صوفی اقدار کی بازیافت اور حضرت پیر ذولفقار نقشبندی مجددی رحمہ اللہ

Muhammad Iqbal Wani
Monday 15th of December 2025 12:22:24 PM


" صوفی اقدار کی بازیافت اور حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی مجددی" 

 

قسط (1)

 

تصوّف کی مٹتی قدروں اور فریاد بہ لب آثار و علائم کی فضاؤں میں ایک منفرد اور قلب و ذہن کو چُھو لینے والی آواز سنائی دیتی ہے - اسلام کی مادّی ، سیاسی ، اقتصادی تعبیرات سے کچھ دُور اخلاص و استخلاص کے گوشے میں روحانیت کے کچھ ساز چھیڑتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں - متلاشیانِ حق و صداقت کی نگاہیں اٹھتی ہیں ، مدّتوں کے پیاسے گوش بر آواز ہوتے ہیں ، پیرانِ طریقت کے بُجھتے ہوئے ایمانی اور روحانی آتش کدوں میں یکایک شعلے سے لپکنے لگتے ہیں - الٰہی یہ کون ہے ؟ یہ کس کے آتشِ نفس سے روحوں میں عشق و معرفت کے شرارے پھوٹ رہے ہیں ؟ معلوم ہوا یہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کے سالار ، درد مند دلوں کے درماں اور ٹوٹے ہوئے دلوں کے ترجماں حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی مجددی ہیں -

 

حضرت پیر صاحب رحمہ اللّٰہ نے انجینیرنگ کی تعلیم پائی تھی ، وہ چیف الیکٹریکل انجینئر کے عہدے پر فائز تھے - وہ جمناسٹک ، فٹ بال اور تیراکی کے چیمپئن رہے تھے ان کے بارے میں کس کو معلوم تھا کہ قدرت نے ان کے نوشتہِ تقدیر میں سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کی تشریح ، تسجیل ، تجدید ، ترویج ، ترسیل اور تدریس لکھی ہوئی ہے - ان مواقع پر ، جب ہم روحانی شخصیات کی تلاش شروع کرتے ہیں تو عام طور پر ہماری نگاہیں دیوبند ، تھانہ بھون ، گنگوہ ، ہردوئی جامعہ نظامیہ ( حیدرآباد) اور بیرونِ ملک جامعہ ازھر ( مصر) خانقاہِ قونیہ ( ترکی) ، بخارا ، سمرقند ، الجزائر ، تیونس اور مراکش کے زاویوں اور رباطات پر پڑتی ہیں - فی نفسہٖ یہ غلط بھی نہیں ہے کیونکہ یہ وہ روحانی مراکز ہیں جنہوں نے صدیوں تشنہ روحوں اور تڑپتے دلوں پر معرفتِ الٰہی کا مرہم رکھنے کا کام انجام دیا ہے - لیکن اکیسویں صدی کے ربع اول میں اس عظیم کام کے لیے جس شخصیت کا انتخاب ربّانی حکمتِ بالغہ کے تحت ظہور میں آیا وہ حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی مجددی تھے - 

خود پیر صاحب رحمہ اللّٰہ کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ ہوگی کہ قدرت کی طرف سے ان کا انتخاب بُجھے ہوئے روحانی آتش کدوں میں معرفت و محبتِ الٰہی کی آتشِ خفتہ کو بیدار کرنے کے لیے کیا گیا ہے - وہ اپنی کتاب " رہے سلامت تمہاری نسبت" کے پیشِ لفظ میں لکھتے ہیں: 

" حضرت مُرشدِ عالَم پیر غلام حبیب نقشبندی نور اللہ مرقدہ کی طرف سے جب فقیر کے ناتواں کندھوں پر بارِ خلافت ڈالا گیا تو ایک عرصہ تک فقیر حیرت و استعجاب کی تصویر بنا رہا کہ" چہ خاک را بہ عالَم پاک " بندہ اس قابل کہاں کہ اس ذمہ داری کو اٹھائے - پھر حضرت مُرشدِ عالَم رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ایک محبت بھری ڈانٹ نے تذبذب کی اس کیفیت سے نکال دیا - حضرت مُرشدِ عالَم رحمۃ اللّٰہ علیہ نے فرمایا کہ تم نے اپنی طرف سے یہ کام نہیں کرنا بس بڑوں کا حکم پورا کرنا ہے - تم ان کی طرف سے مامور ہو لہذا بلا چوں و چرا بجا آوری کرو - تعمیلِ ارشاد میں بندہ نے اللہ کے بندوں کو اللہ کے لیے " اللہ اللہ" سکھانے کا کام شروع کردیا - بس پھر کیا تھا نسبت کی برکتوں کو اپنی آنکھوں اترتے ہوئے دیکھا - جس طرف بھی قدم بڑھایا لوگ جوق در جوق سلسلہ میں داخل ہوئے: 

