مضامین /   Articles

محترم المقام امیر احمد خان صاب المعروف پرویز احمد خان صاحب  (2019-03-28)

محترم المقام امیر احمد خان صاب المعروف پرویز احمد خان صاحب

آپکے اجداداصل میں افغانستان کے رہنے والے تھے کچھ عرصہ راولپنڈی پاکستان میں مقیم رہنے کے بعدتقدیر نے کشمیر پہنچا دیا۔اور قصبہ بارہمولہ جو ان دنوں کشمیر کا بہت بڑا تجارتی مرکز تھا پہنچ کر مقیم ہوگئے۔آپکے والد صاحب محکمہ مال کے بڑے سرکاری عہدے پر فائز تھے ۔نہایت ہی شریف الطبع اور دیندار تھے آپکے گھرانے کے سب افراد تعلیم کے نور سے آراستہ تھے ۔آپ تین بھائی تھے جن میں ایک انجئنر کے عہدے پر فائز تھے اور دوسرے بھائی ہمسایہ ملک میں جاکر وہاں اپنے رشتہ داروں کے پاس سکونت پزیر ہوگئے ۔آپ طبعاً ملازمت سے دلچسپی نہیں رکھتے تھے بلکہ ایک’’ عَبد حُر‘‘ کی طرح پر سکون زندگی گزارنے کا جذبہ رکھتے تھے گھر میں علمی ماحول ہونے کی وجہ سے علم و ادب کے ساتھ خاص شغف تھا۔دینی کتب کا بڑا ذخیرہ گھر میں موجود ہونے کی وجہ سے آپ کا مطالعہ بہت ہی وسیع تھا ۔میری معلومات میں اضافہ کرنے کے لئے مجھے چند اہم دینی کتب مطالعہ کرنے کے لئے دیں۔آ پ نے اُس زمانے میں گریجویشن کی تھی جس میں آپ اپنے والد صاحب کے اثر ورسوخ کی وجہ سے کسی بڑے منصب پر فائز ہوئے ہوتے ۔لیکن آپ کی عدمِ دلچسپی کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا ۔بچپن سے ابتدائی شباب تک آپ ایک اچھے کھلاڑی بھی تھے ۔دینی تحریکوں کے ساتھ دلچسپی رکھتے تھے۔اپنا قومی اور خاندانی لباس (جو عین شرعی تقاضوں کو پورا کرتا ہے) کے ساتھ آپ کو بچپن سے ہی دلچسپی تھی ۔اسی طرح نماز کے آپ بچپن سے ہی پابند تھے ۔جب منشی اﷲ دتاؒ صاحب کشمیر تشریف لائے تو اُن کی نظر انتخاب و شفقت نے آپ کو کندن بنایا اور اپنے حسن اخلاق اور بزگوں کی نظر انتخاب کی وجہ سے دعوت و تبلیغ کے پہلے امیر کی حیثیت سے نمودار ہوگئے قصبہ با رہمولہ کے تمام مکاتبِ فکر کے لوگ آپ کی ذات سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور قلبی لگاؤ رکھتے ہیں۔آپ نے اپنی ساری زندگی کو دعوت وتبلیغ کے لئے وقف کیا ہے ۔ہم عصر دینی تحریکوں کے ساتھ جِدال و مخاصمت کے بجائے باہمی اکرام و مصالحت کے آپ بچپن سے ہی قائل تھے۔بارہمولہ کے عوام آپ کے حُسنِ اخلاق کے معتقد ہی نہیں بلکہ فدوی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جدید عید گاہ بننے کے بعد مولانا عبدالولی شاہ ؒ صاحب اور بارہمولہ کے عوام نے آپکو متفقہ طور پراس کا امام بنایا ۔آپ نے علاقہ نارواؤ میں اور بارہمولہ کے دیگر مضافاتی علاقوں میں ابتدائی شباب سے ہی دعوتی محنت کی۔ اس کے بعد جوں جوں تبلیغ کا حلقہ اثر بڑھتا گیا آپ پر اتنی ہی زیادہ دعوتی ذمہ داریاں عائد ہوتی چلی گئیں جنہیں آپ نے بحسن وخوبی انجام دیا۔آپ کے عنفوانِ شباب میں بارہمولہ کے کئی اشراف گھرانے آپکو عقد نکاح میں باندھنے کے متمنی تھے لیکن محض دینی مصلحتوں اور مجبوریوں کی خاطر آپ نے کافی عرصہ تک تجرُّد کی زندگی اختیار کی۔