امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سیمینار میں شرکت ۔ قسط اول

ابرار الحق وانی ندوی
Monday 15th of December 2025 01:16:41 PM


امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سیمینار میں شرکت ۔  قسط اول

ابرار الحق وانی ندوی 

(متعلم شعبۂ اختصاص فی الفقہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو)

چند روز پہلے ہی ہم دیوبند ، سہارنپور ، کاندھلہ اور تھانہ بھون کا علمی دورہ کر کے آئے تھے ، اور اب پھر دار العلوم دیوبند وقف میں ہونے والے عالمی سمینار بعنوان امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ حیات و خدمات میں شرکت کے لیے عازم سفر ہونا پڑا ، رحلہ علمیہ میں شرکت سے مجھے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی اس سیمینار میں شرکت کی خوشی دامن گیر تھی ، خوشیاں رقص کر رہی تھیں دل مچل رہا تھا آنکھیں ان لمحات کی دید کو ترس رہی تھیں ، بالآخر میں اور مولانا مدثر میسوری قاسمی ندوی ( متعلم شعبۂ ادب دار العلوم ندوۃ العلماء) دارالعلوم ندوۃ العلماء کو چند دنوں کے لیے الوداع کہہ کر روانہ ہو گئے ، اسٹیشن کی طرف جاتے ہوئے راستے میں رفیق محترم نے دعا انس رضی اللہ عنہ پڑھنے کو کہا اس دعا کا اثر میں نے سفر میں محسوس کیا میں نے بعد میں رفیق محترم سے تذکرہ بھی کیا اس پر انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ پر جب قاتلانہ حملہ ہوا اور اللہ رب العزت نے ان کی حفاظت فرمائی بعد میں جب انہوں نے انٹرویو دیا تو فرمایا کہ مجھے دعا انس رضی اللہ عنہ نے بجایا ہے ورنہ میرا بچنا مشکل تھا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ مفتی تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ کا اس حملہ میں محفوظ رہنا ایک معجزانہ عمل ہی تھا ، اسٹیشن پر ہماری ملاقات دار العلوم ندوۃ العلماء کے مشہور ادیب مولانا نعمان الدین ندوی صاحب ابن فقیہ ملت مولانا برہان الدین سنبھلی رحمہ اللہ سے ہوئی، مولانا بھی سیمینار میں شرکت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے مولانا کے ساتھ ان کے فرزند ارجمند مولانا سعدان ندوی صاحب بھی تھے ، ٹرین نوچندی سے ہم دیوبند پہنچیں ٹرین دو گھنٹے تاخیر سے چل رہی تھی جس کی وجہ سے ہم دو گھنٹے تاخیر سے دیوبند پہنچیں، اسٹیشن سے ہم نے دار العلوم دیوبند کا رخ کیا ، میں دار العلوم کے مہمان خانے میں قیام پذیر ہو گیا اور مولانا مدثر میسوری اپنے ہم وطنوں میں جا کر گھل مل گئے ، جمعہ کی نماز کا وقت قریب تھا میں نے جمعہ کی نماز دار العلوم کی مسجد الرشید میں ادا کی، مفتی عفان منصورپوری صاحب نے سلیس و شستہ عربی میں خطبہ دیا اور قرائت بھی لا جواب تھی ، نماز کے بعد مہمان خانے میں کھانے سے فارغ ہو کر چند منٹ آرام کر کے عصر نماز کے لیے مہمان خانے کے دروازے کے بالکل سامنے والی مسجد (مسجد قدیم)

