خدا پر مباحثہ: معاصر فکری تناظر میں ایک تجزیہ

ڈاکٹر حمید نسیم رفیع آبادی
Friday 26th of December 2025 04:11:20 AM


خدا پر مباحثہ: معاصر فکری تناظر میں ایک تجزیہ

 

پروفیسر حمید نسیم رفیع آبادی

وزیٹنگ پروفیسر عالیہ یونیورسٹی کلکتہ 

نئی دہلی میں جاوید اختر اور مفتی شمائل ندوی کے درمیان خدا کے وجود پر ہونے والا مباحثہ اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اس نے کسی صدیوں پرانے سوال کو حل کرنے کے بجائے، اس سوال کے گرد موجود فکری ابہام اور فہم کے اختلافات کو پوری وضاحت کے ساتھ نمایاں کر دیا۔ خدا کے وجود کا مسئلہ انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے زیرِ بحث رہا ہے، مگر ہر دور میں اس سوال کو پوچھنے کا انداز مختلف رہا ہے۔ یہ مباحثہ دراصل اسی تبدیلی یافتہ فکری فضا کا عکاس تھا، جہاں ایک ہی سوال دو بالکل مختلف ذہنی سانچوں میں ڈھل کر سامنے آیا۔

اس مکالمے کو اگر محض ایمان اور الحاد کے درمیان تصادم کے طور پر دیکھا جائے تو اس کی اصل معنویت اوجھل ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ٹکراؤ دو فکری روایتوں کا تھا: ایک وہ جو وجود، عقل اور حقیقت کو مابعد الطبیعی  سطح پر سمجھتی ہے، اور دوسری وہ جو بنیادی طور پر اخلاقی، تاریخی اور سماجی تجربے کو فیصلہ کن معیار بناتی ہے۔ یہی بنیادی فرق اس گفتگو کے تعطل کی اصل وجہ بنا۔

مفتی شمائل ندوی نے بحث کا آغاز وجودی اور فلسفیانہ بنیادوں سے کیا۔ ان کا موقف کلاسیکی اسلامی اور یونانی فلسفے کی اس روایت سے جڑا ہوا تھا جس کے مطابق کائنات بذاتِ خود اپنے وجود کی وضاحت نہیں کر سکتی۔ یہ دنیا تغیر، امکان اور انحصار سے عبارت ہے؛ ہر شے کسی دوسری شے پر قائم ہے، اور کوئی بھی حقیقت ایسی نہیں جو اپنے وجود کا سبب خود ہو۔ اس مشاہدے سے عقل فطری طور پر اس نتیجے تک پہنچتی ہے کہ اگر یہ سلسلہ کسی جگہ آ کر ختم نہ ہو تو وجود بے بنیاد ہو جائے گا۔ چنانچہ ایک ایسی ہستی کا تصور ناگزیر ہو جاتا ہے جو خود غیر محتاج ہو، جس کا وجود کسی اور پر موقوف نہ ہو، اور جو تمام ممکنات کے لیے بنیاد فراہم کرے۔

یہ استدلال اس بات پر زور نہیں دیتا کہ خدا کو کسی سائنسی تجربے یا ریاضیاتی مساوات کی طرح ثابت کیا جائے۔ بلکہ اس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ خدا کا تصور عقل کے خلاف نہیں، بلکہ عقل کے منطقی تقاضوں کا نتیجہ ہے۔ یہاں ایمان جذباتی آسودگی یا ثقافتی وراثت نہیں، بلکہ فکری جستجو کا اختتامی نقطہ بن کر سامنے آتا ہے۔

اس کے مقابلے میں جاوید اختر کی تنقید کا مرکز انسانی دکھ، مذہبی تشدد اور تاریخ میں مذہب کے نام پر ہونے والی زیادتیاں تھیں۔ ان کا سوال یہ تھا کہ اگر خدا عادل اور قادر ہے تو دنیا میں اس قدر ظلم اور بے انصافی کیوں ہے؟ یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہم اور سنجیدہ ہے، مگر اس کا تعلق ایک مختلف سطح کی بحث سے ہے۔ یہ سوال وجود کے بجائے قدر، اور حقیقت کے بجائے اخلاقیات سے متعلق ہے۔ جب اخلاقی احتجاج کو وجودی سوال کا متبادل بنا دیا جائے تو بحث اپنی اصل سمت کھو بیٹھتی ہے۔

یہاں مسئلۂ شرپوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دکھ اور مصیبت خدا کے وجود کے خلاف دلیل ہیں۔ مگر اس دلیل میں ایک پوشیدہ مفروضہ موجود ہے: یہ کہ دکھ واقعی ایک برائی ہے، اور دنیا کو ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ یہ "چاہیے" کہاں سے آیا؟ اگر کائنات محض اندھی طبیعی قوتوں کا نتیجہ ہے، تو پھر دکھ اور راحت کے درمیان کوئی اخلاقی فرق کیوں ہونا چاہیے؟ ناانصافی پر ہمارا شدید ردِ عمل خود اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہم کسی معروضی اخلاقی معیار کو مانتے ہیں، چاہے لاشعوری طور پر ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح مسئلۂ شر، خدا کے انکار کے بجائے، ایک ایسے اخلاقی نظم کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی خواہشات سے ماورا ہے۔

