امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سیمینار میں شرکت
قسطِ دوم
ابرار الحق وانی ندوی
(متعلم شعبۂ اختصاص فی الفقہ، دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ)
دارالعلوم دیوبند کے مہمان خانے سے صبح دار العلوم وقف کے لیے روانہ ہوا، جہاں آٹھ بجے سے افتتاحی نشست کا آغاز ہونے والا تھا۔ حسب معمول تلاوت کلام مقدس سے نشست کا آغاز کیا گیا۔ اس نشست کی تفصیل کچھ یوں ہے:
مولانا ڈاکٹر شکیب صاحب، نائب مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند، نے نظامت سنبھالی اور علامہ کشمیری کی جامع شخصیت پر گلفشانی کی۔ بات امام العصر انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ کی ہو اور علم کی فضا قائم نہ ہو، یہ ناممکن سی بات معلوم ہوتی ہے۔ ڈاکٹر شکیب صاحب نے شاہ صاحب کی حدیثی خدمات پر بطور خاص روشنی ڈالی۔ بات سے بات نکلتی رہی، بالآخر بزبان شاعر گویا یوں گویا ہوئے
ليس على الله من مستنكر
أن يجعل العالم في واحد
بعد ازاں دارالعلوم کے ایک استاد کو تلاوت قرآن پاک کے لیے دعوت دی گئی۔ قاری صاحب نے اپنی سریلی آواز اور قراءت کی مہارت سے تمام سامعین کے قلوب کو حرارت بخشی۔
جب تک قاری صاحب کی پرسوز قراءت مکمل ہوتی، اسٹیج اکابر قوم و ملت سے سج چکا تھا۔ فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مہتمم دارالعلوم وقف مولانا سفیان قاسمی، شیخ الحدیث دارالعلوم وقف و صدر المدرسین مولانا احمد خضر شاہ کشمیری، مولانا رحمت اللہ کشمیری، مولانا فیصل رحمانی، اور ان کے علاوہ ایک اور بزرگ شخصیت بھی جلوہ افروز ہو چکی تھی، جن سے میں واقف نہیں۔
تلاوت قرآن کے بعد نعت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دارالعلوم ہی کے ایک طالب علم کو بلایا گیا۔ نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مہتمم دارالعلوم وقف و صدر مجلس افتتاحیہ نے صدارتی خطبہ پیش کیا۔ دوران خطبۂ صدارت، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ابو القاسم نعمانی، امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سعادت اللہ حسینی، اور امیر جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر امام بھی تشریف لے آئیں ۔
صدارتی خطاب ابھی جاری تھا کہ مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ناظم، خانوادۂ حسنی کے چشم و چراغ مولانا بلال عبد الحئی حسنی ندوی بھی تشریف فرما ہوئے۔
صدارتی خطاب کے بعد ناظم اجلاس نے دارالعلوم کے استاد مفتی امانت علی قاسمی کو دعوت دی کہ حجۃ الاسلام اکیڈمی سے شائع ہونے والی نئی انیس (19) کتابوں کا تعارف پیش کریں۔ تعارف کتب کے دوران مفتی عتیق بستوی صاحب بھی تشریف فرما ہوئے۔ اس کے بعد حجۃ الاسلام اکیڈمی کا تعارف بھی پیش کیا گیا۔
دوران تعارف، مولانا ارشد مدنی صاحب تشریف لے آئے۔ ناظمِ اجلاس شکیب قاسمی صاحب نے تعارفِ کتب کی کارروائی روک کر مولانا ارشد مدنی صاحب کو دعوت خطاب پیش کی۔ مولانا ارشد مدنی صاحب نے محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
میرا ارادہ تھا کہ جو کچھ میں نے اپنے اساتذہ سے حضرت علامہ کشمیری کے بارے میں سنا ہے، اسے لکھ کر پیش کروں، لیکن آج رات میری طبیعت کافی ناساز ہو گئی، جس کی وجہ سے میں معذور ہوں۔
اس کے باوجود مدنی صاحب نے شاہ صاحب کے بارے میں اساتذہ سے سنی ہوئی باتیں بیان فرمائیں۔ مدنی صاحب نے چند ماہ قبل دہلی میں کہی گئی ایک بات دہرائی کہ علامہ کشمیری دراصل علامہ عبد الحئی لکھنوی سے استفادہ کی نیت سے ہندوستان آئے تھے، لیکن جب وہ یہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ علامہ لکھنوی کا انتقال ہو چکا ہے۔ بعد میں مولانا احمد خضر شاہ کشمیری نے بڑی محبت اور احترام کے ساتھ مولانا مدنی کی اس بات کی تردید کی۔
