مضامین /   Articles

شیخ طریقت پیر شمس الدین لولابی صاحب مد ظلہ العالی (2019-03-28)

*شیخ طریقت پیر شمس الدین لولابی صاحب مد ظلہ العالی*

آپ موضع سونہ نار دارپورہ علاقہ لولاب کپواڑہ کے رہنے والے ہیں ۔آپ کا گھرانہ اپنے اسلاف کے علمی اور روحانی اقدار کا وارث ہے ۔آپ کے دوسرے برادؒ ر بھی علم و تقوی سے آراستہ تھے۔آپ بچپن سے ہی ایک زبردست عابد تھے ۔جب منشی اﷲ دتاؒ صاحب کشمیر تشریف لائے آپ اس وقت سوگام جامع مسجد میں امامت کا فریضہ انجام دیتے تھے ۔بارہمولہ سے جب حضرت منشی اﷲ دتا صاحب سوگا م لولاب تشریف لے گئے تو پیر صاحب کو اپنی نظرِ شفقت سے نوازا ۔اور ان کی شرافت ،سادگی اور دین داری کو دیکھ کر فرمایا کہ ’’مجھے میرا مطلوب مل گیا‘‘ پیر صاحب بھی فوراًہی آپ کے کمالات کو دیکھ کر بہت متاثر ہو گئے اور حضرت منشی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کے شریک سفر بنے ۔چونکہ پیر صاحب کا پہلے ہی سے پورے علاقے میں ایک خاندانی اثر موجود تھا ۔ اور عوام میں کافی مقبولیت تھی اس اثر اور مقبولیت نے دعوت کے کام کو عوام میں متعارف کرنے میں کافی مدد دی جو منشی جیؒ کے ہاں پیر صاحب کے زیادہ منظور نظر بننے میں ممد و معاون ثابت ہوئی ۔پیر صاحب نے بڑی استقامت کے ساتھ اپنے آپ کو حضرت منشی جی ؒ کے ساتھ مربوط رکھا جس کی وجہ سے یہ دونوں حضرات ایک جان دو قالب ہوگؤ اورجب منشی جی نے دہلی واپس جانے سے قبل بارہمولہ کے اس زمانہ کے تاشقند اڈہ (جو موجودہ سیمنٹ پل کے جنوب مغرب میں واقع تھا ) کے اجتماع میں اعلان فرمایا کہ میں نے اپنے دو مریدوں یعنی پیر شمس الدین صاحب لولابی اور ولی محمد شاہ صاحب سوپوری کو خلافت دی ہے ۔لہٰذا میرے واپس جانے کے بعد اگر کوئی طالب ہمارے ساتھ تعلق جوڑنا چاہتا ہے تو وہ ان دو خلیفوں کی وساطت سے مجھ سے بیعت ہو سکتا ہے ۔پورےمجمع میں ان دونوں کو کھڑا بھی کیا۔اس کے بعد کشمیر کے بہت سارے لوگ پیرصاحب کے ہاتھ پربیعت ہوئے اور اب تک ہو رہے ہیں ۔
دعوت و تبلیغ کی محنت میں اپنے آپ اور اپنے پورے گھر کو جھونکنے کے علاوہ پیر شمس الدین صاحب کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے کپواڑہ میں ایک بڑا دعوتی مرکز’’ مسجد مُرشدین ‘‘کے نام سے تعمیر کیا جس پر ایک زر کثیر کا خرچہ لگ گیا اور ہزاروں لوگ اس مرکز سے مستفید ہورہے ہیں اور یہ مرکز جموں و کشمیر کے بڑے دعوتی مراکز میں سے ایک اہم مرکز ہے۔اس سے قبل کپواڑہ جامع مسجد میں تبلیغی اجتماعات اور شب گذاری ہوتی تھی اور کپواڑہ کاتاریخی اجتماع بھی قدیم جامع مسجد کے صحن میں منعقد ہوا تھا ۔جب تک آپ کی صحت آپ کا ساتھ دیتی رہی آپ وادی کے مشوروں میں پابندی کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔اب اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے صرف ملکی مشوروں میں ہی شرکت کرتے ہیں اور کپواڑہ کے ،مرکز میں اکثر اوقات گذارتے ہیں اور دعوت و تبلیغ کے کام کی نگرانی فرماتے ہیں ۔ آپ کی ذات کشمیر کے عوام و خواص کا مرجع بنی ہوئی ہے ۔ آپ کا دعوتی فکر سمجھنے کے لئے آپ کے چند ملفوظات سپردِ قرطاس کئے جاتے ہیں ۔ ایک دفعہ اپنے بیان میں فرمایا ؂
