مضامین /   Articles

مولاناحبیب ﷲ شاہ صاحب رح بارہمولہ (2019-04-03)

مولاناحبیب ﷲ شاہ صاحب بارھمولہ

مولانا حبیب اﷲ صاحب کے والد کا نام جلال الدین قریشی تھا اور جلال الدین صاحب کا ایک اور بھائی اسد اﷲ قریشی تھا ۔یہ سعدہ پورہ علاقہ زینہ گیر میں سکونت پزیرتھے ۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب مولانا عبدالولی شاہ صاحب ؒ کے والد صاحب جن کا نام گرامی یٰسین صاحب ؒ تھا ،موضع دیوبُگ ٹنگمرگ میں رہتے تھے جہاں ان کی زمین تا حال ان کے نام سے معروف ہے اور وہ وہیں مدفون بھی ہیں وہاں یعنی دیوبُگ کے بزرگوں میں سے انور صاحب اور ھادی صاحب بھی تھے جو آپس میں بھائی بھائی تھے ۔ان کا یٰسین صاحب کے ساتھ رشتہ تھا ۔اور ان کی ہمشیرہ کا نکاح سعدہ پورہ زینہ گیر میں اسد اﷲ قریشی کے ساتھ ہوا تھا جو مولانا حبیب اﷲ صاحبؒ کا چچا تھا ۔اسد اﷲ صاحب کا بھائی تلاش معاش کے سلسلے میں سعدہ پورہ علاقہ زینہ گیر سے بارہ مولہ آیا ۔ یہاں اس کی شادی میر خاندان میں ہوئی ۔اور یہیں مولانا حبیب اﷲ صاحب ؒ پید اہوئے ۔جب مولانا عبدالولی شاہ صاحبؒ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بارہمولہ تشریف لائے تو جلال الدین صاحب رحمت حق ہو گئے تھے ۔مولاناحبیب اﷲ صاحب اسی جلال الدین کے فرزند اکبر تھے ۔انہوں نے جب مولانا عبدالولی شاہ صاحبؒ کی تبلیغ سنی تو وہ ان کی تحریک توحید کے ساتھ وابستہ ہو گئے کہ اور ان ہی کو اپنا مرشد بھی بنایا ۔رات دن انہی کے ساتھ گذارتے تھے یہاں تک کہ مولانا کی تحریک تو حید کے سرگرم رکن بن گئے ۔پھر مولانا عبدالولی شاہ صاحبؒ نے ہی ان کا نکاح سعدہ پورہ زینہ گیر میں اسد اﷲ قریشی صاحب کی دختر سے کیا ۔جس سے پرانی خاندانی قرابت مستحکم ہو گئی۔اس طرح مولانا کی شادی اپنی چچیری بہن کے ساتھ ہو گئی۔مولانا کی زوجہ محترمہ بھی مولانا کے ساتھ صبر و استقامت کے ساتھ زندگی گذارتی تھی اور ساتھ ہی ساتھ مولانا عبدالولی شاہ کی بھی خدمت گذار بن گئی ۔جس کی وجہ سے مولانا عبدالولی شاہ صاحبؒ بھی ان پر انتہائی شفقت فرماتے تھے ۔مولانا عبدالولی شاہ صاحب کو تحریک تو حید کے دوران جتنی بھی مشکلات آئیں ان میں مولانا حبیب اﷲ صاحبؒ چٹان کی طرح ان کے ساتھ ثابت قدم رہے ۔وہ مولانا کو مرشد ماننے کے علاوہ مانند پدر عزت و احترام کرتے تھے ۔اور ان کے حکم کی تعمیل میں اپنی جان عزیز کو داؤ پر لگانے کے لئے ہمہ وقت مستعد رہتے تھے ۔مولانا کے ساتھ اس قدر قرب نصیب ہوا کہ مولانا بھی ان کو مانندِ اولاد تصور فرماتے تھے ۔بلکہ ان کی ذاتی ضروریات بھی مولانا حبیب اﷲ صاحب ہی کے ذمہ رہتی تھیں ۔اور یہ ساتھ تا دمِ حیات قائم رہا ۔جونسا لفظ بھی قربت کے اعتبار سے دونوں حضرات کے متعلق کہا جا سکتا ہے اس میں مبالغہ نہیں ہو گا بلکہ بجا ہو گا ۔کبر سنی میں جس وقت مولانا عبدالولی شاہ صاحب کو اﷲ نے بطور کرامت اولاد نرینہ عطا فرمائی ۔ان کی تعلیم و تربیت کا معاملہ بھی انہوں نے مولانا حبیب اﷲ صاحبؒ ہی کے سپرد کیا ۔
باہمی قرابت اور اُنسیت کو بر قراررکھنے کے لئے بلکہ اور زیادہ استوار کرنے کے سلسلے میں مولانا عبدالولی شاہ صاحب ؒ نے مولانا حبیب اﷲ صاحب ؒ کے سامنے تجویز رکھی کہ ،میں اس وقت مانندِ آفتاب بر سرِ کوہ ہوں اور میں اپنی زندگی میں ہی اپنے پس ماندگان نابالغ اولاد کا رشتئہ مناکحت اُس گھرانے میں طے کر کے رکھنا چاہتا ہوں ۔جس میں مجھے اس بات کا اطمینانِ قلب حاصل ہو جائے کہ وہ توحید پرقائم رہیں گے ۔سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ میں آپ کے گھر میں ہی یہ رشتے قائم کروں ۔ چنانچہ باہمی مشورہ سے بات طے ہوئی اور مولانا عبدالولی شاہ صاحبؒ نے اپنی ایک دختر کا نکاح مولوی حبیب اﷲ صاحبؒ کے نواسے سے اور ایک لڑکے کا نکاح ان کی نواسی اور تین لڑکوں کے نکاح مولوی حبیب اﷲ صاحب کی پوتیوں یعنی محترم محمد عبداﷲ صاحب کی دختران سے منعقد کیا ۔مسجد توحیدگنج بارہمولہ کے معزز شہریوں کی موجودگی میں تقریب نکاح نہایت ہی سادگی کے ساتھ طے پائی ۔چونکہ مذکورہ اولاد میں صرف ایک لڑکی ہی بالغ تھی لہٰذا اسی دن مولوی عبدالولی شاہ صاحبؒ نے اُس کی رخصتی بھی عمل میں لائی اور اس سلسلے میں جو بھی منکرات اور رسوم و بدعات معاشرہ میں رائج ہیں ان کا عملی طور پر قلع قمع کرنے کی کامیاب کوشش فرمائی۔

بحوالہ ماہنامہ راہ نجات "داعئی توحید نمبر"
از اسی غلام نبی وانی صاحب


درج ذیل مقالہ پڑھنے کے لئے ہیڈ لائن پر کلک کریں



Our Total Visitors

You can also send your Articles/Research papers and reviews to RNB on this mail salikbilal.rnb@gmail.com