مباحثے میں سائنسی ثبوت کا مطالبہ بھی بار بار سامنے آیا، جو جدید ذہن کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ مگر یہ مطالبہ دراصل سائنسی طریقِ کار کی حدود سے ناواقفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ سائنس کا دائرہ "کیسے" تک محدود ہے، نہ کہ "کیوں"  تک۔ وہ یہ بتا سکتی ہے کہ کائنات کیسے وجود میں آئی، مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ وجود کا ہونا بذاتِ خود کیوں ضروری یا معنی خیز ہے۔ اگر ہر حقیقت کو تجربہ گاہ کے پیمانے پر پرکھنے کا مطالبہ کیا جائے تو ہمیں شعور، عقل اور اخلاق جیسے بنیادی انسانی تجربات سے بھی انکار کرنا پڑے گا، حالانکہ ان کی حقیقت سے کوئی سنجیدہ شخص انکار نہیں کرتا۔

کانٹ کا حوالہ اس بحث میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ عام طور پر کانٹ کو مذہب کا ناقد بنا کر پیش کیا جاتا ہے، مگر اس کی فکری دیانت کا تقاضا ہے کہ اس کے پورے فلسفیانہ نظام کو دیکھا جائے۔ کانٹ نے عقلی دلائل کی بعض صورتوں پر تنقید ضرور کی، مگر اس کے نزدیک اخلاقی قانون خود عقل کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ خدا، روح اور آخرت کو مفروضہ مانے۔ انصاف، جواب دہی اور اخلاقی معنی کا تصور خدا کے بغیر ادھورا رہ جاتا ہے۔ اس لیے کانٹ کو محض الحاد کی تائید میں پیش کرنا فکری انتخابیت (selective reading) کی مثال ہے۔

تاریخی استدلال بھی اسی طرح محتاط تجزیے کا متقاضی ہے۔ مذہب کے نام پر تشدد ایک تلخ حقیقت ہے، مگر یہ کہنا کہ مذہب کا خاتمہ تشدد کا خاتمہ ہے، تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بیسویں صدی کے سیکولر نظریات—جو کسی ماورائی اخلاقی احتساب کو تسلیم نہیں کرتے تھے—نے بھی غیر معمولی پیمانے پر خونریزی کو جنم دیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ مذہب یا بے مذہبی کا نہیں، بلکہ اخلاقی اختیار کے منبع کا ہے۔ جب اخلاق محض طاقت یا اکثریت کی مرضی بن جائے تو ظلم کو روکنے کا کوئی حتمی معیار باقی نہیں رہتا۔

اس مباحثے کا سب سے نمایاں پہلو دونوں فریقوں کا فکری انداز تھا۔ مفتی ندوی کا طرزِ گفتگو اصولی، مربوط اور ضبط سے بھرپور تھا۔ وہ بار بار بنیادی سوال کی طرف لوٹتے رہے: وجود کی بنیاد کیا ہے؟ اس کے برعکس جاوید اختر کی گفتگو زیادہ تر تاثراتی اور تجرباتی دائرے میں گردش کرتی رہی، جس سے بحث کی زمین بار بار بدلتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی بات سن تو رہے تھے، مگر ایک دوسرے کے سوال کا جواب نہیں دے پا رہے تھے۔

اس پوری بحث سے جو سب سے اہم نکتہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ خدا پر ایمان، اگر فکری دیانت کے ساتھ اختیار کیا جائے، تو عقل کی نفی نہیں بلکہ اس کی تکمیل ہے۔ عقل جب کائنات کی عارضیت، اس کے نظم، اور اخلاقی تقاضوں پر غور کرتی ہے تو وہ کسی ایسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے جو خود ان سب سے ماورا ہو۔ ایمان اسی اشارے کا جواب ہے، نہ کہ عقل سے فرار۔

اسی کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ تشکیک کا کردار محض منفی نہیں۔ وہ فکری جمود کو توڑتی ہے اور سطحی عقائد کو چیلنج کرتی ہے۔ مگر جب تشکیک فلسفیانہ غور و فکر کے بجائے محض ردِ عمل میں بدل جائے تو وہ سوالات کو واضح کرنے کے بجائے مزید الجھا دیتی ہے۔ حقیقی مکالمہ اسی وقت ممکن ہے جب دونوں طرف سوال کی نوعیت، سطح اور حدود کو سمجھا جائے۔

دہلی کا یہ مباحثہ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا، مگر شاید اس کی اصل اہمیت بھی یہی تھی۔ اس نے یہ دکھا دیا کہ خدا کا سوال آج بھی زندہ ہے، اور وہ نہ نعرے سے حل ہوتا ہے نہ جذبات سے۔ ایسے دور میں جہاں فکری گفتگو مختصر جملوں اور فوری فیصلوں کی نذر ہو چکی ہے، یہ مباحثہ اس بات کی یاد دہانی تھا کہ بعض سوالات انسان کے ساتھ اس لیے جڑے رہتے ہیں کہ وہ عقل، ضمیر اور وجود کے گہرے ترین پہلوؤں کو چھوتے ہیں۔