داد حق را قابلیت شرط نیست
بلکہ شرط قابلیت داد اوست
(ترجمہ )’’خدا کی عطا کے لئے قابلیت شرط نہیں بلکہ قابلیت بے چاری خود عطائے ربانی کی محتاج ہے‘‘
موجودہ دعوتی محنت کو ایک عطیہ رب قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اس دور میں جب اﷲ نے اس دعوت والی محنت کو چلایا تو خانقاہی والا طریقہ موقوف ہو گیا اور یہ دعوت والا آگے بڑھا۔نیز فرمایا کہ دعوت والی محنت پر جو کچھ اﷲ عطا کرتا ہے اس دنیا میں انسان اس کے تصور کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ اگر جنت کی حور اپنی انگلی کا ایک پور اس دنیا میں آشکارا کرے تو دنیا کی ساری روشنی ماند پڑجائے گی ۔لیکن داعی کو خدا ایک ایسا مقام عطا فرمائے گا کہ جب جنت میں حور کی نظرداعی پر پڑے گی تو جنت کی حور بے ہوش ہو جائے گی۔اب اندازہ لگانا چاہئے کہ جب جنت کی حور داعی کے نور کی متحمل نہیں ہو سکتی تو اگر دنیا میں خواب یا کشف وغیرہ کے ذریعہ داعی کو اپنا مقام دکھایا جائے گا تو داعی اس دنیا میں اپنے حواس کھو بیٹھے گا ۔وہ دیوانوں کی طرح بھاگے گا ۔فرمایا کہ میں نے ایک معتبر عالم سے سنا ہے کہ مولانا الیاس ؒ نے دعا کی تھی کہ اے اﷲیہ کام کرنے والوں کے لئے اس دنیا میں اس کے جزائے اخروی کو پردہ میں راز کی طرح رکھ ۔خواب یا کشف کے ذریعے بھی اس کو ظاہر مت فرما۔لہٰذا اس بات کی فکر میں بھی نہیں پڑنا چاہیے کہ اﷲ مجھے خواب یاکشف کے ذریعہ کچھ آگاہی فرمائے۔ہمارے بہت سے کارکن کبھی کبھی میرے پاس اس بات کا شکوہ کرتے ہیں کہ حضرت اتنے برس اس کام میں لگے ہوئے گذرے لیکن ابھی تک کچھ حاصل نہیں ہوا ۔یہ مولانا الیاس ؒ کی دعا دعوت والوں کو لگ گئی ہے کہ اس کام کے کرنے والے اس دنیا میں روتے ہی رہیں اور اپنے آپ کو ہیچ تصور کرتے رہیں تاکہ آخرت میں زیادہ سے زیادہ ترقّیات و مقامات سے ان کو نوازا جائے۔ لہٰذادعوت کی راہ میں خلافِ طبیعت امور کو خوشی کے ساتھ برداشت کرنا چاہئے۔فرمایا کہ تمام انبیاء علیہم السلام کا مقام اگر چہ بہت ہی اونچا ہے لیکن ہمارے نبی ﷺکا مقام سب سے اونچا ہے ۔جس کی ایک خاص وجہ حضور ﷺ کاقُوَّتِ برداشت ہے تمام پیغمبروں نے راہ حق کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن پھر بھی کبھی کبھی ان کی زبان سے قوم کے متعلق بد دعا نکلی ۔لیکن حضورﷺ نے کبھی بد دعا نہیں کی ۔ایک دفعہ جموں کی سب سے بڑی جامع مسجد میں بڑی وضاحت کے ساتھ ان چار شرطوں کو بیان فرمایا جو نُصرتِ خداوندی کے لئے مولانا عمر ؒ صاحب بھی اکثر بیان میں فرماتے تھے ۔علاقہ نارواؤ میں کئی اسفار میں کھول کھول کر دعوتی محنت کے فضائل بیان فرمائے ۔

بحوالہ ماہنامہ راہ نجات ۔
شمارہ نمبر۱۔ بعنوان مولانا الیاس کی دینی دعوت اور کشمیر۔


درج ذیل مقالہ پڑھنے کے لئے ہیڈ لائن پر کلک کریں



Our Total Visitors

You can also send your Articles/Research papers and reviews to RNB on this mail salikbilal.rnb@gmail.com