میں عصر کی نماز ادا کی نماز کے بعد مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا ابو القاسم نعمانی صاحب کی آواز میرے کانوں میں پڑی، ساتھ بیٹھے مولانا سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں عصر نماز کے بعد مولانا ابو القاسم نعمانی صاحب کی مجلس ہوتی ہے میں ایسی مجالس و محافل کا دلدادہ ہوں سنتے ہی وہاں سے اٹھ کر شریک محفل ہوا مولانا عقائد الاسلام (مؤلف حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ) کو پڑھ کر سنا رہے تھے اور ساتھ ساتھ تشریح بھی فرما رہے تھے ، آج انبیاء کرام علیہم السلام کے متعلق عقاعد کا باب چل رہا تھا ، مجلس ختم ہونے کے بعد سب نے مصافحہ کیا میں نے بھی مصافحہ کیا ، مسجد سے نکل کر میں نے کتب خانوں میں امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ پر کتابیں دیکھنی شروع کی کافی تلاش و بسیار کے باوجود بھی مجھے افسوس کا ہی سامنا کرنا پڑا ، علامہ پر شائع شدہ خصوصی شماروں کی تلاش نے مجھے مکتبہ انوری تک پہنچا دیا لیکن وہاں بھی افسوس میرا انتظار کر رہا تھا ، مغرب کی نماز کا وقت قریب تھا میں نے مسجد الرشید میں نماز ادا کی اور نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا عبد الخالق مدراسی سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا ملاقات تقریباً پینتالیس منٹ کی رہی مولانا کافی خوش مزاج شخصیت کے مالک ہیں ، طلبہ سے بالکل بے تکلف اور چٹکلے بازی میں بھی ماہر ہیں ، مولانا کا دورہ حدیث میں ،شمائل ترمذی کا درس تھا میں نے اجازت چاہی اور مہمان خانے چلا گیا وہاں کہانے پینے سے فارغ ہو کر نماز عشاء مولانا ارشد مدنی صاحب کی مسجد میں پڑھنے چلا گیا وہاں دیگر مساجد کے مقابلے میں نمازِ عشاء تاخیر سے ہوتی ہے مسجد میں داخل ہوا تو وہاں بیٹھے طلبہ پر نظر پڑی جو قرآن کریم کو اپنے دلوں میں محفوظ کر رہے تھے، قاری صاحب بھی تشریف فرما تھے میری ان سے ملاقات ہوئی اس دوران وہاں بیٹھا ایک بچا ہمارے پاس آیا شکل و صورت سے دوسرے بچوں سے کچھ مختلف تھا مجھے لگا شاید یہ مولانا مدنی دامت برکاتہم العالیہ کے ہی گھرانے سے تعلق رکھتا ہے قاری صاحب سے دریافت کیا تو معلوم ہوا مولانا ارشد مدنی صاحب کا پوتا آدم ہے میں نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا، وضوء کر کے میں تلاوت قرآن پاک میں منہمک ہو گیا مولانا مدنی کب تشریف لائے کچھہ پتہ ہی نہ چلا ، نماز کے بعد مولانا کی طرف دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گیا مولانا سے ہزاروں اختلاف لیکن امت مسلمہ کے لیے جو قربانیاں خانوادۂ مدنی نے دی ہیں انہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا ، مولانا کے دل میں جو امت مسلمہ کے لیے درد ہے وہ انہیں اس پیرانہ سالی میں بھی راحت کی سانس نہیں لینے دیتا مولانا کو انہی خیالات سے تکتی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا کہ مولانا بھی متوجہ ہوئے میں نے سلام عرض کی مولانا نے محبت بھرے لہجے میں جواب دیا میں نے ہاتھ بڑھا کر مصافحہ کیا اور مصافحہ کے بعد مولانا گھر کی طرف چلے گئے میں نے خادم سے ملاقات کی درخواست کی لیکن ملاقات ممکن نہ ہو سکی وقت بھی ملاقات کے لیے موزوں نہیں تھا خادم بڑے با اخلاق تھے مجھے عصر یا ظہر بعد ملاقات کے لیے حاضر ہونے کا کہا،میں دارالعلوم وقف کے لیے روانہ ہوا راستے میں ایک صاحب سے رہنمائی چاہی انہوں نے معھد امام انور تک رہنمائی فرمائی اس دوران میری تعلیمی سرگرمیوں کی تفصیلات معلوم کر لی اور آخر میں اپنا تعارف کرایا معلوم ہوا مولانا ساجد قاسمی صاحب دارالعلوم دیوبند کے استاد ہیں اور کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں ان کی کتاب تیسیر الانشاء کئی مدارس میں شامل نصاب ہے ، دارالعلوم وقف سے واپس دارالعلوم دیوبند کے مہمان خانے میں آ گیا اور رات یہی گزاری ،۔۔۔۔۔

جاری

(نوچندی میں بغیر ریزرویشن کے دکے کھاتے ہوئے رات کے 12:35بجے 15 دسمبر)