

کبھی انسانی دنیا پر یہ راز منکشف کیا کہ مسلمانوں کے زوال سے اس نے کیا کھویا ، کبھی مغرب سے آنکھ ملا کر جرأت مندانہ اسلوب میں صاف صاف باتیں کیں ، کبھی مسلم دنیا میں اسلامیت و مغربیت کی کشمکش کے اسباب کا کھوج لگایا ، کبھی حجازِ مقدس اور جزیرۃ العرب کو نشانِ راہ دکھایا ، کبھی دعوت و عزیمت کا نئی نسلوں کو سبق پڑھایا ، کبھی اہلِ دل کی صحبتوں کے مرقعے کھینچے ، کبھی ایک بیدار مغز سیاح و سفیر بن کر مغربِ اقصیٰ ، دریائے کابل ، دریائے یرموک ، شرقِ اوسط ، اقصائے یورپ ، شرق و غرب کی داستانِ جانگداز سنائی -

ہم نے ابن کثیر ، ابن اثیر ، ابن خلکان ، ذھبی ، ابن خلدون ، سیوطی وغیرھم جیسے عباقرہ ( رحمۃ اللّٰہ علیہم اجمعین) کا زمانہ یقیناً نہیں پایا ، اگر اسے محرومی پر محمول کیا جائے تو بجا ہے مگر ہم اپنی خوش بختی اور خوش نصیبی پر شاداں ، فرحاں اور نازاں بھی ہیں کہ ہم نے مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللّٰہ کا زمانہ پایا - ان کے سیال و متحرک قلم سے کبار علماء و مشائخ ، مصنفین و مؤلفین اور ادباء و شعراء کے جو تذکرے نکلے وہ متذکرہ بالا بزرگوں کے عظیم کارناموں سے کسی طور کم نہیں - 

ہرچند مولانا مرحوم کی تعلیم ندوہ کے ماحول اور تربیت دیوبند کی فضاؤں میں ہوئی لیکن ان کی علمی و تحقیقی ، ادبی و تاریخی ، فکری و نظریاتی ، تحریکی و دعوتی سرگرمیوں کی جولان گاہ پوری دنیا تھی - انہوں نے امت مسلمہ کے ہر مکتبِ فکر کے صحن میں چراغ جلایا - اسی لیے وہ امت کا سرمایہ تھے اور پوری امت کا ان پر حق ہے - 

وہ ایک روشن ضمیر مرشد ، وسیع النظر عالم ، فلسفی مؤرخ ، صاحبِ طرز انشا پرداز ، پختہ کار مصنف ، اور عمیق فکر رکھنے والے مفکر تھے - انہوں نے کبھی اپنا انتساب کسی مخصوص مسلک ، مکتبِ فکر ، تنظیم و جماعت ، دوائر و زوایا کی طرف نہیں کیا - اسمعی یا مصر ، اسمعی یا سورية ، اسمعی یا جزیرہ العرب ، اسمعي يا ايران ، اسمعي يا زهرة الصحراء اس حقیقت پر دالّ ہے کہ ان کا قلم اور فکر موجودہ دور کے مسلمانوں کی ذہنی تنگنائیوں سے کافی بلند تھا - 

آج ہماری دینی صفوں میں وہ لوگ پذیرائی حاصل کرتے ہیں جو سب سے زیادہ مسلکی اور جماعتی تعصب کے شکار ہیں ، جن کی دینداری انہیں مناظرہ بازی کے سوا کچھ نہیں سکھاتی ، جو کسی کی قرار واقعی خوبیوں کا اعتراف کرنے کی صلاحیتوں سے محروم ہیں - خیالات و نظریات کی اس گھٹن میں قریب ہے کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی کو بُھلا دیا جائے یا وہ لوگ جن کی رگوں میں شرافت و مروت کے خون کے بجائے فرقہ پرستی اور تنگ نظری کا گدلا پانی بہہ رہا ہے ، مولانا مرحوم کے خلاف محاذ کھول کر ان کے جلیل القدر اور ما بہ الافتخار کارناموں کو منفی رنگ و آہنگ میں پیش کرنے کی نامحمود سعی کریں - 

تاہم کوئی اس حقیقت کو تاریخ کے کسی موڑ پر جھٹلا نہیں سکتا کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللّٰہ اس امت کے حُدی خواں تھے جنہوں نے تھکی اور سوختہ امت کے کاروانِ زندگی کو ابدی سعادت کی راہ دکھائی - 

اللہ تعالیٰ مولانا ماہر القادری مرحوم پر رحمتوں کا نزول فرمائے - وہ کہا کرتے تھے کہ میں نے جب بھی اقبال رحمہ اللّٰہ کے مردِ مومن کو پڑھا ، میری نگاہوں میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کی شبیہ گردش کرنے لگی - یہ محض کسی کی تعلی نہیں ، ایک حقیقتِ واقعہ کا اظہار ہے - 

 

 علامہ اقبال رحمہ اللّٰہ کے درج ذیل اشعار پڑھئے تو ذہن میں مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللّٰہ کا خاکہ ابھر آتا ہے : 

 

ہاتھ ہے اللہ کا بندہِ مومن کا ہاتھ 

غالب و کار آفریں ، کارکُشا ، کار ساز 

خاکی و نوری نہاد ، بندہِ مولا صفات 

ہر دو جہاں سے غنی اس کا دلِ بے نیاز 

اس کی امیدیں قلیل ، اس کے مقاصد جلیل 

اس کی ادا دلفریب ، اس کی نگہ دلنواز 

نرم دمِ گفتگو ، گرم دمِ جستجو 

رزم ہو یا بزم ہو ، پاک دل و پاک باز

 

( شکیل شفائی)