Latest Notifications : 
    داعی توحید نمبر

ایک تعزیتی مجلس میں علمی افادات


  • سالک بلال احمد
  • Sunday 28th of April 2024 06:08:55 AM

تعزیتی مجلس 

27 اپریل 2024. بروز سنیچر لاوے پورہ سرینگر ۔

آج 27 اپریل 2024 بروز سنیچر حضرت مولانا غلام محمد پرے صاحب کے دولت کدہ پر بغرض تعزیت حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ۔ صبح کے تقریبا 9 بجے ہم گھر سے نکلے اور 11 بجے مولانا صاحب کے ہاں پہنچے جہاں تعزیت پرسی کا سلسلہ جاری تھا ۔ تعزیت پر جانا جہاں ایک مستقل سنت ہے وہیں تعزیت پر میت کے اوصاف کو بیان کرنا ، فکر اخرت کے عنوان کے تحت وعظ و نصیحت کرنا اور لواحقین کو صبر کی تلقین کرنا وغیرہ بھی ثابت ہے ۔ جونہی ہم مولانا صاحب کے دولت خانہ پر حاضر ہوئے تو ہماری نظر ایک خیمہ پر پڑی جو مرد حضرات سے خچا خچ بھرا ہوا تھا ۔ خیمے میں داخل ہوتے ہی دیکھا کہ جناب مولانا شوکت حسین کینگ صاحب خیمے میں موجود احباب کے سامنے وعظ و نصیحت فرما رہے تھے ۔ بہر حال والد محترم پر جب ان حضرات کی نظر پڑی تو مجمعے میں تھوڑی سی کھلبلی ضرور ہوئی کیونکہ ان حضرات کو والد محترم سے ایک قلبی تعلق ہے اور ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ آسی صاحب نہایت ہی علالت میں تعزیت پرسی کے لیے آئے ہیں جبکہ ان حالات میں ان کا تعزیت پرسی کے لیے آنا ان کے لیے ایک غیر متوقع آمد تھی۔ بہر حال مولانا کینگ صاحب کی بات جاری رہی اور لوگ اس پر مغز علمی گفتگو کو ہمہ تن گوش فرما رہے تھے ، یوں محسوس ہورہا تھا کہ کسی سمینار میں اپنے تحقیقی مقالے کا خلاصہ بیان کیا جارہا ہے۔ مولانا موصوف ہر بات پر متقدمین کی کتابوں کا حوالہ دے رہے تھے ۔چونکہ مولانا پرے صاحب کی والدہ کا انتقال ہو چکا تھا لہذا موضوع بحث والدین کا مقام اور اسی ذیل میں ان احباب کا ذکر جن کو شریعت نے معنوی والدین کا درجہ دیا ہے ۔پھر مرحومین کے ارواح کا ذکر اور ان کی سماعت جب ان کی قبروں پر ایصال ثواب کی غرض سے حاضر ہوتے ہیں وغیرہ ۔احقر کو ان کا بیان سننے کے بعد یہ اندازہ ہوا کہ واقعی حضرت مولانا کی ذات ایک چلتی پھرتی انسائکلوپیڈیا ہے۔ متقدمین کی کتابوں کے حوالے اور مزید بر آں یہ کہ موضوع کی مناسبت سے حوالوں کا پیش کرنا اور وہ اس عمر میں ہم جیسے نوجوانوں کو استعجاب میں ڈالتا ہے ۔کیونکہ آج کل اس قسم کی یاداشت بہت ہی کم دیکھنے کو ملتی ہے ۔ تاہم جب اس قسم کے بزرگوں کی صحبت میسر ہوتی ہے تو ان کی قوت یاداشت دیکھ کر آدمی ان واقعات پر شک کرنا چھوڑ دیتا جو ہمارے اسلامی لٹریچر میں بزرگو ں کی یاداشت سے متعلق درج ہیں ۔ جیسے امام العصر علامہ انوار شاہ صاحب کشمیری رحمہ اللہ کہ جب ان سے کہا گیا کہ اگر اس لائبریری کو ضائع کیا گیا تو پھر کیا ہو گا ۔ اس پر شاہ صاحب نے فرمایا کہ انور ان ساری کتابوں کو اپنی یاداشت کے بل بوتے پر دوبارہ تحریر کرے گا ۔ موضوع کی مناسبت سے مولانا شوکت صاحب نے کتاب الروح ، ذخیرہ الملوک (شاہ ہمدان رحمہ اللہ) شیخ حمزہ مخدوم رحمہ اللہ اور ان کے والدین کے واقعات اور بعد از وفات ان کا اپنے فرزند پر دوسرے ارواح کے سامنے فخر کرنے کا مکاشفہ وغیرہ کا مستند کتابوں کے حوالے کے ساتھ بیان کرنا ہم جیسے ظاہر بینوں کے لیے چشم کشا تھا ۔ ان کے اس بیان سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علم کے میدان میں وادی نہ تہی دست تھی اور نہ ہے۔

بہرحال مولانا نے اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے آخر پر جس انکسار کا اظہار کیا واقعی وہ ہم جیسے ادب کے شاگردوں کے لیے ایک عملی درس تھا ۔ اتنی علمی شان کے باوجود کسر نفسی کا اظہار واقعی اجل علماء ہی کا شیوہ رہا ہے ۔ مولانا موصوف نے بعد میں مجلس علمی جموں و کشمیر سے اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہوئے اور اپنی علمی سرپرستی کا حق ادا کرتے ہوئے پوری مجلس کی طرف سے لواحقین کو پرسہ دیا۔

اس کے بعد محترم آسی صاحب نے جناب مولانا غلام محمد پرے صاحب کی والدہ کے اوصاف بیان کیے ۔ اس ضمن میں فرمایا کہ مولانا محترم کی والدہ ایک متدین اور پارسا خاتون تھی ۔ ہمیشہ ہمیں دعائیں دیتیں تھیں ۔ اسی ضمن میں حضرت شیخ العالم کی دو مریدنیوں کا واقعہ بیان کیا جب شاہ محمد ہمدانی رحمہ اللہ نے ان کی بصیرت افروز باتیں سنی اور ان سے مخاطب ہوا کہ آپ کس جنس سے ہو تو انہوں نے اس استفسار پر ان کو جواب دیا کہ جو طالب دنیا ہوتے ہیں وہ عورتیں ہیں اگر چہ وہ مردوں کی صورت میں ہوں اور جو طالب آخرت ہوتے ہیں وہ مرد ہیں اگر چہ وہ شکلا عورتیں ہوں ۔ یہ سن کر شاہ محمد ہمدانی متحیر ہوئے ۔اس واقعہ سے در اصل آسی صاحب نےہم کو یہ سمجھا یا کہ مولانا پرے صاحب کی والدہ ایسے اوصاف کی حامل خاتون تھی جو اکثر مردان حر میں ہوتے ہیں ۔ اللہ مرحومہ کی مغفرت فرمائے ۔ آمین۔۔۔۔۔

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں

وہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے ہیں۔

 

سالک بلال


Views : 147

Leave a Comment