کہاں میں اور کہاں یہ نکہتِ گُل 

نسیمِ سحر ! ہے تیری مہربانی " 

( ص 5 ناشر فاران اینڈ کمپنی - دیوبند فروری 2004) 

 

تصوّف کے بارے میں بعض لوگوں کو تحفظات ہیں - ان کے اخلاص پر کوئی شُبہ نہیں - واقع میں اس شعبہ میں بعض ناقص اور خلافِ شریعت تشریحات و تعبیرات اور ظاہر دار و دنیا پرست متصوّفین کی ہوا و ہوس سے لبریز قلا بازیوں نے اس شعبے پر وہ داغ لگائے جو آج تک مٹائے نہیں جا سکے - جس تصوّف وسلوک کا مقصد نفیِ ذات اور اثباتِ محبت و معرفتِ الٰہی تھا ، اسی تصوّف کے نام پر جاہ پسندی ، نفس و ذات کی تزئین و آرائش ، ارتکازِ دولت و ثروت اور ترویجِ شرکیات و بدعات و خرافات وجود میں آئیں - 

 

سلطان العلماء امام عزّ بن عبدالسلام رحمہ اللّٰہ کی کتاب" زُبَدُ خلاصۃ التصوف " کے محقق ڈاکٹر احمد عبدالرحیم السايح کتابِ مذکور کی تمہید میں لکھتے ہیں : 

" التصوف علم و عمل ، العلم بالأحكام الشرعية المستنبطة من الكتاب و السنة و العمل بها - 

و الصوفية يقسمون العلم إلى ظاهر و باطن ، و علم الظاهر هو العمل بالكتاب و السنة و علم الباطن هو أعمال القلوب أو هو كما يسمّيها شيخ الإسلام ابن تيمية الأحوال و المقامات -

والتصوف الحق هو أن يكون علم الباطن مطابقاً لعلم الظاهر ، فمن اختلفت باطنه عن ظاهره فليس منهم ، و ينكرون عليه ذلك ، بل و يطردونه من بينهم لأن كُلَّ ظاهر خالف الباطن فهو باطل - 

يقول الإمام الشعراني: من لم يأخذ بالكتاب و السنة فلا تستمعوا له حتى لو طار في الهواء أو مشىٰ على الماء" 

(ص 15 ناشر: مكتبة الثقافية الدينية - قاهرة 2009م)

( تصوف علم و عمل کا نام ہے ، علم احکام شرعیہ کا جو کتاب و سنت سے مستنبط ہو اور اسی پر عمل بھی ہو - 

صوفیہ علم کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں : ظاہر اور باطن - علمِ ظاہر کتاب و سنت پر عمل کا نام ہے اور علمِ باطن دل کے اعمال کا نام ہے یا جیسے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ نے انہیں احوال و مقامات کا نام دیا ہے - 

حقیقی تصوف وہ ہے جس میں علمِ باطن علمِ ظاہر کے مطابق ہو - پس جس کا باطن اس کے ظاہر کے خلاف ہو وہ صوفیہ میں سے نہیں ہے ، اہلِ تصوف اس کا انکار کرتے ہیں بلکہ اسے اپنے درمیان سے باہر نکال دیتے ہیں کیونکہ ہر وہ ظاہر جو باطن کی مخالفت کرے باطل ہے - 

امام شعرانی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں: جو کتاب و سنت سے تصوف نہیں لیتا اس کی بات ہی نہ سنو ہر چند وہ ہوا میں اڑتا ہو یا پانی کے اوپر چلتا ہو) 

 

تصوف کی بعض غامض مصطلحات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بھی بعض لوگ انکار کردیتے ہیں اور بعضوں کے لیے بعض صوفیہ کی شطحیات بھی مانع بنتی ہیں - ان کی توضیحات و تشریحات اس فن کے ماہرین نے کی ہیں - اس پر الگ سے ایک مضمون لکھنے کا ارادہ ہے - اللہ تعالیٰ توفیق و تکمیل بخشے - بعض اقوال کی نسبت ان کے قائلین کی طرف ثابت نہیں اور بعض اقوال کسی خاص دور ، زمانہ ، وقت اور پس منظر سے متعلق ہوتے ہیں - البتہ وہ لوگ اس بحث سے خارج ہیں جو شرعی اعمال اور دینی حدود و قیود سے بچنے اور " رند کے رند رہے اور دنیا بھی ہاتھ سے نہ گئی ، کے مصداق اپنی ذاتی اغراض کے لیے تصوف کی مخالفت کرتے ہیں ، ان سے کلام نہیں - 

( جاری) 

( شکیل شفائی)