Latest Notifications : 
    داعی توحید نمبر

مولانا عبد السلام بٹھوی مرحوم کی "تفسیر القرآن الکریم"پر ایک نظر


  • ڈاکٹر شکیل شفائی
  • Wednesday 13th of September 2023 06:17:45 AM

مولانا عبدالسلام بٹھوی مرحوم کی " تفسیر القرآن الکریم " پر ایک نظر 

قسط  (۱) 

قرآن کریم کی تفسیر کا سلسلہ خود رسول محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس سے شروع ہوا - احادیث رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) میں ایک معتدبہ حصہ قرآن کی تفسیر پر مشتمل ہے جبکہ اپنے وسیع تناظر میں آنحضرت ﷺ کی پوری حیات طیبہ قرآن کی تفسیر و تشریح اور تعبیر و توضیح پیش کرتی ہے- لہذا کہا جا سکتا ھے کہ تفسیر کا سلسلہ نزولِ قرآن کے ساتھ ہی شروع ہوا ہے- پہلی صدی سے لیکر تایں دم دنیا کی تقریباً ہر زبان میں تراجم و تفاسیر قرآن کا اہتمام ہوتا رہا ہے- چونکہ قرآن اسلامی تعلیمات و ارشادات' اوامر و نواہی' عقائد و عبادات اور معاملات و معاشرت کی خشتِ اول ہے اس کی اسی اہمیت کے پیش نظر مسلمانوں نے اس کی تفسیر و تشریح کے ساتھ خصوصی اعتناء برتا- 
اردو زبان میں وللہی خاندان سے ترجمہ و تفسیر کا سلسلہ شروع ہوا اور یہ آج تک جاری و ساری ہے- اردو میں سینکڑوں تفاسیر منظر عام پر آچکی ہیں اور مستقبل میں بھی یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا " لو کان البحر مدادا لکلمات ربی لنفد البحر قبل أن تنفد کلمات ربی ولو جئنا بمثلہ مددا " کا یہی تقاضا ہے- 
مضمون ہذا میں پڑوس ملک کے معروف اہلحدیث عالم مولانا عبدالسلام بٹھوی رح کی " تفسیر القرآن الکریم " کے بارے میں چند مختصر تعارفی و تاثراتی کلمات زیرِ تحریر لانا مقصود ہے- یہ تفسیر " الحرمین پبلکیشنز- گاؤ کدل' سرینگر سے دو جلدوں میں شائع ہوئی ہے- 

مولانا عبدالسلام بٹھوی:  مولانا کی پیدائش 1946 میں ضلع اوکاڑہ' تحصیل دیپالپور کے ایک گاؤں بھٹہ محبت میں ہوئی- اس نسبت سے بٹھوی کہلاتے ہیں۔
حفظِ قرآن اور میٹرک کرنے کے بعد اول جامعہ محمدیہ اوکاڑہ میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے فراغت حاصل کی- وہ عربی/فارسی کے ساتھ فاضلِ طب بھی تھے- 27سال تک درس و تدریس سے وابستہ رہے- تفسیر قرآن کے علاوہ صحیح بخاری کی شرح بھی شروع کی تھی جو بوجوہ مکمل نہیں ہوسکی- اس کے علاوہ بھی چند کتب ان سے یادگار ہیں- انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلیں-مئی 2023 میں انتقال کیا - رحمہ اللہ

تفسیر ہذا دو جلدوں میں ہے- پہلی جلد سورہ فاتحہ سے شروع ہوکر سورہ فرقان پر ختم ہوتی ہے اور دوسری جلد سورہ شعراء سے شروع ہوکر سورہ ناس پر ختم ہو جاتی ہے- 
تفسیر کا آغاز " عرض مترجم " سے ہوتا ہے- اس میں مولانا بٹھوی مرحوم نے اردو کی بے شمار تفسیروں کی موجودگی میں ایک نئی تفسیر کو پیش کرنے کے جواز پر گفتگو کی ہے- وہ لکھتے ہیں کہ شاہ عبدالقادر دہلوی اور شاہ رفیع الدین دہلوی سے اردو تراجم و تفاسیر کا ہندوستان میں آغاز ہوا- اس کے بعد تراجم و تفاسیر کا ایک لا متناہی سلسلہ چل پڑا- انہوں نے لکھا ہے :

" شاہ عبد القادر کا ترجمہ بامحاورہ اردو میں اور شاہ رفیع الدین کا ترجمہ لفظی ہے اور دونوں بہترین ترجمے ہیں- ان کے بعد اکثر حضرات کے تراجم بامحاورہ اور چند ایک کے لفظی ہیں مگر ان تمام تراجم کے باوجود کام کی گنجائش باقی ہے- (ص 7) 

پھر انہوں نے اجمالی طور پر اردو تراجم میں واقع ہونے والے تسامحات کا ذکر کیا ہے اور یہی ایک نئے ترجمہ اور تفسیر کا جواز بھی دیتے ہیں- 
مولانا عبدالسلام مرحوم کا کہنا ہے کہ ہرچند ایسا ترجمہ جس میں تمام معانی و مطالب اور فصاحت و بلاغت کے تمام نِکات آسکیں ممکن نہیں ہے تاہم بقدر وسعت و ظرف ان امور کو ترجمہِ قرآن میں پیش کرنے کے ہم مکلف ہیں-

                          (جاری) 


Views : 186

Leave a Comment