" صوفی اقدار کی بازیافت اور حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی مجددی "
قسط ( 2)
حضرت پیر صاحب رحمہ اللّٰہ جھنگ کے کھرل خاندان میں یکم اپریل 1953 کو پیدا ہوئے - گھر کا ماحول خالص دینی تھا - والد صاحب بچوں کو ناظرہ قرآن بغیر کسی مشاہرہ کے پڑھاتے تھے اور والدہ بھی نہایت عابد و زاہد خاتون تھیں -
حضرت پیر صاحب نے اعلیٰ دنیوی تعلیم حاصل کی تھی وہ چیف الیکٹریکل انجینئر کے منصب پر فائز تھے لہٰذا اسکول و کالج کے ماحول اور نفسیات سے پوری طرح باخبر تھے - انگریزی سے زبردست واقفیت تھی - لیکن جدید دنیا کے پُر فریب جلوے ان کی آنکھوں کو خیرہ نہ کر سکے ، انہوں نے مدینے کی خاک ہی کو سرمہِ چشم بنا لیا تھا - انہوں نے اعلیٰ دینی تعلیم بھی پائی تھی - ناظرہ قاری غلام رسول سے پڑھا تھا ، چھٹی جماعت سے لے کر بارہویں جماعت تک مسلسل عربی کا مضمون پڑھنے کی وجہ سے صرف و نحو سے دلچسپی پیدا ہوگئی تھی - ان کی ایک کتاب " قرآنِ مجید کے ادبی اسرار و رموز" ہے - یاد پڑتا ہے کہ جب چند سال پہلے اس کتاب کو پہلی بار پڑھا تو میں حیران رہ گیا - جن مباحث کو علمائے کرام نے ادب و بلاغت کی ضخیم کتابوں میں عالمانہ دِقّٓتِ اسلوب میں لکھا ہے وہ حضرت پیر صاحب رحمہ اللّٰہ نے اتنی آسان زبان میں حل کیے ہیں کہ معمولی استعداد کا حامل طالب علم بھی بھر پور استفادہ کر سکتا ہے - یہ کتاب مختصر حجم ہونے کے باوجود اپنے اندر قرآنی بلاغت کی عمدہ اور نادر معلومات لیے ہوئے ہے - میرے خیال میں یہ عربی نحو و صرف سے اسی دلچسپی کا زائدہ تھا جس کے بیج اسکولی تعلیم میں ارضِ ذہن میں بوئے گئے تھے - ایف ایس سی کا امتحان دینے کے بعد آئندہ چھ ماہ حضرت پیر صاحب رحمہ اللّٰہ کی زندگی میں اہم ترین سنگِ میل ثابت ہوئے - اس دوران انہوں نے مفتی ولی اللہ صاحب ، جو علاقہِ جھنگ کے
مفتی اعظم تھے ، سے فارسی کتب - گلستان ، بوستان اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی کتاب ، جو مدارس میں شاملِ نصاب ہے " ما لا بدّ منہ" پڑھی نیز شام کے اوقات میں شرح مأۃ عامل کا درس لیا -
پھر انہوں نے مولانا محمد اشرف شاد صاحب سے دو مرتبہ صرف و نحو کا دورہ کیا بلکہ ایک سانس میں صرفِ صغیرہ پورا سنایا جس پر استاد نے انعام سے نوازا علاوہ ازیں فنِ صرف میں کم و بیش تین ہزار صیغے نکالے - اس میں موجودہ دور کے طلبہ کے لیے بڑا سبق ہے جو برسوں مدارس میں پڑھ کر محض اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے ایک معمولی سطر کو بھی صحتِ اعراب کے ساتھ نہیں پڑھ پاتے - فقہ کی کتابیں مولانا محمد امین کاشمیری سے پڑھیں - مرشدِ اول حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ سے خصوصی مجالس میں " عمدۃ الفقہ" پڑھی - عربی ادب کی تعلیم اپنے دور کے معروف استاد مولانا حبیب اللہ صاحب سے حاصل کی - مولانا خلیل احمد صاحب سے قرآن پاک کا ترجمہ اور تفسیر دو سال میں سبقاً سبقاً مکمل کی -
بی ایس سی کا امتحان دینے کے بعد مدرسہ ضیاء العلوم مغلپورہ لاہور کے مفتی صاحب سے شام کے اوقات میں ریاض الصالحین اور صحاحِ ستہ کی کتابیں پڑھیں - حضرت مولانا جعفر صاحب نے حدیث کی سند مرحمت فرمائی - یہاں پر حضرت کی دینی تعلیم مکمل ہوئی - حضرت پیر صاحب رحمہ اللّٰہ حافظِ قران بھی تھے -
ابن ماجہ کی ایک صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے:
" لا يزال الله يغرس في هذا الدين غرسا يستعملهم في طاعته"
