Latest Notifications : 
    Book release of Majlis Ilmi Jammu and Kashmir

کیا آپ نے اس کتاب کو پڑھا ہے؟


  • Dr Shakeel Shifayi
  • Monday 17th of January 2022 12:23:34 PM

ہرچند طبعیت ٹھیک نہیں ہے پھر بھی للہ فی اللہ یہ چند سطور اپنے احباب و أصدقاء کے استفادے اور حصولِ نفعِ دینی کے لیے قلمبند کر رہا ہوں -آپ میں سے بہت سے لوگوں نے ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی رحمہ اللہ کی شہرہ آفاق کتاب " السنة و مكانتها في التشريع الإسلامي"  کا مطالعہ کیا ہوگا - برسوں پہلے میں نے بھی اس کتاب کی ورق گردانی کی تھی - یہ کتاب تحفیظِ سنت ' تأصیلِ تاویلاتِ فاسدہ' انہدامِ افکارِ مستشرقین اور ازالہِ شکوک و وساوس کے علاوہ علمِ اصولِ حدیث ' اس کی تاریخ تدوین' منکرینِ حدیث کے ابتدائی نقوش ' فِرَق ضالّہ کا حدیث میں شبہات پیدا کرنے کی نامسعود کاوشیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی ذوات مقدسہ کو داغدار کرنے نیز محدثین کے تئیں استہزا و اہانت کی ناپاک کوششوں  کو طشت ازبام کرنے کے حوالے سے ایک شاہکار کتاب تسلیم کی گئی ہے -

ہر چند برصغیر کے علماء میں سے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ' مولانا محمد ادریس کاندھلوی' مولانا ظفر احمد عثمانی ' قاری محمد طیب' مولانا عبدالرحمن کیلانی ' مولانا حبیب اللہ مختار رحمہم اللہ اور جسٹس تقی عثمانی کے علاوہ علماء کی ایک لمبی فہرست ہے جنہوں نے اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس موضوع پر گراں قدر تصنیفات کا ذخیرہ تیار کیا لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی رح کی کتاب کی اہمیت کسی طور کم نہ ہوئی - علمی حلقوں میں اس کو ہمیشہ ذوق و شوق سے پڑھا گیا -
اس کتاب میں ہمیں کیا ملے گا؟
اس کتاب سے ہمیں درج ذیل امور سے آگہی حاصل ہوگی :
* مستشرقین کی اکثریت اسلامی علوم میں تبحر نہیں رکھتی تھی - اس میدان میں ان کی معلومات ہمارے یہاں کے متوسط درجے کے علماء کے برابر بھی نہیں تھیں - یہ جو ان کی مہارت کا ہوّا کھڑا کردیا گیا یہ عالمی سطح پر ایک بُنی  گئی گہری سازش کا شاخسانہ ہے-

* مستشرقین دجل ' فریب'  جھوٹ ' غلط بیانی' تحریف ' تلبیس جیسے ہتھکنڈے استعمال کرنے میں کوئی شرم و حیا محسوس نہیں کرتے بلکہ ان کی نشاندہی کرنے پر چراغ پا ہوتے ہیں -

*مستشرقین اکثر مقامات پر مختلف وجوہات کی بنا پر (مثلاً عربی یا دیگر مشرقی زبانوں سے رسمی واقفیت کے سبب) مراد و مقصود کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں لہذا ان مواقع پر خانہ زاد معانی نکال کر ان پر اپنے فکر و نظر کی گرہیں لگا دیتے ہیں -

* مستشرقین کی اکثریت یہود تھی یا عیسائی - یہ سب مسلمانوں کے خلاف ضد ' عداوت' تعنف' تعصب' دشمنی ' بغض' عناد وغیرہ رذائل سے بھرے ہوئے تھے -

* تحریکِ استشراک دراصل تحریکِ استعمار کا جزو لا ینفک تھی جو اس وجہ سے وجود میں لائی گئی تاکہ مسلمانوں کے مفتوح علاقوں اور معاشروں میں ایسے افراد تیار کیے جائیں جو مغربی استعمار کے خاکوں میں رنگ بھر کر ایک طرف مغربی علوم کی برتری ثابت کریں اور دوسری طرف خود مسلم نوجوانوں میں اپنی تہذیب و ثقافت کے تئیں شکوک و شبہات کے بیج بوئیں -

