”آسی ؔفتح گڑھی“میری نظر میں
پوری طرح تو یاد نہیں البتہ قریب قریب دو دہائیوں کا عرصہ گزرا ہوگا جب ”مولانا“ غلام نبی وانی المتخلص بہ ”آسیؔ“ ساکنِ فتح گڑھ ، شیری بارہ مولا سے پہلی بار ملاقات ہوئی ، انہوں نے غالباً بذریعہ ٹیلی فون رابطہ کیا تھا - وہ جب بھی رابطہ کرتے اور ہمارے درمیان گفتگو کا سلسلہ چلتا تو وہ ایک علمی انجمن کی ضرورت کا اظہار کرتے جو خالص علمی اور ادبی بنیادوں پر نئی نسل میں کام کا بیڑا اٹھائے ، میں جماعتوں کی تنگنائیوں اور انجمنوں کی محدود گلیوں سے واقف تھا لہٰذا مُثبَت جواب تو نہیں دیتا تھا تاہم ان کے جذبات واحساسات کی قدر کرتا اور ان سے کبھی معارضہ نہیں کرتا۔پھر ایک دن ایسا ہوا کہ انہوں نے مجھے اپنے گھر آنے کی دعوت دی - ان دنوں میرے پاس گاڑی نہیں تھی ، گمانِ غالب یہی ہے کہ سومو وغیرہ کے ذریعے ان کے گھر تک رسائی ہوئی ہوگی ، تفصیلات یاد نہیں ہیں - وہاں اخی فی اللہ ڈاکٹر نذیر احمد زرگر سے ملاقات ہوگئی، ممکن ہے ماقبل ہی مجھے ان کے آنے کی بھی اطلاع ملی ہو، کسی اور رفیق کی موجودگی یاد نہیں پڑتی- ہمارا قیام آسی صاحب کے گھر ہی میں رہا - ان کا گھر اس وقت بھی سادگی ، نفاست ، قلبی جمعیت اور علمی خوشبو کا احساس دلاتا تھا اور آج بھی یہ اسی قدیم وضع پر قائم ہے - آسیؔ صاحب کی شخصیت یکبارگی مجھ پر نہیں کُھلی ، میں ایک طالب علم ہوں اور اسی نقطہِ نظر سے دنیا وما فیہا کو دیکھتا ہوں - پہلی ملاقات میں آسی صاحب مجھے ایک متشرع بزرگ معلوم ہوئے جو بیشتر تبلیغی بزرگوں کے علی الرغم علمی ذوق بھی رکھتے ہیں - البتہ ان کی سادگی اور خلوص نے متاثر کیا - مجلس کافی دیر تک چلتی رہی - تفصیلات مستحضر نہیں ہیں لہٰذا یہ بتانے سے معذور ہوں کہ وہاں کن کن امور پر بات ہوئی تھی - البتہ مجلسِ علمی کی تاسیس کے حوالے سے یہ مجلس سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے - مولانا غلام محمد پرے صاحب کے دولت کدہ پر جس مجلس کا حوالہ آسیؔ صاحب اکثر دیتے رہتے ہیں ، اُس کا علم نہیں کہ وہ اِس مجلس سے پہلے منعقد ہوئی تھی یا اس کے بعد - میں نے مجلس علمی میں ، اپنے دیگر مشاغل کی بنا پر ، کبھی کوئی عملی کام انجام نہیں دیا - مجلس کا سارا کام آسی صاحب خود ہی انجام دیتے رہے ہیں البتہ میری دانست میں ان کی یہ خواہش رہی ہے کہ مجھ طالب علم کے علاوہ دیگر اہلِ علم و ادب ، مجلسِ علمی کے مقصد سے اِتفاق کرنے کی حد تک ، ان سے جڑے رہیں - تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگ عام طور پر تنظیمی ، علمی اور ادبی سرگرمیوں میں دلچسپی نہیں رکھتے ان میں حصہ لینا تو بہت دور رہا ، البتہ اس کُلیے میں جو استثنئات پائے گئے ہیں ان میں آسیؔ صاحب بھی ایک ہیں - وہ دُھن کے پکّے ہیں ، ان کے مزاج میں