(یعنی اللہ تعالیٰ اس امت میں ہر زمانے میں ایسے لوگوں کو پیدا فرماتا رہے گا جنہیں اپنے دین کی خدمت کے لیے استعمال کرے گا)
ظاہر ہے یہ لوگ محکم اور مستحکم علم اور ایک خاص نہج پر گہری تربیت کے مراحل سے گزرے ہوں گے غالباً اسی لیے ان کے لیے حدیث میں " یغرس" کی تعبیر اختیار کی گئی ہے یعنی جس طرح درخت کی نشوونما ایک خاص ترتیب سے ہوتی ہے ، یہ نہیں ہوتا کہ سیدھے درخت ہی کو لاکر زمین میں بو دیا بلکہ پہلے بیج ہوگا ، اسے زمین میں بویا جائے گا پھر قدرت کے مقرر کردہ اصولوں کے تحت اس کی آبیاری کی جائے گی پھر اس کی جڑیں زمین میں گہری ہوں گی ، شاخیں فضا کا احاطہ کریں گی تب جاکے پھل ، پھول ، ثمر ، اوراق ، لکڑی ، سایہ اور تازہ ہوا ملے گی -
یہی حال خُدّامِ دین کا بھی ہے - بقولِ مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللّٰہ یہ جنگل کی خود رو گھاس نہیں ہوتے بلکہ طویل علمی و ادبی ، اخلاقی و روحانی تربیت کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں - لہذا ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے کے مقتضیات سے باخبر ہوں ، زمانہ ساز نہیں زمانہ شناس ہوں -
میرا شدید احساس ہے کہ اسی سنتِ الٰہی کے تحت حضرت پیر صاحب کو قدیم اور جدید دونوں سر چشموں سے فیضیاب ہونے کے مواقع ملے ورنہ یہ سعادتیں سب کے نصیب میں کہاں ہوتی ہیں ؟ یہ الگ بات ہے کہ آج کے زمانے میں جو لوگ دینِ اسلام کے حوالے سے داعیِ و مربی ، مصنف و محقق ، شیخ و مرشد ، عالم و فاضل ، ادیب و شاعر ، صحافی و مدیر بننے کا عزم و حوصلہ رکھتے ہوں انہیں بہرحال مجمع البحرین کے معیار پر پورا اترنا ہوگا - ان پر لازم ہے کہ وہ دینی اور دنیوی ( ہمارے زمانے کی تقسیم کے پیش نظر) دونوں علوم سے بہرہ ور ہوں -
حضرت پیر صاحب رحمہ اللّٰہ کی زندگی میں ہمارے عزت مآب علماء کے لیے بھی درسِ بصیرت ہے - حیاتِ مرشد انہیں مہمیز دی رہی ہے کہ دین کا کام انجام دینا ہے تو اپنے اندر زمانہ شناسی پیدا کرلو - وقت کی آواز کو پہچانو - نئے دور کے اس اسلوب سے آگہی حاصل کرو جسے لوگ سمجھتے ہیں جس میں تم انہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا سکتے ہو -
حضرت پیر صاحب کی زندگی میں اس جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لیے بھی درسِ حکمت و دانش ہے جو سائنس ، ادب ، طب ، تاریخ ، فلسفہ اور فنونِ لطیفہ یا جدید ٹیکنالوجی کو حاصل کرکے اپنے تئیں علماء سے بے نیاز تصور کرتا ہے - خود کفیلی کی اس نفسیات کے تحت جب دینی علوم کا مطالعہ شروع کرتے ہیں تو ابتدا قرآن و حدیث سے ضرور ہوتی ہے لیکن تربیتی نقوش سے محرومی کے سبب کبھی مستشرقین ، کبھی منکرینِ حدیث ، کبھی ملحدین ، کبھی گمراہ و منحرف دعاۃ ، کبھی اہلِ زیغ و ضلال اور کبھی مادّہ پرستوں کی مادّی تعبیرات کی گود میں گِر پڑتے ہیں -
میں نے کتنے ہی جدید تعلیم یافتوں کو دیکھا کہ ادھ کھلے مگر معصوم نوجوانوں کو قرآن کی تفسیر کے پیمانوں میں منکرین و ملحدین اور مستشرقین و مستغربین کا جام پلا رہے ہیں -
داعی و مربی ، مصنف و محقق بننے کا دروازہ ہر ایک کے لیے قیامت تک کھلا رہے گا لیکن اس میں داخل ہونے کے لیے ضابطے سے علم کی تحصیل لازمی ہے ، پختہ کاروں کی صحبت و تربیت ضروری ہے - یہ وہ درس ہے جو حضرت پیر صاحب رحمہ اللّٰہ نے ہمیں دیا -
دمِ عارف نسیمِ صبح دم ہے
اسی سے ریشہِ معنی میں نم ہے
اگر کوئی شعیب آئے میسر
شبانی سے کلیمی دو قدم ہے
( جاری)
( شکیل شفائی)