آخر چند ناگزیر مجبوریوں کی بناء پر آپ کا نکاح یوپی کے شہر مراد آباد کے ایک مضافاتی قصبہ سنبھل میں ایک بڑے عالم دین کے گھرمیں ۱۹۸۱ ء میں ہوا۔ اور اس طرح ﷲنے آپ کو اولاد نرینہ سے نوازا جو انشاء اﷲ شرافت و نجابت میں آپ کے صحیح وارث اور جانشین ثابت ہونگے ۔آپ کا آبائی مکان چونکہ بارہمولہ کی فوجی چھاونی کے دائرے میں آگیا تھا لہٰذا کچھ وقت کرایہ کے مکان میں گذارنے کے بعد کانلی باغ بارہمولہ میں ایک رہائشی مکان بنایا جس میں آپ اس وقت سکونت پزیر ہیں اور آپ کی ذات مرجع خاص و عام بنی ہوئی ہے ۔آپ کو اپنے مرشد کی طرف سے خلق خدا کو روحانی نفع رسانی کے لئے بیعت کرنے کی اجازت بھی حاصل ہے ۔اور کافی نوجوان اور عقیدت مند آپ کے ہاتھ پر بیعت ہورہے ہیں۔آپ اکثر لمبے لمبے سفروں پر رہتے ہیں اور اپنی پیرانہ سالی کے باوجود دین کے ہر تقاضے پر عمل پیرا ہیں۔آپ مجسمِ ہمت و صبر ہیں ۔ایک دفعہ وادی کشمیر کے ذمہ د اروں کے مشورہ میں یہ بات کہنے میں آئی کہ حضرت امیر صاحب کو اب لمبے لمبے اسفار سے مستثنیٰ رکھا جائے ۔آپ نے فرمایا یہ مجھے منظور نہیں۔آپکے حسن اخلاق کی وجہ سے پوری ریاست آپ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اور اس میں واقعی کوئی مبالغہ نہیں ۔5 مارچ ۲۰۱۱ ء ؁ کو آپ دہلی میں تھے اور پہلی مرتبہ آپ نے مولانا ارشد صاحب کو پیغام بھیجا کہ وہ وادی کے مشورہ کی ذمہ د اری سنبھالیں۔ دوسرے دن بعد بیانِ فجر جب مولانا موصوف دعا کے لئے تشریف لائے تو امیر صاحب کی عدم موجودگی پر خود بھی روئے اور مجمع کو بھی رلایا۔ جب آپ نے یہ الفاظ فرمائے کہ آج ہم اپنے آپ کو بغیر سایہ کے محسوس کررہے ہیں اور مجمع کو اس بات کا احساس دلایا کہ واقعی ہم ایسا عالی ظر ف امیر حاصل ہونے کا شکر کرنے سے قاصر ہیں اور اس نعمت پر غور نہیں کرتے ہیں کہ اﷲ نے امیر صاحب کی شکل میں ہم پرکتنا بڑا احسان کیا ہے اور صحبت صالح کیا چیز ہے ۔کشمیر میں جتنے چھوٹے بڑے دینی مدارس ہیں تقریباًسب آپکو اپنا سرپر ست مانتے ہیں اور سب وقتاًفوقتاً آپ سے مفید مشورے حاصل کرتے ہیں ۔کشمیر کے سیاسی شور شرابے سے آپ نے ہمیشہ اپنے دامن کو بچایااور حکام وقت،امراء و رؤساء سے استغنا برتتے ہوئے یکسوئی کی ساتھ دینی خدمات میں لگے رہے اور اپنی ساری صلاحیتیں دعوت وتبلیغ کے لئے وقف کیں ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ آج دعوت کی اس محنت کے شدید مخالفیں اور ان کے بچّے جوق در جوق علماء اھل حق اور دعوت و تبلیغ سے جڑتے چلے جا رہے ہیں فالحمدﷲ علیٰ ذالک۔

ماخوذ از کتاب مولانا الیاس کی دینی دعوت اور کشمیر

آسیؔ غلام نبی فتح گڈھی
سرپرست ماہنامہ راہِ نجات


درج ذیل مقالہ پڑھنے کے لئے ہیڈ لائن پر کلک کریں



Our Total Visitors

You can also send your Articles/Research papers and reviews to RNB on this mail salikbilal.rnb@gmail.com