ٹھہراؤ پایا جاتا ہے ، ان میں صبر و مصابرت کا جوہر بھی ملتا ہے - وہ ناامید نہیں ہوتے - انہوں نے دھیمی رفتار سے کام جاری رکھا ، علماء سے رابطہ بنائے رکھا ، اہلِ علم و ادب کو اپنے قریب کرنے کی کوشش کرتے رہے ، بالآخر ان کی کوششیں بار آور ہوئیں - جو بیج انہوں نے بویا وہ ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے - مجلس علمی نے پچھلی دو دہائیوں میں کون سے کام انجام دیے ہیں وہ تحریری صورت میں شائع ہوچکا ہے اس پر بات کرنا تحصیلِ حاصل ہے -
مجھے یہاں آسی صاحب کی شخصیت کے ان چند پہلوؤں پر ، اپنے نقطہِ نظر سے بات کرنی ہے ، جن کا میں نے مشاہدہ کیا ہے -
آسیؔ صاحب ایک پڑھے لکھے انسان ہیں - انہوں نے بی اے ، بی ایڈ کرنے کے علاوہ فارسی اور عربی میں ماسٹرز کیا ہے - وہ پیشے سے استاد رہے ہیں - شاعری کا بھی ذوق رکھتے ہیں - ان کا ایک شعری مجموعہ '' کلامِ آسی'' کے عنوان سے ابھی چند سال پہلے شائع ہوا تھا - اس کے علاوہ ان کی چند ایک کتابیں بھی زیورِ طباعت سے آراستہ ہو چکی ہیں جن میں '' مقصدِ تخلیقِ کائنات '' اور '' عقائد الاسلام'' کی ورق گردانی کا مجھے شرف حاصل ہوچکا ہے ، چند اور کتابیں زیرِ ترتیب ہیں - البتہ علمی دنیا میں ان کا بڑا کام ماہنامہ '' راہِ نجات'' کی شکل میں سامنے آیا - یہ ماہنامہ غالباً 2012 کے آس پاس منظر عام پر آیا - اس کے متعدد نمبر مختلف شخصیات پر شائع ہوئے ہیں - جن میں کشمیر کے علماء و صوفیاء کی بھی ایک معتدبہ تعداد شامل ہے - دیگر موضوعات کا بھی احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے - آسی صاحب زود قلم مصنف رہے ہیں ، وہ خوب لکھتے ہیں - اپنی عمر کی ثلث صدی سے تجاوز کرنے کے باوجود ان کی نگارشات کا دریا تھما نہیں ہے البتہ سال ڈیڑھ سال پہلے ان پر فالج کا حملہ ہوا تھا اس وجہ سے ممکن ہے لکھنے کی رفتار کچھ کم ہوگئی ہو - بہرحال اگر ان کی جملہ نگارشات کو جمع کیا جائے تو کئی مجلدات تشکیل پاسکتے ہیں - آسی صاحب کا مطالعہ بھی کافی وسیع ہے - وہ کتاب کا سرسری مطالعہ نہیں کرتے بلکہ ایک ایک سطر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر کشید کردہ مفہوم پر مسلسل غور و خوض کرتے رہتے ہیں یوں ان کا ایک نقطہ نظر تشکیل پاتا ہے ۔ اس سلسلے میں کبھی اپنے دوستوں اور دیگر اہلِ علم حضرات سے گفتگو بھی کرتے ہیں، ان کے سامنے اپنا نقطہِ نظر رکھتے ہیں - خندہ پیشانی سے ان کی سنتے ہیں - کبھی کبھار کتاب کھول کر لمبے لمبے فقرے پڑھتے ہیں ، پھر ان پر گفتگو کرتے ہیں - وہ علم کی روح سے واقف ہیں اس لیے اختلاف سے گھبراتے نہیں - میں نے بارہا ان سے اختلاف کیا ہے لیکن انہوں نے کبھی اس کا منفی اثر نہیں لیا ، بلکہ بعض اوقات میری رائے کی تائید کی اور اپنی رائے چھوڑ دی - انہوں نے برصغیر کی اسلامی تحریکات کا گہرا مطالعہ کیا ہے - وہ اوائل عمر میں جماعت اسلامی سے عملاً وابستہ رہے ہیں ، تبلیغی جماعت تو گویا ان کا تعارف ہی تھی ۔