Slider Javascript

راہِ نجات ایک تعارف

قصبہ بارہ مولہ ایک قدیم ،مشہور اور معروف قصبہ ہے ۔جغرافیائی حیثیت سے بھی اس کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے ۔کیونکہ بیرونی
دنیا کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے لئے یہ قصبہ ایک گیٹ وے (Gateway)کا کام دیتا تھا ۔ملک تقسیم ہونے سے پہلے یہ قصبہ کشمیر کی ایک تجارتی منڈی کے نام سے معروف
تھا ۔تہذیب و تمدن کے اعتبار سے اورتاجر پیشہ ہونے کی وجہ سے لو گ بڑے خوش اخلاق اور علم و ادب کے نور سے ہمیشہ آراستہ رہے ۔اگر چہ کشمیر میں چند دیگر راستوں سے لوگوں کا آنا جانا رہا ۔لیکن عملی اعتبار سے جب سے ملک کے اندر کھلی سڑکوں اور
شاہراہوں کا سلسلہ شروع ہوا یہی قصبہ نمبر ایک کی حیثیت میں ابھر کر سامنے آیا ۔تقسیم ملک تک بارہمولہ سے سرینگر تک کشتیوں کے ذریعے مال برداری کا کام ہوتا تھا گویا یہ اس وقت کا ایک آبی ٹرانسپورٹ تھا ۔تقسیم ملک کی مصنوعی لکیر نے اس قصبے کو بری طرح متاثر کیا ۔لیکن اس کے باوجود اپنی تاریخی خصوصیات کی وجہ سے یہ قصبہ اس وقت بھی ایک مخصوص شان و شوکت کا مالک ہے ۔

مزید پڑھیں

مجلس علمی کا قیام اور اس کے اغراض و مقاصد

تمام اہل علم جانتے ہیں کہ اسلام کے داعیوں نے اسلام کو کئی صورتوں سے دنیا والوں کے سامنے پیش کیا اور ہر صورت اپنی جگہ ایک خاص اہمیت رکھتی ہے اور اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے یہ کسی جاہل کا انداز فکر ہی ہو سکتا ہے کہ وہ صرف اپنی طرز کی کارکردگی کو ہی اسلام کے پھیلنے اور پنپنے کا واحد طریقہ سمجھ لے ۔داعیان اسلام نے ہر دور میں اپنی پر جوش دعوت کے ذریعے اسلام کے پیغام کو عام کرنے کی کوشش کی۔ ائمہ اور محدثین نے درس و تدریس کے ذریعے اسلام کی محافظت کا فریضہ انجام دیا ۔حضرات علمائے کرام نے اپنی تحریر و تصنیف کے ذریعے اسلام کو فروغ دیا اور صوفیائے کرام اور اولیائے عظام نے خانقاہوں کے ذریعے اسلام کی روح سے طالبوں کو آشنا کیا ۔یہ ساری باتیں اسلام کے لیے ایک مثبت پروگرام ہے ۔اور ان تمام عاشقان اسلام کے درمیان ایک زبردست تال میل کی ضرروت ہے ۔لیکن بدقسمتی سے کچھ ایسی ہوا چلی کہ کچھ لوگ اپنے مخصوص حلقے کے اندر کام کرتے رہے ۔اور دوسرے کے کام کو یا تو شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے یا ان کی اہمیت کم کرنے کے لیے اور اپنے کام کو موثر ثابت کرنے کے لیے اپنا زور بیان اور زور قلم صرف کرنے لگے ،جو کوئی نیک شگون یا خوش آیند بات نہیں ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر طبقہ اپنا فریضہ انجام دیتے وقت دوسروں کے اکرام و احترام کا بھی خیال رکھے اور ہر طبقہ کواپنے دعا ئے خیر میں حصہ دار بنائے ۔ ان چار شعبوں میں تحریر و تصنیف کا شعبہ بھی ایک زبردست شعبہ ہے ،جس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے ۔ یہ قلم ہی ہے

مزید پڑھیں

مزید دیکھئے