اس کے علاوہ بھی مولانا مدنی نے علامہ کشمیری کی ہمہ جہت شخصیت پر اپنے اساتذہ سے سنی ہوئی باتیں بیان فرمائیں۔
مولانا مدنی کے تشریف لے جانے کے بعد مولانا ابو القاسم نعمانی نے گل افشانی فرمائی اور شاہ صاحب کے علمی مرتبے پر روشنی ڈالی۔
ان کے بعد خانوادۂ انوری کے چشم و چراغ، شیخ الحدیث دارالعلوم وقف کو دعوت سخن دی گئی۔ علمی و فکری گفتگو کرتے ہوئے اکابرین پر منعقد کیے جانے والے پروگراموں کی اہمیت کو بیان کیا،
اس کے بعد ناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ نے شاہ صاحب کی ذہانت اور فطانت پر گفتگو کی اور مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ کی امام العصر کی مجلس میں شرکت کا بھی تذکرہ کیا۔
اس کے بعد مولانا رحمت اللہ کشمیری نے بیان فرمایا، پھر مولانا اصغر امام کو وقت دیا گیا۔ انہوں نے علامہ کشمیری کے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے تعلق کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مولانا انظر شاہ کشمیری سے سنا ہے کہ امامُ العصر فرمایا کرتے تھے
لوگ کہتے ہیں لا ہجرة بعد الفتح، پھر فرمایا کرتے تھے کہ میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی شارح بخاری صحیح بخاری کا حق ادا کر سکتا تھا تو وہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تھے۔
اس کے بعد امیر جماعت اسلامی ہند نے علامہ کشمیری کی جامع شخصیت کے دو پہلوؤں پر گفتگو کی، مغربی فتنوں اور فتنۂ قادیانیت گویا علامہ کے نزدیک یہ دونوں انتہائی خطرناک فتنے تھے۔ علامہ اقبال اور امام العصر کی خط و کتابت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بگ بین اور دیگر جدید نظریات سے بھی واقف تھے، بلکہ آگے بڑھ کر ان افکار و نظریات پر شاہ صاحب کے رد کو بھی بیان فرمایا۔ ڈاکٹر سعادت اللہ صاحب نے علامہ کشمیری کی مرقاۃ الطارم کا بھی تذکرہ کیا۔
اس کے بعد مولانا صالح صاحب، ناظم مظاہر علوم سہارنپور، نے شاہ صاحب کی مجتہدانہ شخصیت پر گفتگو کی۔ شاہ صاحب کا قول نقل کیا کہ وہ فرمایا کرتے تھے:
میں ہر فن میں مجتہد ہوں، اپنی رائے رکھتا ہوں، صرف فقہ میں امام اعظم کا مقلد ہوں( شاہ صاحب فرماتے تھے کہ میں فقہ میں بھی مجتہد ہوں اتفاق سے میری جو رائے ہوتی ہے وہی امام اعظم کی بھی رائے ہوتی ہے)
آخر میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے آغا شورش کشمیری کی علامہ کشمیری پر لکھی گئی نظم سے گفتگو کا آغاز کیا۔
یہ جہاں فانی ہے کوئی چیز لافانی نہیں
پھر بھی اس دُنیا میں انور شاہ کا ثانی نہیں
ابتداء ہی میں آپ نے بغیر نام لیے فرمایا کہ یہاں کچھ باتیں ایسی ہوئیں جن کا یہ محل نہیں تھا—غالبا اشارہ صدر جمعیت اہل حدیث کی طرف تھا۔ چونکہ میں ان کی پوری مجلس میں شریک نہیں تھا، لیکن آخری گفتگو سماعت کی تو اندازہ ہوا کہ وہ شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی کے بارے میں امام العصر کے نظریات بھی بیان کر رہے تھے۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اذكروا محاسن موتاكم سے استدلال کیا، اور دوران گفتگو جب قادیانیت کے بارے میں شاہ صاحب کی قربانیوں کا ذکر آیا تو اشکبار ہو گئے۔ مولانا صالح صاحب نے شاہ صاحب کی ایک عبارت نقل کی تھی، جس میں قادیانیت کے بارے میں شاہ صاحب نے فرمایا تھا کہ مجھے بہت ڈر ہے کہ یہ فتنہ جڑ نہ پکڑ لے۔ مولانا نے فرمایا کہ مجھے یاد ہے کہ امام العصر نے الحاد کے متعلق بھی اسی نوعیت کے خدشات ظاہر کیے تھے۔
آخر میں مولانا سفیان صاحب کی دعا کے ساتھ پہلی نشست کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا۔
(امام العصر علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سے اکابرین کی محبت کا یہ عالم تھا کہ اکثر اکابرین افتتاحی نشست ہی میں حاضر ہو گئے تھے جس کی وجہ سے پہلی اور افتتاحی نشت ایک ہی نشت میں تبدیل ہو کر رہ گئی)
جاری۔۔۔۔