دیگر تنظیموں اور انجمنوں سے ان کے روابط رہے ہیں لہذا ان کے فکر و نظر میں وسعت پائی جاتی ہے - ہر چند علمائے دیوبند سے انہیں بے حد عقیدت رہی ہے لیکن میں نے کبھی نہیں سنا کہ انہوں نے کسی دوسری جماعت کے کسی عالم کا نام غایت درجہ احترام سے نہ لیا ہو - وہ مولانا وحید الدین خان صاحب مرحوم سے بھی بہت متاثر رہے ہیں اور میری دانست میں انہوں نے خان صاحب کو بہت پڑھا ہے تاہم ان کے سامنے جب بھی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی مرحوم کا تذکرہ چِھڑا تو انہوں نے ان کا ذکر اُس اسلوب میں کیا جو ان کے مولانا سے غایت عقیدت کو مستلزم تھا - ایک بار جناب سعد الدین تارہ بلی مرحوم کا واقعہ سنایا تو آب دیدہ ہوگئے -
آسیؔ صاحب کو میں بہت قریب سے دیکھنے کا دعویٰ تو نہیں کر سکتا ، البتہ پچھلی دو دہائیوں میں کئی نشستوں میں ان کی مصاحبت حاصل رہی - ذاتی طور پر بھی ملاقات کے مواقع ملے ہیں - میں نے جس ذوق و شوق ، محبت اور ولولے سے انہیں '' مولانا سید شاہ عبدالولی الحسنیؒ(توحید گنج بارہ مولا) '' کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے کسی دوسرے عالِم کے بارے میں یہ بات مشاہدے میں نہیں آئی ، آسیؔ صاحب نے ان سے استفادہ ضرور کیا ہوگا ، لیکن ایک استاد سے زیادہ میں نے مولانا ولی اللہ صاحب مرحوم کو ان کا معشوق پایا ۔ آسی صاحب کو مولوی صاحب مرحوم کی پوری شخصیت ہی گویا ازبر تھی ، وہ مولوی صاحب مرحوم کی زندگی کا ایک معتبر حوالہ کی حیثیت رکھتے ہیں - بہت کم ایسا دیکھا ہے کہ انہوں نے مولوی صاحب مرحوم کا کوئی آزمائشی واقعہ بیان کیا ہو اور وہ رو نہ دیے ہوں - اسی شیفتگی کا یہ زائدہ ہے کہ انہوں نے مولوی صاحبؒ پر ایک سمینار کا انعقاد کیا اور اس میں اہلِ علم سے مقالات لکھوا کر راہ نجات میں شائع کیے -
آسیؔ صاحب کو تاریخ سے بھی کافی دلچسپی رہی ہے ، ان کی یاداشت ، ماشاءاللہ ، بہت خوب ہے - بے شمار علماء ، اولیاء ، صوفیاء اور خُدّامِ دین کا تذکرہ پہلی بار انہیں سے معلوم ہوا۔ میں نے ، مولانا شوکت حسین کینگ صاحب کو مستثنیٰ کرکے ، کسی دوسرے اہلِ علم کے پاس کشمیر کے علماء و مشائخ کی ایسی یاداشتیں نہیں دیکھی ہیں - یاد پڑتا ہے ایک دو سال قبل جب استاذی ڈاکٹر مظفر حسین ندوی (حفظہ اللہ) مجھ ناچیز اور مولانا غلام محمد پرے صاحب کی معیت میں پہلی بار آسی صاحب سے ان کے دولت کدہ پر ملاقی ہوئے اور انہوں نے آسیؔ صاحب کی تاریخی واقعات کی کھتونی سے سلسلہ ہائے مروارید کا کچھ حصہ سماعت کیا تو عشاء یا فجر کی نماز کو نکلتے وقت عربی میں مجھ سے فرمایا: ” أین کنتَ أخفیتَ ھذا الکنز؟ “ (اس خزانے کو کہاں چھپا رکھا تھا؟)
