دیوبند کا دورہ اور عالمی سیمینار برائے علامہ انور شاہ کشمیری: ایک علمی تجزیہ
از قلم ڈاکٹر حمید نسیم رفیع آبادی صاحب
دسمبر 2025 کے وسط میں میرا دیوبند کا سفر ایک علمی اور روحانی تجربے کے طور پر یادگار رہا، جو 13 تا 14 دسمبر 2025 کو حجۃ الاسلام اکیڈمی، دارالعلوم دیوبند وقف کی جانب سے علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی علمی خدمات کے اعزاز میں منعقدہ عالمی سیمینار کے سلسلے میں تھا۔ یہ سیمینار نہ صرف علامہ کشمیری کی علمی عظمت کو اجاگر کرنے کا ذریعہ تھا بلکہ نوجوان طلبہ، علماء، اور فکری شخصیات کے لیے ایک فکری رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے، جس کا مقصد برصغیر کے اسلامی علوم کو موجودہ دور کے مسائل کے ساتھ جوڑنا اور نئی نسل کو روشنی فراہم کرنا تھا۔
میں 12 دسمبر کی رات دیوبند پہنچا، اور اسٹیشن پر طلبہ اور نوجوان علماء نے نہایت خلوص اور ادب کے ساتھ میرا استقبال کیا۔ ان کے رویے میں سادگی، علم کی لگن، اور اخلاقی تربیت کی جھلک نمایاں تھی۔ اسٹیشن سے مجھے دارالقرآن، جو سیمینار میں میرا قیام گاہ بھی تھی، لے جایا گیا۔ دارالقرآن میں قدم رکھتے ہی ایک عجیب روحانی سکون محسوس ہوا؛ ایک ایسا ماحول جہاں علم، تقویٰ، نظم، اور اخلاص کا امتزاج ہر لمحے محسوس ہوتا ہے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں اسلامی فکر کی حقیقی روشنی آج بھی زندہ ہے۔
سیمینار کا افتتاح 13 دسمبر کی صبح دارالعلوم دیوبند وقف میں ہوا، جس کی ابتدا تلاوت قرآن پاک سے ہوئی۔ اس کے بعد محترم مولانا ڈاکٹر شکیب احمد قاسمی نے نظامت کی ذمہ داری سنبھالی اور علامہ کشمیری کی جامع علمی شخصیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے نہ صرف ان کی حدیثی اور فقہی خدمات کو اجاگر کیا بلکہ ان کی فکری وسعت، متنوع علوم پر عبور، اور دوراندیشی کو بھی نمایاں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ علامہ کشمیری کی شخصیت وہ روشن مثال ہے جس میں مذہبی فکر کی گہرائی اور علمی بصیرت ایک ساتھ موجود ہے۔
سیمینار میں شریک دیگر نمایاں علماء، جن میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا ابو القاسم نعمانی، مولانا احمد خضر شاہ کشمیری، مولانا رحمت اللہ کشمیری، اور مولانا فیصل رحمانی شامل تھے، نے علامہ کشمیری کی علمی خدمات کے متعدد پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ ان کے متنوع علمی کام، فقہی بصیرت، اور حدیثی خدمات نے حاضرین کو ان کے عمیق علمی مقام سے روشناس کرایا۔ اس دوران مجھے بھی موقع ملا کہ میں اپنی پریزنٹیشن کے ذریعے علامہ کشمیری کی علمی عظمت اور فکری اثرات کو اجاگر کروں۔
میری پریزنٹیشن کے چار مرکزی نکات تھے:
پہلا نکتہ: علامہ کشمیری کی علمی وسعت اور فکری گہرائی ایسی ہے کہ اگرچہ ان پر متعدد تحقیقی کام ہو چکے ہیں، پھر بھی ایک جامع اور مربوط علمی تصنیف کی ضرورت باقی ہے جو ان کے تمام علوم اور خدمات کو یکجا کرے۔ ان کی علمی وسعت کی بنیاد پر یہ کہنا درست ہوگا کہ ایک ایسے محقق کی ضرورت ہے جو ان کی فکری میراث کو مکمل طور پر تحریری شکل دے۔
دوسرا نکتہ: ان کا فکری رویہ وسیع النظر اور متوازن تھا۔ اگرچہ وہ حنفی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے، لیکن انہوں نے کبھی دیگر فقہی مکاتب، ان کے بانیوں، یا علماء کی عزت میں کمی نہیں کی۔ ان کا احترام اور عدل پسندی آج بھی تمام علماء کے لیے ایک مثالی سبق ہے، خاص طور پر موجودہ دور میں جب فکری اختلافات اور مکاتب کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔
