مضامین /   Articles

مولانا عبد الولی شاہ صاحب ؒ (2019-03-25)

مولانا عبد الولی شاہ صاحب ؒ بارھمولہ "خلیفہ اجل حکیم الامت مجدد ملت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی صاحب نور اللہ مرقدہ"

مولانا ؒ کے وا لد صاحب کا اسم گرامی سید یاسین شاہ ؒ تھا ۔مولانا کی پیدائش کے وقت وہ دیو بگ ٹنگمرگ میں رہتے تھے ۔کیونکہ انھوں نے وہاں ہی شادی کر لی تھی ۔بچپن میں ہی والد صاحب کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔پھر چچا نے آبائی گاؤں ناران تھل لایا ۔ابتدائی بچپن ناران تھل میں گزارااس کے بعد علاقہ ویری ناگ کے ایک گاؤں قمر وار میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجے گئے ۔وہاں پر ایک رشتہ دار کے پاس رہ کر اس وقت کی مروجہ تعلیم کے مطابق گلستان ،بوستان اور دیگر بنیادی کتابیں پڑھیں ۔اس کے بعد سرینگر میں مولوی رسول صاحب کے مدرسہ میں داخلہ لینا چاہا۔لیکن مولانا کے ایک رشتہ دار میر مقبو ل صا حب کے والد صاحب نے وہاں پر تعلیم حاصل کرنے سے روک لیا میر واعظ خاندان (کلان)والوں کے ساتھ میر صاحب کے والدکو فکری اختلاف تھا ۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مولوی صاحب ؒ امرتسر تشریف لے چلے۔وہاں ان دنوں مدرسہ نعمانیہ میں مفتی اعظم امرتسر مولوی غلام مصطفےٰ صاحب مسندِ درس سنبھالے ہوئے تھے ۔ان کے معاون مولانا محمد حسن صاحب تھے جو حضرت تھانویؒ کے اجل خلفاء میں سے تھے ۔یہاں سے فارغ ہونے کے بعد حسن پور ضلع مراد آباد چلے گئے جہاں ایک نواب کے مدرسہ میں ایک پیرانہ سال عالم دین مولانا ولی احمد صاحبؒ پڑھاتے تھے ۔وہ اکابرین دیوبند میں شمار ہوتے تھے ۔ساتھ ہی حضرت تھانوی کے خلفاء میں سے تھے ۔ظاہری تعلیم کے ساتھ ساتھ مولانا نے یہاں رہ کر باطنی فیوض بھی حاصل کئے ۔اپنے اس استاد سے مولانا نے منطق، فلسفہ اور کئی دیگر علوم حاصل کئے۔ تمام ضروری علوم حاصل کرنے کے بعد دہلی میں مولانا کفایت اﷲ صاحب کے مدرسہ میں۱۳۳۹ ھ میں داخلہ لیا اور وہیں سے اپنی سند فراغت حاصل کی اور ادھر ہیے آپ کی دستار بندی ہوئی۔فارٖ التحصیل ہونیکے بعد امرتسر میں بحیثیت استاد تعینات ہوئے ۔چند سال استاد رہنے کے بعد واپس کشمیرتشریف لائے اور اپنی جگہ مولوی عبد الکبیر صاحب کو تعینات کروایا ۔
کشمیر میں کچھ عرصہ گذارنے کے بعد پھر بغرض بیعت واپس ہندوستان تشریف لے چلے ۔اور اپنے سابقہ استادوں کی وساطت سے جو حضرت تھانوی ؒ کے اجل خلفاء بھی تھے حضرت تھانوی تک رسائی حاصل کی اور انھوں نے آپ کو اپنی بیعت سے نوازا ۔پھر کشمیر روانہ کیا ۔جہاں آپ نے اپنا دعوتی مشن شروع کیا ۔آپ کو اس بات کا شدید احساس ہوا کہ کشمیری مسلمان صحیح عقیدۂ توحید سے عاری ہیں اور یہی ان کی غلامی کا اصل سبب ہے ۔کوئی سیاسی داؤ پیچ ان کی اصل بیماری کا علاج نہیں ہے۔ جب تک یہ قوم عقائد کے اعتبار سے صحیح ڈگر پر نہیں آئے گی تب تک کوئی علاج کارگر نہیں ہو سکتا ۔لہٰذا آپ نے اپنی تحریک توحید کا آغاز کیا ۔ جس سے بارھمولہ اور اس کے اطراف و جوانب میں ایک زلزلہ آگیا ۔ایک مٹھی بھر جماعت آپ کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوگئی ۔آپ کے خلاف کئی مقدمے دائر کئے گئے ۔آپ کو زہر دے کر مارنے کی کوشش کی گئی ۔لیکن خدا نے ہر موقعہ پر آپ کی حفاظت فرمائی ۔ آپ وظیفہ شیئاًِ ﷲ کے عدم جواز کے قائل تھے ۔آخر مولانا انور شاہ صاحب ؒ دیوبند سے بحیثیت ثالث تشریف لائے اور فیصلہ سنایا کہ وظیفہ شیئاًِ ﷲ مساجد میں پڑھنا ممنوع ہے ۔یہ فیصلہ مصدقہ عدالت ہے ۔ آپکی انتھک کوشش کی وجہ سے آخر کار سارا قصبہ بجز چند افراد کے آپکافدوی بن گیا ۔ کشمیر میں تحریکِ توحید کو پروان چڑھانے میں میر واعظ خاندان کلان نے آپکی اخلاقی مدد کی ۔ آپنے جرأتِ رندانہ سے کا م لے کر اپنے مخالفوں کو خاموش کیا ۔ پرآشوب حالات میں زندگی گذار کر ۱۹۷۸ء میں بروزِ سنیچر ۱۱فروری اﷲ کو پیارے ہوگئے۔(انا ﷲ و انا الیہِ راجعون)

بحوالہ ماہنامہ راہ نجات "داعئی توحید نمبر"

از آسی غلام نبی وانی صاحب دامت فیوضھم۔


درج ذیل مقالہ پڑھنے کے لئے ہیڈ لائن پر کلک کریں



Our Total Visitors

You can also send your Articles/Research papers and reviews to RNB on this mail salikbilal.rnb@gmail.com