* ڈاکٹر ابو ریہ ( جن کی کتاب کے جواب میں مصنف نے اپنے ایم اے کے  مقالے کو کتاب کی صورت شائع کیا جس پر سردست گفتگو ہورہی ہے) کی کتاب " الاضواء علی السنة المحمدية" انہی مستشرقین ' ائمہ معتزلہ' غالی شیعہ کے زہر آلود نظریات اور ادبی قصہ کہانیوں پر مشتمل ہے - انہی سے اس مرعوب مشرقی نام نہاد مصنف نے اپنی کتاب کی عمارت کھڑی کی ہے -
* اس کتاب میں ان غالی اہل تشیع کے دجل و فریب سے بھی پردہ کشائی کی گئی ہے جن کے منہ میں دو زبانیں ہوتی ہیں - ایک زبان سے اتحاد بین المسلمین کی بات کرتے ہیں اور دوسری زبان سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر تبرّا کرتے ہیں -

* مصنف علّام نے کبار مستشرقین اور علمائے تشیع سے اپنی ملاقات کے واقعات نقل کئے ہیں اور اپنے مشاہدہ و معاینہ کی بنا پر اپنی رائے قائم کی ہے -

یہ ساری تفصیل مقدمے میں درج کی گئی ہے جو کتاب کے صفحہ 39 سے لیکر صفحہ 125 تک پھیلا ہوا ہے - کتاب دو جلدوں میں ہے یہاں صرف پہلی جلد کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے - کتاب میں دو باب اور دس فصلیں ہیں - ان میں سنت کے لغوی و اصطلاحی معنی ' وضعِ حدیث اور اس سے متعلق بحوث' وضعِ حدیث کے مقابلے میں علمائے حدیث کی کاوشیں ' ائمہ حدیث کی مساعی اور ان کے ثمرات' مختلف زمانوں میں حدیث کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کیے جانے کا بیان ' شیعہ و خوارج کا سنت کے ساتھ رویہ' متقدمین میں منکرین حدیث ' دورِ حاضر میں انکارِ حدیث ' خبر واحد کی بحث ' معتزلہ اور متکلمین کا سنت کے ساتھ رویہ اور عہد حاضر میں بعض اہل قلم کا سنت کے تئیں موقف وغیرہ جیسے اہم اور بنیادی باتوں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے - دوسری جلد کا تعارف طوالت کی وجہ سے قلم انداز کیا جاتا ہے لیکن وہ بھی ایسے ہی اہم ترین مباحث پر مشتمل ہے - 
اس کتاب کے کسی اردو ترجمے کا ذاتی طور پر مجھے علم نہیں ہے الا یہ کہ ایک سلفی عالم نے اس کے مقدمے یا کسی باب یا فصل کا ترجمہ کرکے شائع کیا تھا جو میرے پاس موجود ہے' معیاری ہے لیکن غالباً اس کی کوئی خاص ضرورت رہی ہوگی لہذا ظاہر ہے یہ کفایت نہیں کرتا ہے - اب حال ہی میں مدرسہ اسلامیہ کراچی کے ایک فاضل ڈاکٹر مولانا احمد حسن ٹونکی کا ترجمہ شائع ہوا ہے - یہ ترجمہ سالوں پہلے کیا گیا تھا مجھے نہیں معلوم اس سے پہلے اس کی کوئی اشاعت ہوئی ہے یا نہیں - لیکن یہ بڑا شاندار ترجمہ ہے اور پوری کتاب کا احاطہ کرتا ہے - اس پر اپنے دور کے عظیم محدث مولانا محمد یوسف بنوری رح کا گراں بہا پیش لفظ بھی ہے جو بذات خود ایک وقیع تحریر کا حکم رکھتا
ہے - مولانا بنوری نے برصغیر کے نامی گرامی علماء کی ان کتابوں کی ایک فہرست بھی دی ہے جو اسی موضوع سے تعلق رکھتی ہے بلکہ انہوں نے اپنے مدرسے کے فارغ علماء کی کتابوں کی بھی ایک مختصر فہرست دی ہے جو اسی موضوع پر تیار کی گئی ہے -
ترجمہ اصل کے مطابق ہے ' بامحاورہ ہے - اس پر کسی طور ترجمے کا گمان نہیں گزرتا بلکہ اصل تصنیف معلوم ہوتی ہے -
میری ناچیز رائے میں ہر محب سنت مسلمان ( اور وہ الحمدللہ سب ہی ہیں) کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے' بالخصوص جو عربی میں نہیں پڑھ سکتے - اس کتاب کو پڑھ کر ہی اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے -

 


Views : 119