Latest Notifications : 
    داعی توحید نمبر

التصريح بما تواتر في نزول المسیح  -  ایک تعارف (قسط سوم)  


  • ڈاکٹر شکیل شفائی
  • Thursday 18th of January 2024 12:01:18 PM

 التصريح بما تواتر في نزول المسيح  -  ایک تعارف 

( قسط - 3)

کتاب کی ابتداء میں محققِ کتاب شیخ عبد الفتاح أبوغدہ کا کتاب کی تیسری اشاعت پر لکھا ہوا ایک پیش لفظ ہے - اس میں وہ لکھتے ہیں کہ اس کتاب کی وجہِ تصنیف مصنف کے نزدیک یہ تھی کہ ایک گمراہ فرقہ " قادیانیہ" کے کفر و ضلالت اور ملّتِ اسلامیہ سے خارج ہونے کی وجوہات سے پردہ کشائی کی جائے جیسا کہ علامہ کشمیری رحمہ اللہ کے شاگرد مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے اپنے مقدمے میں اس کی تفصیل دی ہے - پھر انہوں نے اُن اسباب پر بھی روشنی ڈالی ہے جنہوں نے شیخ کو کتاب کی تحقیق و تخریج پر مہمیز دی ہے - 
اس کے بعد شیخ نے اپنی ایک نہایت عمدہ تحریر درج کی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو احادیث زمانہِ فِتَن یا قُربِ قیامت میں پیش ہونے والے واقعات کے متعلق بیان فرمائی ہیں اُن سے مسلمانوں نے غلط طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس آخری زمانے میں غلبہِ اسلام کی کوششوں کو بروئے کار لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے - یعنی انہوں نے حالات کو تقدیر کے حوالے کردیا ہے - وہ سمجھتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہوگا تو پھر لامحالہ وہی ہوگا لہذا ان حالات میں غلبہِ اسلام کی کوششوں کا کوئی ثمر برآمد نہیں ہو سکتا - شیخ لکھتے ہیں کہ اس غلط سوچ نے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور انہیں دینی ' تربیتی ' اصلاحی کوششوں اور کاوشوں کے تئیں بالکل معطّل کردیا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر دنیوی معاملات میں انہوں نے اپنی کوششوں کو ترک نہیں کیا بلکہ مال ودولت کمانے ' عالیشان عمارات تعمیر کرنے ' عیش و عشرت کے جملہ سامان بہم پہنچانے میں انہوں نے کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا لیکن جب بات دینی ' تبلیغی ' دعوتی ' تعلیمی غلبہ کی کوششوں تک پہنچی تو انہوں نے فوراً اسی شیطانی فکر کی پناہ لی - وہ لکھتے ہی 
" لو كانت هذه الفكرة صحيحة سليمة ثابتة لما كان الجهد و الجهاد من السلف في دفع كل زيغ و انحراف من أي مبطل كان: أجنبياً أو عربياً ' مسلماً في الصورة أو كافراً لأننا إذا مشينا في ظل هذا الفكر الزائغ لزمنا أن نستسلم لكل ما يواجهنا من صعوبات و تحديات في مختلف الشئون و المستويات و هذا الأمر لا يقول به العاقل فضلاً أن يكون الشرع الإسلامى أراده منٌا و حاشا شرْع الله من أن يضاف إليه ذلك - 
فلماذا يسعى هؤلاء الجاهلون المصابون بهذه الفكرة المريضة في تنمية أموالهم و أحوالهم و تحسين عيشتهم و سكنهم وما إلى ذلك من أمور الدنيا و مرافق الحياة ؟ فإذا جاءوا إلى أمور الدين و الجهاد لبستهم هذه الفكرة الشيطانية فضلّوا و تخاذلوا عن نصرة دينه 