آسی صاحب تقریر بھی عمدہ کرتے ہیں - ان کی تقریر زیادہ مربوط تو نہیں ہوتی البتہ دلچسپ ہوتی ہے - وہ جب بولتے ہیں تو بس بولتے ہیں - پھر تو ان کا دریا بہنے لگتا ہے -
آسی صاحب طبعیتاً نرم دل ہیں ، لیکن وہ بڑے ذہین بھی ہیں اور ان کی ذہانت ان کی آنکھوں سے ٹپکتی محسوس ہوتی ہے - اگر انہیں کوئی بات ناگوار گزرے تو فوراً ردعمل ظاہر نہیں کرتے ، موقعہ دیکھ کر اس کا اظہار کرتے ہیں - بہت سارے علماء اور تنظیمی صدور و عہدہ داراں کے علی الرغم میں نے آسیؔ صاحب کے پورے خانوادے کو اسی نہج پر پایا جس پر وہ خود گامزن ہیں - اس چیز نے بھی مجھے کافی متاثر کیا - دو عالِموں کے بارے میں ، میں اپنے مشاہدے کی بنا پر ، کہہ سکتا ہوں کہ ان کے گھر والوں نے بڑی حد تک ان کی علمی اور عملی قدروں کو اپنے نظامِ فکر و عمل میں مرکزی جگہ دی ہے ایک مولانا منظور صاحب نعمانی رح اور دوسرے مولانا ابوالحسن علی ندوی رح ۔ کشمیر کے تناظر میں آسی صاحب کا گھرانہ اس کی مثال میں پیش کیا جا سکتا ہے - ان کے بچے اور اب بچوں کے بچے بھی شرافت ، ادب اور دینداری کی عمدہ مثالیں پیش کررہے ہیں -
آسی صاحب کو فارسی زبان کا بھی گہرا ذوق ہے- مولانا روم ؒسے کہنا چاہیے انہیں عشق ہے - مثنوی کے اگر وہ حافظ نہیں تو حافظ نما ضرور ہیں - خود ایک بار مجھ سے کہا کہ میں نے مثنوی کو تین بار حرف حرف پڑھا ہے ، میں نے ان کی مثنوی کا ایک نسخہ دیکھا ہے جو ان کے حواشی سے بھرا پڑا تھا ۔تقریباً یہی حال دوسری کتابوں کا بھی دیکھا -
یوں تو آسی صاحب کو تمام علماء کا احترام ہے البتہ مولانا جلال الدین رومیؒ ، مولانا عبدالحق حقانیؒ ، مولانا اشرف علی تھانوی ؒاور مولانا انور شاہ کشمیری رحمھم اللہ سے انہیں خاص عقیدت رہی ہے اور تقریباً انہی علماء کی تعلیمات پر مجلسِ علمی کی بنیادیں اٹھی ہیں -
آسی صاحب کے کشمیر کے مقامی علماء اور دیگر اہلِ علم حضرات سے بھی روابط ہیں - وہ حنفی المسلک ہیں لیکن تمام مسالک کا احترام کرتے ہیں -
انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ تبلیغی جماعت میں گزارا ہے - وہ وادی میں تبلیغ کی قدیم ترین کھیپ سے تعلق رکھتے ہیں - وہ تبلیغی جماعت کی پچھلی ساٹھ ستر سالہ تاریخ کا انسانی وثیقہ ہونے کی حیثیت رکھتے ہیں - حال ہی میں ان کے لائقِ افتخار فرزند سالکؔ بلال نے ان سے وادی کی تبلیغی جماعت کے اکابرین کے بارے میں سُنی ہوئی تفصیلات کو قلمبند کرنا شروع کیا جو امید ہے کتابی شکل میں شائع ہوں گی -