تیسرا نکتہ: علامہ کشمیری وہ نایاب عالم تھے جن سے ان کے زمانے کے بڑے دانشور، فلسفی، اور نظریاتی شخصیات علمی اور فکری رہنمائی کے لیے رجوع کرتے تھے۔ ان کی علمی وسعت اور بصیرت کی وجہ سے مشہور شخصیات جیسے رشید رضا اور دیگر نے ان کے علم کی تصدیق کی اور ان کی عظمت کو سراہا۔ یہ نہ صرف ان کی علمی مہارت کا ثبوت ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ وہ مذہبی حلقوں سے باہر بھی علمی رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
چوتھا نکتہ: علامہ کشمیری کی زندگی اور پیغام آج کے عالمی منظرنامے میں بے حد اہم ہیں۔ موجودہ دنیا جہاں مادیت، الحاد، اور انکارِ الٰہی کے فلسفے زور پکڑ چکے ہیں، وہاں ان کی زندگی سے رہنمائی لینا، ان کے افکار کو عملی میدان میں نافذ کرنا اور نوجوانوں کو ان کی بصیرت سے روشناس کرنا سب سے حقیقی خراج تحسین ہے۔ میں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہم واقعی ان کی علمی اور اخلاقی خدمات کا احترام کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کی تعلیمات اور طرز فکر کو موجودہ دور کے چیلنجز کے حل میں استعمال کرنا ہوگا۔
سیمینار کے دوران مختلف سیشنز میں متعدد علماء نے اپنی تحقیقاتی مقالات پیش کیں، جن میں علامہ کشمیری کی علمی خدمات، ان کی فقہی اور اجتہادی بصیرت، اور ان کی زندگی کے اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ دارالعلوم دیوبند وقف کے اساتذہ اور طلبہ کی موجودگی نے اس علمی اجتماع کو مزید فکری قوت بخشی۔ اس دوران مجھے مولانا ساجد نمانی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا احمد خضر شاہ کشمیری، مولانا عطیق احمد بستوی، مولانا ایوب صاحب، اور مولانا اظہر الحق قاسمی کے ساتھ ذاتی علمی گفتگو اور فکری تبادلہ کرنے کا بھی موقع ملا، جو نہایت مفید اور علمی لحاظ سے بہت سودمند رہا۔
دیوبند کی عمومی فضا اور ماحول نے اس تجربے کو اور بھی خاص بنا دیا۔ طلبہ کی قرآنی تعلیم اور تدبر کی محنت، اساتذہ کی علمی مہارت اور رہنمائی، اور ادارے کی نظم و ضبط نے یہ واضح کر دیا کہ دیوبند آج بھی اسلامی تعلیم و تربیت کا زندہ مرکز ہے۔ یہاں علم، اخلاق، تقویٰ، اور فکری وسعت ایک ساتھ موجود ہیں، جو کسی بھی عالم یا طالب علم کے لیے ایک عملی اور روحانی سبق فراہم کرتے ہیں۔
سیمینار کے اختتام پر 14 دسمبر کو ایک اختتامی اجلاس منعقد ہوا جس میں سیمینار کے نتائج اور سفارشات پر غور کیا گیا۔ اس اجلاس میں یہ واضح ہوا کہ علامہ کشمیری کی علمی خدمات اور افکار آج بھی نوجوانوں اور علمی حلقوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان کی زندگی اور پیغام کو زندہ رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے افکار اور علمی ورثے کو جدید دنیا کے مسائل اور چیلنجز کے تناظر میں سمجھا اور نافذ کیا جائے۔
میرا یہ تجربہ نہ صرف ایک علمی دورہ تھا بلکہ ایک روحانی اور فکری سفر بھی تھا، جس نے مجھے دیوبند کے علمی ماحول، اساتذہ اور طلبہ کی لگن، اور اسلامی تعلیم کے حقیقی معیار سے قریب سے روشناس کرایا۔ اسٹیشن سے دارالقرآن تک کے سفر، طلبہ کی رہنمائی، اور سیمینار کی تمام علمی سرگرمیاں میرے لیے ایک مکمل تعلیمی اور فکری تجربہ ثابت ہوئیں، جسے میں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔
اس دورے اور سیمینار سے حاصل ہونے والا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ دیوبند آج بھی اسلامی علوم کا زندہ مرکز ہے، جہاں علم، تقویٰ، فکری وسعت اور امت مسلمہ کے لیے ذمہ داری ایک ساتھ موجود ہیں۔ اور یہی حقیقی معنوں میں علامہ انور شاہ کشمیری کی علمی خدمات کا حقیقی خراج تحسین ہے: ان کے افکار اور تعلیمات کو زندہ رکھنا، سمجھنا اور موجودہ دنیا میں ان کی روشنی کو پھیلانا