 اگر یہ سوچ صحیح سالم اور ثابت ہوتی تو ہمارے اسلاف زیغ و انحراف کی تمام صورتوں کے خلاف ' چاہے وہ اجنبی ہوں یا عربی ' مسلمان ہوں یا کافر ' جدوجہد نہیں کرتے - یہ اس لیے کہ اگر ہم اس گمراہ سوچ کے سائے میں چلیں تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہم تمام مشکلات اور چیلنجوں کے سامنے سرنگوں ہو جائیں جو مختلف میدانوں اور معیارات میں ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں - یہ بات تو کوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا چہ جائیکہ شریعتِ اسلامیہ ہم سے ایسا چاہے حاشا کہ اللہ کی شریعت اس فکر سے منسوب ہو 
پھر یہ جاہل ' اس بیمار سوچ کے مریض اپنے اموال و احوال کی ترقی میں کوشش کیوں کرتے ہیں اور اپنے رہن سہن کو اور زیادہ خوبصورت بنانے میں تگ و دو کیوں کرتے ہیں - جب امورِ دین اور دینی جدوجہد کی بات آتی ہے تو وہ اس شیطانی فکر کو اوڑھ لیتے ہیں' اس طرح گمراہ بھی ہوتے ہیں اور دین کی نصرت سے محروم بھی ہوجاتے ہے 

شیخ نے اپنی بات کی تائید میں ایک تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ علیہ کے اُسوہ سے دلیل ہے جب انہوں نے دخولِ شام کے موقعے پر" نفرّ من قدر الله إلى قدر الله" فرمايا تھا گویا انہوں نے طاعون سے بچنے کی تدبیر کو تقدیر ہی کا حصہ قرار دیا تھا دوسرے شیخ نے شیخ المشائخ سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے ایک قول سے بھی استدلال کیا ہے - شیخ فرماتے ہیں:
" ليس الرجلُ يسلِّم - أی - یستسلم للأقدار ' إنما الرجل الذي يدفع الأقدار بالأقدار - و في رواية ثانية عنه يقول: نفرّ من القدر الفاضل إلى القدر الأفضل "

" آدمی وہ نہیں جو تقدیر کے سامنے سرنگوں ہو جائے بلکہ تقدیر کو تقدیر سے ٹال دے اور دوسری روایت میں فرمایا: ہم فاضل تقدیر سے افضل تقدیر کی طرف جاتے ہی 

اسی طرح انہوں نے حافظ ابن القیم رحمہ اللہ کی کتاب " مدارج السالکین " سے بھی اُن کا یہ قول نقل کیا ہے 
 النظر إلى الأقدار هو المجال الضنك و المعترك الصعب الذي زلّت فيه أقدام ' ضلّت فيه أفهام و افترقت بالسالكين فيه الطرقات و أشرفوا - إلّا أقلّهم - على أودية الهلكات 

 تقدیر پر انحصار کرنا تنگ دائرہ ہے' مشکل میدانِ معرکہ ہے جس میں قدم پھسل گئے ' عقلیں گمراہ ہوئیں ' سالکین مختلف راستوں پر بھٹک گئے اور ایک قلیل تعداد کو چھوڑ کر ہلاکت کی وادیوں میں گر گئے 

یہاں کسی کو یہ شُبہ نہ ہو کہ یہ بزرگ تقدیر کا انکار کررہے ہیں - تقدیر کا انکار کفر ہے - اس کا ارتکاب تو کوئی عام انسان بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ اتنے بڑے درجے کے بزرگ اس کا انکار کریں - دراصل تقدیر ایک پوشیدہ اور مخفی امر ہے لہذا انسان کو ہرگز یہ مناسب اور روا نہیں کہ وہ ایک مخفی اور پوشیدہ امر کے طبع زاد مفہوم پر انحصار کرکے تدبیر سے جی چرائے - اس طرح تو پورا کارخانہِ حیات ہی معطّل ہوکر رہ جائے گا - چونکہ صوفیاء کے ایک گروہ میں یہی سوچ پنپی تھی اور وہ تدبیر اختیار کرنے کو دنیا داری اور توکل کے منافی سمجھنے لگے تھے اس لیے اس سوچ کی اصلاح ضروری تھی - اس مسئلے کی مزید وضاحت کے لیے قارئین مولانا شبیر احمد عثمانی مرحوم کی کتاب " مسئلہِ تقدیر اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی مرحوم کی کتاب  مسئلہ جبر و قدر" کو ملاحظہ کر لیں
                            ( جاری) 

( شکیل شفائی)


Views : 120

Leave a Comment