سوشل میڈیا اور اہل علم ودانش
ہر کوئی اپنے آپ کو اکمل نہیں تو کامل ضرور سمجھتا ہے۔ خواجہ صاحب مختلف سائنسی ایجادات کی وجہ سے اس پندار میں مبتلا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے کونکہ اب اس کے پاس کسی چیز کا جواب تلاشنے کے لیے گوگل سے بڑھ کر چیٹ۔جی۔پی۔ٹی جیسا عاقل اور بحر العلوم استاد موجود ہے۔ لہٰذا کسی کی بات کو رد کرنے یا اپنی بات کو ایکیڈمک اور بہت ہی پالشڈ انداز میں کہنے کے لیے بس مختصر سی درخواست پر معلومات کے انبار اس کے سامنے رکھتا ہے اور خواجہ صاحب چٹ ان معلومات کو کاپی کر کے فیس بک، وٹسپ اور سوشل میڈیا کے دوسرے ذرایع سے اپنے حریف کو خاموش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس ناہنجارانہ عمل نے دینی علوم وفنون کے ان طلباء کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے جو خالص دینی علوم کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر کے کسی خاص شعبے میں تخصص حاصل کرتے ہیں اور علمی زبان میں متخصص یا انگریزی میں اتھارٹی کہلانے کے لیے لائق و فائق ہوتے ہیں۔ بہر حال یہ تصویر کا ایک رخ ہے دوسرا رخ یہ ہے کہ ہمارے علماء اور دانشور حضرات بھی ان ناہنجاروں کی ہر الٹی اور سیدھی بات کا جواب دینا اپنے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ حالانکہ کبھی کبھار جواب نہ دینا ہی جواب ہوتا ہے۔ کیونکہ جب یہ بات طے ہے کہ اکثر احباب جو فیس بک پر ہوتے ہیں، دینی علوم کی گہرائی اور گیرائی سے نابلد ہوتے ہیں تووہ جاہل ٹھہرے تو بقول سعدی شیرازی
آنست جوابش کہ جوابش نہ دہی
سوشل میڈیا پر آکر دینی معلومات کے انبار شیئر کرنے والے یا بالفاظ دیگر بولنے والے کو آجکل عالم تصور کیا جاتا ہے۔ حالانکہ سوشل میڈیا پر بولنا جس کی وجہ سے معمولی درجے کے تعلیم یافتہ لوگ بھی لائم لایٹ میں آجاتے ہیں کسی کو علم کی سند فراہم نہیں کرسکتاہے۔ یہ ایک کلیہ ہے کہ عالم علم کی وجہ سے اکثر خاموش ہوجاتے ہیں۔ ان کو خاموش کرنے والا اصل میں ان کے معلومات،درک اور عرفان ہوتا ہے۔ حضرت امام اوزاعی علیہ الرحمہ کے ایک شاگرد ابو الفضل بن الولید بن مزید نے اپنے استاد کے بارے میں اپنا تجربہ ان الفاظ میں قلمبند کیا ہے کہ
من نظر فی کتب الاوزاعی یظن انہ کان صاحب کلام،وما رائت قط رجلا اطول منہ سکوتا (الشیخ طٰہ الولی،عبد الرحمٰن الاوزاعی بیروت ۸۶۹۱ صفحہ ۷۶ بحوالہ اسباق تاریخ)
ترجمہ: جو شخص امام اوزاعی علیہ الرحمہ کی کتابوں کو دیکھے گا وہ گمان کرے گا کہ وہ بڑے بولنے والے تھے حالانکہ ان سے زیادہ دیر تک چپ رہنے والا میں نے کوئی دوسرا آدمی نہیں دیکھا۔
میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ سوشل میڈیا کا مطالعہ کرنا علماء اور دانشوروں کو چھوڑنا چاہیے۔نہیں۔ سوشل میڈیا کو ہمارے دانشور، علماء اور اصحاب فکر باریک بینی سے دیکھیں کیونکہ ہمارے سماج میں کیا چیزجی اور پنپ رہی ہے اور کیا چیز مٹ رہی ہے اس کا مشاہدہ اسی کے ذریعے سے ہوگا اور یہ مطالعہ ہمارے دانشوروں کو دعوتی میدان میں کافی مدد دے سکتا ہے۔ بقول کسے
نقشوں کو تم نہ جھانکو نقشوں میں گھس کے دیکھو
کیا چیز جی رہی ہے کیا چیز مر رہی ہے
تاہم سوشل میڈیا پر ہر بات کا رد کرنا اپنے اندر میرے خیال میں نفع کم اور نقصان زیادہ رکھتا ہے۔ کیونکہ علماء کے پاس وہ ٹھوس علم ہوتا ہے جس کی پشت پر وہ قواعد اور ضوابط ہوتے ہیں جن تک ان احباب کی رسائی نہیں ہوتی ہے۔ لہٰذا کبھی کبھار یہ احباب مبادعات دین کا بھی انکار کر بیٹھتے ہیں اور وہ بھی اعلانیہ۔ اصحاب علم اور دانشوران دین کو اظہار منکر کے برعکس ازالہ منکر کے ضابطے کو اپنانا چاہیے تاکہ یہ لائحہ عمل اس بگڑے معاشرے کو کسی حد تک سدھارنےمیں معاون ثابت ہو سکے۔
وما علینا الی البلاغ مبین