Latest Notifications : 
    Book release of Majlis Ilmi Jammu and Kashmir

Editorial(اداریہ )


  • Salik Bilal
  • Sunday 23rd of January 2022 04:07:49 AM

آکر عروج کیسے گرا ہے زوال پر
حیراں ہو رہا ہوں ستاروں کی چال پر  (زیبؔ) 
تحریکوں میں نئے افراد کا آنا ایک فطری عمل ہے۔ کوئی تحریک خواہ کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہوئی ہو اس میں جو مخلصین کی محنتیں لگی ہوتی ہیں ان محنتوں کے باعث کوئی دینی تحریک راتوں رات صفحہ   ہستی  سے معدوم نہیں ہوتی۔لہٰذا تحریک میں نئے احباب کے آنے پر اس تحریک کے ذمہ داروں کو زیادہ خوش نہیں ہونا چاہیے۔کسی تحریک کے لیے سب سے زیادہ قابل اطمینان بات یہ ہوتی ہے کہ اس  کے اکابرین میں اتفاق ہو۔وہ آپس میں سر پھٹول نہ کریں اور تحریک کے ساتھ دیرینہ وابستگی رکھنے والے افراد تحریک کے ذمہ داروں سے دوری اختیار نہ کریں۔اگر تصویر کچھ اس کے برعکس نظر آرہی ہے تو سمجھنا چاہیے کہ تحریک کے کارکنوں میں اب شاید وہ اخلاقی بر تری نہیں رہی  ہے۔ اس قسم کے کارکن چونکہ اپنے حقیر مفادات کی وجہ سے تحریک میں گھسے ہوتے ہیں لہٰذا وہ ہر عافیت پسند انسان جو اصولی تنزل کی وجہ سے دوری اختیار کرنے کو ترجیح دیتا ہے کو غیر مخلص ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے پیچھے پیچھے چلنے والے افراد کو جمانے کے لیے  مصنوعی طریقے اختیار کرتے ہیں۔مثلاً ایک خوبصورت جملہ ناصحانہ انداز میں  بولتے ہیں کہ اللہ نے  ان کو مردہ مچھلی کی طرح باہر کردیا۔جب تک زندہ تھے تو تحریک کا حصہ تھے اور اب مرگئے لہٰذا ہاہر ہوئے۔ حالانکہ اس طرح کے جملوں کا انطباق ایسے نفوس پر کرنا سراسر ظلم  ہے۔  
 لہٰذا ظاہری ڈھانچے یا نقل و حرکت کو دیکھ کر یہ نتیجہ اخد کرنا کہ کام ہورہا ہے بذات خود ایک دھوکہ ہے۔افراد کی کثرت اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ دینی تحریکوں کا عروج و زوال اس سے وابسطہ افراد کے اخلاقی معیار پر منحصر ہوتا ہے۔ جس طرح دین اسلام اور حضرت محمد ﷺ کی حیات طیبہ کے باہمی تعلق کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح کسی تحریک کو اس کیساتھ منسلک افراد سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا  ہے۔ لہٰذا اگر کوئی تحریک کافی عروج کے بعد زوال کا شکار ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے ساتھ منسلک افراد تحریک کے اصلی سپرٹ سے یا تو نابلد ہیں یا اس کو یکسر نظر انداز کر رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگ اس سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ 
اس مختصر سی تمہید کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عصری دینی تحریکوں سے منسلک افراد کو اس چیز کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا ہم اصولی انحراف کا شکار تو نہیں ہوئے ہیں کیونکہ داعی اعظم ﷺ کی حیات اور تعلیم میں یہ کشش ہے کہ مخالف دوست بنتے ہیں اور دوست جانثار۔  
  شیخ سعدی کے یہ خوبصورت اشعا ر شایدان ہی سطور کی ترجمانی کرتے ہیں 
شنیدم کہ مردان راہ خدا 
دل دشمناں ہم نہ کردندتنگ 
ترا کے میسر شود ایں مقام 
کہ بادوستانت خلاف اس جنگ 
(ترجمہ)

میں نے سنا ہے کہ خدا کی راہ میں جد و جہد کرنے والے نیک لوگ دشمنوں کا دل بھی تنگ نہیں کرتے ہیں۔لیکن میرے بھائی تجھے وہ مقام کب حاصل ہو جائے گا کیونکہ تمھاری لڑائی تمھارے دوستوں کے ساتھ ہی ہے۔ 


 


Views : 172