فتح گڑھ (شیری) اور نارواؤ کا کیا مذکور ! بارہ مولا سے لے کر اوڑی تک ان کی تبلیغی ، تعلیمی اور تربیتی محنتوں کے آثار نظر آتے ہیں -:شیری کی جامع مسجد میں وہ پچھلی قریباً چار دہائیوں سے خطبہِ جمعہ دیتے آرہے ہیں - فتح گڑھ میں مسلمان طلباء وطالبات کی دینی تعلیم کے لیے ایک ادارہ بھی کھولا ہوا ہے - مجلسِ علمی کے تحت ایک کتب خانے کی بھی بنیاد ڈالی جس میں ہر نوع کی تحقیقی کتابوں کی فراہمی ممکن بنانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں -
بیماری سے قبل بہت متحرک تھے - مجھے ان کے کام کی لگن اور چستی پھرتی پر رشک آتا تھا ، لیکن پھر بیمار ہوئے تو رفتارِ کار میں کچھ دھیما پن آگیا تھا۔ - لیکن اب ، الحمد للہ ، روبہ صحت ہونے پر پھر سے کام کی طرف عود کررہے ہیں جو نہایت خوش آئند ہے -
ہماری قوم میں اس وقت علمی اور عملی زوال و اِدبار کا جو عالَم ہے اور اس سے دینی مدارس کے بہت سے فارغین اور جامعات کے بہت سے اسکالرز بھی مستثنیٰ نہیں ، اس کے پیشِ نظر آسی صاحب جیسی شخصیات نعمتِ یغما سے کم نہیں - ان لوگوں کی قدر اس وقت آئی گی جب یہ بھی نہیں رہیں گے اور جہلاء علی الاطلاق لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوں گے -
آسیؔ صاحب میں بمقتضائے بشریت کمزوریاں بھی ہوں گی - ان کے جملہ نظریات سے اتفاق بھی ضروری نہیں ، ممکن ہے زندگی میں غلط فیصلے بھی لیے ہوں گے لیکن اس سے انبیاء کو مستثنیٰ کرکے دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا شخص بھی مطلقاً مبرا نہیں قرار دیا جا سکتا ، لیکن آسی صاحب میں جو خوبیاں ہیں وہ کسی بھی شخص کو بڑا بنانے کے لیے کافی ہیں - ان کی زندگی کے بہت سے پہلو ایسے ہو سکتے ہیں جو مجھ سے مخفی ہوں گے یا شاید دوسرے لوگ ان سے واقف ہوں گے - ان پر لکھنے والے لکھیں گے - جب تک آسیؔ صاحب کی سرگرمیاں جاری رہیں گی ان پر اقلام بھی اپنی رشحات ٹپکاتے رہیں گے - میں ان آدھے ادھورے مشاہدات کو عربی کے درج ذیل اشعار پر ختم کرتا جو میرے خیال میں آسیؔ صاحب پر پوری طرح صادق آتے ہیں:
إن الکرام و إن ضاقت معیشتهم
دامت فضیلتهم و الأصل غلّابُ
لِله دَرُّ أناسٍ أینما ذُکروا
تطیب سیرتُهم حتی و إن غابوا
ولرَبُ مکرمة جمعت شمائلهم
صارت لنا غیثاً یسری و ینساب
فی قلبِ من یلقوہ تلقی محبتهم
و هم لکل الخلق صحب و أحباب
(یہ جو نیک طینت لوگ ہوتے ہیں ہرچند ان کی معاش(یا حیات) ان پر تنگ ہی ہو ، بایں ہمہ ان کی فضیلت ہمیشہ قائم رہتی ہے اور چونکہ نیکی اصل ہے لہذا اصل ہی غالب آتی ہے - اللہ خیر کا معاملہ کرے ان لوگوں سے جن کا جہاں کہیں ذکر ہو ، اُن کی سیرت خوشبو بکھیرتی ہے چاہے وہ آپ موجود نہ ہوں - اور صاحبِ مکرمت کے اوصاف مجتمع ہوتے رہتے ہیں یہاں تک وہ بادل بنتے ہیں جن سے اوپر سے نیچے کی طرف موسلادھار بارش برستی ہے - وہ جن سے بھی ملتے ہیں ان کے دلوں میں ان کی محبت ڈالی جاتی ہے اور وہ تمام لوگوں کے ساتھی اور دوست ہوتے ہیں)
( شکیل شفائی)