Latest Notifications : 
    داعی توحید نمبر

تنقید سلف مذموم کیوں؟


  • سالک بلال
  • Sunday 12th of May 2024 11:30:35 AM

تنقید سلف مذموم کیوں ؟

مجلس علمی در اصل اپنے اسلاف کے علمی توارث کی حفاظت کرنےاور اس کو عام فہم انداز میں آنے والی نسل تک منتقل کرنے کی محنت کا نام ہے۔ کیونکہ اخلاف کو نبی پاک صلی اللہ سے ملانے والا جو واحد ذریعہ ہے وہ ہے" سلف الصالحین " ۔اگر سلف کو بیچ میں سے ہٹایا جائے یا سلف پر اعتبار نہ کیا جائے تو پورا دین مشکوک اور مجروح ہوجائےگا۔کیونکہ جو دین ہم تک پہنچا ہے وہ اسلاف ہی کے ذریعے سے ہم تک پہنچا ہے ۔ قرآن کی کتابت کرنے والے صحابہ تھے ،حدیث کے جمع کرنے والےتابعین اور تبع تابعین تھے جنہوں نے نبوی کلام لفظ بہ لفظ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے سنا اور پھر اس کو قرطاس کے حوالہ کر دیا اور اس طرح حضور صلی اللہ کے ہرقول وعمل اور تقریر کوقلم و قرطاس کے ذریعے محفوظ کرنے والا طبقہ تابعین اور تبع تابعین ٹھرے ۔ قرآن و حدیث ہی دین اسلام کے بنیادی ماخذ ہیں اور اس کوہم تک یعنی آخر امت تک منتقل کرنے والے سلف الصالحین ہی ہیں ۔لہذا ہمارے لیے سلف مقدمہ کی حیثت رکھتے ہیں۔ چونکہ "واجب کا مقدمہ واجب ہوتا ہے "لہذا جس طرح دین پر عمل کرنا فرض ہے اسی طرح وہ ذرائع جن سے ہم تک دین منتقل ہوا ان پر اعتبار کرنا ضروری اور لازم ہے ۔یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفاء راشیدین،صحابہ ،تابعین اور تبع تابعین کے ادوار کو بہترین ادوارہونے کی سند عطا فرمائی ۔ جب حضور علیہ الصلواۃ والسلام ان تین زمانوں کو خیر کی سند فراہم کرتے ہیں تو ان کے ساتھ شر کا انتساب کرنا گویا حضور علیہ الصلواۃ و السلام کے قول مبارک پر عدم اعتماد کرنے کے مترادف ہے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم تمام کے تمام عدول تھے جیسا کہ "تدریب الراوی للسیوطی" کی اس عبارت سے واضح ہے کہ"الصحابۃ کلہم عُدول من لابس الفتن وغیرہم باجماع من یعتد بہ"صحابہ سب کے سب عادل ہیں ،باہمی لڑائیوں میں شرکت کرنے والے بھی اور دوسرے بھی،اہلِ اجماع کا اجماع ہے۔ (تدریب الراوی :۵/۱۷۱،۱۷۸)،تابعین اور تبع تابعین نے اسی عدالت کو توارث میں حاصل کیا ۔ اس چیز کی وضاحت اس بات سے ہوسکتی ہے کہ حضور علیہ الصلواۃ و السلام کی احادیث کو لینے کے سلسلے میں ہمارے ائمہ اورمحدثین نےجتنے سخت شرائط وضع کیے ہیں وہ تمام تر مذہبی تاریخ میں کہیں نظر نہیں آتے۔ جن اصحاب علم کی نظرعلم الروایہ و الدرایہ سے منسلک تمام ذیلی علوم پر ہے وہ اس چیز کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔

اس وقت امت مسلمہ کے ایک خاص طبقہ میں اپنے اسلاف کی تنقیص اور تنقید کا خاصا رحجان پایا جاتا ہے۔ان کے بات کرنے کا اسلوب چونکہ بہت آسان اور عام فہم ہے اوریہ لوگ کسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے جرح و تعدیل کے اصول جو ہمارے مختلف ائمہ اور محدثین نے اپنے لیے وضع کیے تھے ان کو اپنے مطالب و مقاصد حاصل کرنے لیے ہر کسی کے اصولوں میں سے تلفیق کو اپناتے ہوئے اپنے خود ساختہ شرائط تشکیل دیتے ہیں اورپھر ان خود ساختہ شرائط کی بنیاد پر اسلاف کی عدالت اور ثقاہت کو مجروح کرنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔ در اصل یہی وہ آخری طبقہ امت ہے جن کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ وہ اپنے اگلوں پر لعنت کریں گے۔ اس وقت جو اسلاف کی مذمت کرنے کا سلسلہ بہت زوروں پر ہے اس کے بنیادی محرک یہی نام   نہاد متجددین ہیں ۔ یہ در اصل استشراقی کا تحریک کا پیش خیمہ ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جو امت کے قدامتی ثقافت کو مجروح ہی نہیں بلکہ فنا کرنے کا کام کرتے ہیں اور اس طرح اس نبوی پیشین گوئی کے مصداق ٹھرے کہ "حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ قَالَ: نَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ قَالَ: نَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَفْنَى هَذِهِ الْأُمَّةُ حَتَّى يَلْعَنَ آخِرُهَا أَوَّلَهَا"(ترجمہ)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یہ امت تب تک فنا نہیں ہوگی جب تک امت کے آخری لوگ، پہلوں پر لعنت نہ کریں۔"المعجم الأوسط للطبراني:5241

اللہ تعالی اس گمراہی سے امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنے اسلاف پر پورا پورا اعتماد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

 


Views : 220

Editor

Hope readers will leave their comments for healthy discussion. Your comments and opinions are valuable and help us to continue the 'ilmi discourse

2024-05-12 21:41:38


Leave a Comment