مضامین /   Articles

امام العصر محدث کبیر علامہ انور شاہ صاحب کشمیری رح (2019-03-28)

*حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ*

1875 ء میں کشمیر کے علاقہ لولاب میں پیدا ہوئے ۔چھ برس کی عمر تک آپ نے اپنے والد صاحب کے پاس قرآن شریف کے علاوہ فارسی کے چند چھوٹے موٹے رسالے پڑھے ۔پھر مولوی عبدالجبار اور مولوی محمد سے فارسی و عربی کی تعلیم حاصل کی ۔یہ دونوں بزرگ علاقہ کامراج کے نا مور علماء میں سے تھے ۔1887 ء سے 1889ء تک ضلع ہزارہ کے مختلف علماء و صلحا کی خدمت میں رہ کر علمِ دین حاصل کرتے رہے۔1890ء میں سولہ سترہ برس کی عمر میں ہندوستان کے مشہور مذہبی ادارہ دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا ۔شیخ الہند مولانا محمودالحسن صاحب آپ کے اُستاد تھے ۔باوجود استاد ہونے کے آپکی خدا داد صلاحتیوں کو دیکھ کر آپ کا بڑا ادب کرتے تھے ۔
1894ء میں اس ادارہ سے فارغ التحصیل ہو کر نکلے ۔اس کے بعد کچھ عرصہ بجنور میں مولانا مشیت اﷲ صاحب کے پاس رہے ۔تذکرہ مشائخ دیوبند میں آپ کے متعلق مؤلفِ کتاب نے لکھا ہے ۔’’جس زمانہ میں آپ بجنور میں مقیم تھے ۔آپ کے دیوبند کے ایک اور ساتھی حضرت مولانا امین الدین صاحب نے دہلی میں ایک مدرسہ قائم کرنے کا ارادہ کیا تھا ۔اس کے لئے انہوں نے حضرت شاہ صاحب کا تعاون نہایت ضروری سمجھا ۔چنانچہ وہ آپ کو لینے کے لئے بجنور گئے ۔لیکن جب انہوں نے اپنا خیال اور ارادہ ظاہر کیا ۔تو حضرت شاہ صاحب کسی قدر تذبذب میں مبتلا ہوگئے ۔ اپنی اس کیفیتِ قلب کا اظہارآپ نے ایک مرتبہ ان الفاظ میں فرمایا تھا ۔
’’ مجھے خیال ہے کہ موجود ہ حالات میں مدرسہ کا چلنا ناممکن ہے ۔لیکن میں اپنے مخلص ساتھی کی دل شکنی کرنا نہیں چاہتا تھا ۔لہٰذا ان کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہو گیا ۔اس وقت میرے پاس سولہ سترہ روپے تھے۔ وہ بھی میں نے امین الدین کو دیدئے جو ہم دونوں نے دہلی میں پہنچ کر کام میں لائے ‘‘۔
اس قلیل رقم میں سے جو حضرت شاہ صاحب نے ایک ادارے کو چلانے کے لئے دی تھی ۔ کچھ کاغذ اور چند رجسٹر خریدے گئے اور کام شروع کر دیا گیا ۔ ابتداءً مدرسہ سنہری مسجد میں قائم ہوا تھا - اسی میں ایثار اور قربانی کے یہ دونوں مجسمے طرح طرح کی تکلیفیں اُٹھا کر اور فاقہ کی صعوبتیں برداشت کر کے اپنے فرائض کی انجام دہی کرتے رہے ۔آخر کا ر اﷲ تعالیٰ نے دونوں کی نیت اور محنت کا ثمرہ عطا فرمایا ۔اہل دہلی کو احساس ہوا ۔داخلے بڑھنے لگے ۔مالی امداد ملنے لگی اور یہ مکتب مدرسہ امینیہ کی شکل میں مِنصۂ شہودپر آگیا ۔ حضرت شاہ صاحب اس مدرسہ میں مدرس اول کی حیثیت سے کافی عرصہ تک کام کرتے رہے ۔آپ کی ان ہی خدمات اور قربانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ حضرت مفتی کفایت اﷲ صاحب ؒ نے فرمایا تھا’ ’ مولانا مولوی محمد انور شاہ صاحب اس مدرسہ کے اعلیٰ اور اول محسن ہیں ۔ان کا شکریہ ادا کرنا اور ان کو یاد رکھنا اہل مدرسہ پر فرض ہے‘‘۔
کئی سال تک مدرسہ امینیہ میں مدرس اول کے فرائض انجام دینے کے بعد آپ اپنے وطن کشمیر تشریف لے آئے۔ سیرت انور مطبوعہ ادارہ ہادی دیوبند میں مسعود احمد صاحب قاسمی نے لکھا ہے کہ مدرسہ امینیہ میں اس زمانے میں حضرت شاہ صاحب ؒ صدر مدرس اور مولنا مفتی کفایت اﷲ مرحوم مدرس دوم تھے۔1902 ء میں اپنے بھائی کی وفات پر کشمیر تشریف لائے ۔آپ کے والد صاحب نے آپ کو کشمیرمیں رکایا اور کچھ زمانہ وطن میں ہی گذارا ۔ 1905ء میں اپنے چند اہل علم ساتھیوں اور قصبہ بارہمولہ (کشمیر ) کے مشہور رئیس خواجہ عبدالصمد ککرو کے ہمراہ فریضہ حج کے لئے حجاز تشریف لے گئے۔ حج ادا کرنے کے بعد واپس کشمیر تشریف لائے اور بارہمولہ میں مدرسہ فیض عام نامی دینی ادارہ قائم کیا۔اور تین سال وہیں طالبانِ حدیث رسول اکرمﷺ کی علمی پیاس بجھانے میں مصروف رہے ۔1910ء میں دیوبند میں جلسہ دستار بندی میں شریک ہونے کے سلسلے میں آپ کو مدعو کیا گیا ۔1910ء میں ہی آپ کے استاتذہ نے آپ کو دارالعلوم میں پڑھانے کے لئے رُکایا ۔ 1914ء تک بحیثیت مدرس کام کرتے رہے اور 1915ء سے 1927ء تک بحیثیت صدر مدرس دیوبند اپنے فرائض انجام دیتے رہے ۔ 1928 ء میں چند اختلافات کی بنیادپر ڈابھیل تشریف لے گئے جہاں 1932 ء تک تشنگان علوم کو سیراب فرماتے رہے ۔پھر صحت ناساز ہونے کی وجہ سے دیوبند واپس تشریف لائے اور 1933 ء میں رحمت حق ہوگئے ۔آپ اپنے پیچھے اپنی عالی قدر تصانیف اور کثیر تعداد میں عالی مرتبت شاگردوں کی ایک بڑی جماعت چھوڑ کر چلے.

  بحوالہ ماہنامہ راہ نجات


درج ذیل مقالہ پڑھنے کے لئے ہیڈ لائن پر کلک کریں



Our Total Visitors

You can also send your Articles/Research papers and reviews to RNB on this mail salikbilal.rnb@gmail.com