Latest Notifications : 
    داعی توحید نمبر

اظہار تشکر


  • سالک بلال
  • Friday 2nd of February 2024 02:26:40 AM

اظہار تشکر

حال ہی میرے تایا جان کا انتقال ہوا ۔ میرے تایا جان بڑے ہی شریف النفس اور انسان دوست انسان تھے اور ہمارے لیے ہمارے باپ کے مانند تھے کیونکہ ایک حدیث میں ہے 
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ، وَإِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ۔
(ترجمہ )حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،حضرت عباس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں۔ اور چچا باپ کی طرح ہوتا ہے۔
 میرے والد محترم کے ساتھ انکی کافی شفقتیں رہی ہیں ۔ اس زمانے میں جب پڑھنے لکھنے کا رواج نہیں تھا والد محترم  کے بقول انہوں نے ان کی پڑھائی میں کافی دلچسپی دکھائی ۔ والد محترم یعنی آسی صاحب نے فرمایا کہ میں اپنی طالب علمی کے زمانے میں دینی کتب کا بڑے جوش و خروش سے سے مطالعہ  کرتا تھا ۔اورہمارے اس مطالعاتی مزاج کو پروان چڑھانے میں ان دنوں کسی حد تک جماعت اسلامی کا کافی رول رہا۔ تاہم مجھے کسی ایسی دینی شخصیت سے کوئی رابطہ نہیں تھا جس کی ملاقات ہی میرے اندر ابھرتے سوالات کا جوابنتا ۔بقول مولانا رومی رح

اے لقائے توجواب ہر سوال 
مشکل از تو حل شود بے قیل و قال 
ترجمانی ہر چے ما را در دلست 
دستگیری ہر کہ پایش در گلست

(ترجمہ)
اے !تیری ملاقات ہر سوال کا جواب ہے ۔بیشک تجھ سے مشکل حل ہوتی ہے ۔جو کچھ ہمارے دل میں ہے ، تو اس کا ترجمان ہے ۔جس کا پیر دلدل میں پھنسا ہے تو اس کا مددگار ہے۔

 لہذا انہوں(برادر اکبر مرحوم محمد مقبول رحمہ اللہ ) نے مجھے کہا کہ آپ تو  یہ کتابیں کافی پڑھتے ہو ،کسی زندہ کتاب کو بھی پڑھو ۔کہا میں آپ کو ایک زندہ کتاب دکھاؤں گا جاکراسے پڑھو ۔آسی صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا وہ زندہ کتاب کون ہے اور کہاں ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ مولانا عبد الولی شاہ صاحب ہے جو توحید  گنج بارہمولہ میں مقیم ہیں ۔ ان کی زبان سے مولوی صاحب رحمہ اللہ کی تعریف سننے کے بعد مجھے شوق ہوا کہ ان سے ملاقات کروں۔مولوی ولی صاحب سے میرے تعلق کے پیچھے ان کی  یہی ترغیب  بنیادی محرک بنی۔ چونکہ تایا جان سری کلچر میں بحثیت گارڈ اپنے فرائض انجام دے رہے تھے لہذا  پرگنہ بارہمولہ کے پورے دچھنہ علاقے کے تمام دیہاتوں سے یہ واقف تھے اور اسی دوران ان کو مولوی عبد الولی صاحب سے بھی تعلق ہوا تھا۔والد محترم کو مختلف موقعوں پر نیک مشورے دیتے تھے ۔ اور والد محترم بھی مختلف امور میں اہتمام سے ان سے رائے حاصل کرتے تھے ۔جب ہم والد صاحب سے پوچھتے تھے آپ ان سے ہر معاملے میں اتنےاہتمام سے مشورہ کیوں  کرتے ہیں تو والد محترم اس کے جواب میں ہمیں یہ عربی مقولہ سناتے تھے کہ 
(سل المجرب ولا تسئل الحکیم ) اسی طرح انہوں نےعلاقہ ناروا و میں  دعوت و تبلیغ کے مرکز مسجد نور کی تعمیر و ترقی کے سلسلے میں اپنی بساط کے مطابق والد محترم کی کافی مدد کی ۔ اللہ قبول فرمائے ۔ بہر حال کثرت عیال اورقلیل آمدنی کی وجہ سے وہ جوانی میں حرمین کی زیارت نہیں کر سکے اور اس کا ان کو کافی قلق تھا ۔ نوکری سے سبکدوشی کے بعد والد محترم سے خواہش ظاہر کہ کہ میں آپ کے ساتھ عمرہ کروں گا انہوں نے بھی حامی بھری تھی تاہم حالات نے ساتھ نہیں دیا اور اس طرح ان کی برادر اصغر کے ساتھ یہ فریضہ پورا کرنے کی خواہش پوری نہ ہوسکی ۔ تاہم وفات سے ڈیڑھ مہینہ پہلے اللہ نے ان کی زیارت حرمین کی خواہش پوری کی اور وہ عمرہ کر کے آئے ۔ عمرہ کے دوہفتے بعد (قلیل مدت بستر علالت پر رہنے کے بعد) عمرہ کی ان کیفیات میں رہتے ہوئے جان جان آفرین کےسپرد کر دی ۔بس اس شعر کے مصداق بنے :
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی 
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

ان کی وفات کی خبر سنتے ہی عزیز و اقارب اور والد محترم کے تعلق داروں کا تانتا بندھا رہا ۔ہم  تعزیت کرنے والے تمام احباب کا فردا فردا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے مسنون طریقے سے ہماری ڈھارس باندھی اور مرحوم کے حق میں ایصال ثواب کیا ۔ علاقہ نارواو کے تمام باشندگان،محکمہ سری کلچر کے ملازمین ،محکمہ تعلیم سے وابستہ ملازمین ،جنگلات سے وابسطہ ملازمین ،مجلس علمی کے زعماء خصوصا مولانا غلام محمد پرے صاحب ،مولنا شوکت حسین کینگ صاحب اور ڈاکٹر شکیل صاحب  ،محسن انسانیت جموں و کشمیر کے چیرمین جناب طالب بشیر ندوی صاحب ، دارالعلوم مصطفوی کے مہتمم اور مفتی اعظم بارہمولہ مفتی عبد الرحیم قاسمی صاحب ، دارالعلوم شیری کے مہتمم مولانا شیخ عبد القیوم قاسمی اور مولانا محمد یوسف جمیل ندوی صاحب،دارلعلوم قریشیہ شیری کے چیرمین محترم فاروق احمد بٹ صاحب و دیگر اراکین انتظامیہ، برادر الطاف جمیل صاحب ،جامع مسجد شیری کی تمام انتظامیہ ، جموں و کشمیر اسلامک اسٹیڈیز ویلفئر ایسوسیشن  کے چیرمین  و سکریٹری محترم  سید شمیم بخاری و محترم  منظور احمد قریشی ،تبلیغی جماعت سے وابسطہ احباب خصوصا ماسٹر عبد الرشید وانی صاحب بارہمولہ ،ادبی شخصیتوں میں خصوصا محترم عبد الخالق شمس جنہوں نے جموں سے فون پر تعزیت کی اور سیاسی و غیر سیاسی احباب کے علاوہ بالخصوص ہمسایوں کا جنہوں نے حق ہمسائیگی کا مثالی ثبوت پیش کیا فردا فردا شکر گذار ہوں ۔ میں اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی آپ کو اجر عظیم سے نوازے۔

سالک بلال


Views : 41

Leave a Comment