مجلس علمی کا قیام اور اس کے اغراض و مقاصد

تمام اہل علم جانتے ہیں کہ اسلام کے داعیوں نے اسلام کو کئی صورتوں سے دنیا والوں کے سامنے پیش کیا اور ہر صورت اپنی جگہ ایک خاص اہمیت رکھتی ہے اور اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے یہ کسی جاہل کا انداز فکر ہی ہو سکتا ہے کہ وہ صرف اپنی طرز کی کارکردگی کو ہی اسلام کے پھیلنے اور پنپنے کا واحد طریقہ سمجھ لے ۔داعیان اسلام نے ہر دور میں اپنی پر جوش دعوت کے ذریعے اسلام کے پیغام کو عام کرنے کی کوشش کی۔ ائمہ اور محدثین نے درس و تدریس کے ذریعے اسلام کی محافظت کا فریضہ انجام دیا ۔حضرات علمائے کرام نے اپنی تحریر و تصنیف کے ذریعے اسلام کو فروغ دیا اور صوفیائے کرام اور اولیائے عظام نے خانقاہوں کے ذریعے اسلام کی روح سے طالبوں کو آشنا کیا ۔یہ ساری باتیں اسلام کے لیے ایک مثبت پروگرام ہے ۔اور ان تمام عاشقان اسلام کے درمیان ایک زبردست تال میل کی ضرروت ہے ۔لیکن بدقسمتی سے کچھ ایسی ہوا چلی کہ کچھ لوگ اپنے مخصوص حلقے کے اندر کام کرتے رہے ۔اور دوسرے کے کام کو یا تو شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے یا ان کی اہمیت کم کرنے کے لیے اور اپنے کام کو موثر ثابت کرنے کے لیے اپنا زور بیان اور زور قلم صرف کرنے لگے ،جو کوئی نیک شگون یا خوش آیند بات نہیں ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر طبقہ اپنا فریضہ انجام دیتے وقت دوسروں کے اکرام و احترام کا بھی خیال رکھے اور ہر طبقہ کواپنے دعا ئے خیر میں حصہ دار بنائے ۔ ان چار شعبوں میں تحریر و تصنیف کا شعبہ بھی ایک زبردست شعبہ ہے ،جس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے ۔ یہ قلم ہی ہے جس کے متعلق اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ والقلم وما یسطرون ۔قسم ہے قلم کی اور اُن مبارک سطروں کی جو اس قلم سے لکھی جاتی ہیں ،حقیقت یہ ہے کہ قلم کا یہ دعویٰ ہے کہ ’’من شاہ جہانم ‘‘ یعنی میں دنیا کا بادشاہ ہوں اپنی جگہ صحیح اور درست ہے ۔کشمیر کی ایک بڑی بدقسمتی اس وقت تک یہ رہی ہے کہ قلم و علم کے عنوان کے تحت یہاں پر اس وقت کوئی باضابطہ لائحہ عمل نہیں اپنایا گیا ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری نئی نسل اپنے اسلاف کے کارناموں اور حالات زندگی سے بھی اس وقت تک پوری طرح باخبر نہ ہو سکی ۔ آج ہمارے بچے ایران توران کے قصے تو خوب دھراتے ہیں ،لیکن اپنی تاریخ اور ماضی سے بالکل بے خبر ہیں ۔علامہ اقبال ؒ کا مشہور شعر ہے ؂

یاد عہد رفتہ میری خاک کو اکسیر ہے
میرا ماضی میرے استقبال کی تفسیر ہے

دین کے ان بنیادی اور چار شعبوں میں سے تحریر و تصنیف کا شعبہ اس امت مرحومہ یعنی خیر امت کی اہم ترین خصوصیات میں سے ایک اہم شعبہ تسلیم کیا گیا ہے۔موجودہ دور میں جب کہ لکھنے پڑھنے کا عام رواج ہو چکا ہے اور قلم کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے ۔لیکن بے لگام قلم نفع کے بجائے نقصان کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے ۔اس لیے ہمیں ہر حال میں علمائے حقانی اور دین پسند اہل دانش کے ساتھ قریبی رابطہ میں رہنے کی ضرورت ہے ۔مجلس علمی کے قیام کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ یہ دونوں اہم طبقے بھی آپس میں قریبی رابطے میں رہیں ۔اہل علم کی نگرانی اس لیے بھی ضروری ہے کہ کہیں ہمارے قدم کسی غلط سمت کی طرف لغزش نہ کھائیں ۔اور دین پسند اہل دانش کا تعاون اور ان کے مفید مشورے بھی نہایت سود مند رہیں گے ۔یہی دو طبقے عملاً عوام الناس کو صحیح سمت کی طرف رہبری و رہنمائی کرنے کے معمور بھی ہیں اور اس کام کے لیے موزون بھی اسی ضرورت کے پیش نظر ہم اس کے لیے کوشان ہیں کہ مجلس علمی کے عنوان کے تحت دینی علوم کو فروغ دیا جائے اس کے لیے اس مجلس نے چند نشانے مقرر کیے ہیں جن کی تفصیل اس طرح ہے :
۱؂ مذہبی تاریخی اور عصری اعتبار سے جن موضوعات پر لکھنے کی ضرورت ہے ان کو آسان انداز میں تعلیم یافتہ نوجانوں کے سامنے پیش کرنا ۔
۲؂ مجلس علمی کو شرعی حدود میں جھدید سہولیات سے جن اس شعبہ کو تقویت پہنچنے کی امید ہو ان سے مجلس علمی کو لیس کرنا اور ان سے استفادہ کرنا ۔
۳؂ اسکولوں اور کالجوں میں سمیناروں اور مجالس کا انعقاد کرنا ۔
۴؂ اسلامی موضوعات پر لکھنے والے علماء و دانشور حضرات کی مختلف طرح سے حوصلہ افزائی کرنا ۔
۵؂ اخبارات (دینی رسائل وجرائد)کے ذریعے اسلامی علوم کو گھر گھر پہنچانا ۔
۶؂ الیکٹرانک میڈیا یا نشر و اشاعت کے عصری ایجادات کو بروئے کار لا کر اسلامی میڈیا کو جاندار بنانا ۔
۷؂ حضرات علمائے کرام اور عوام کو آپس میں قریب لانے کی کوشش کرنا ۔جس میں دینی اجتماعات اور مذاکروں کا اہتمام کرنا ۔
اسی سوچ کے تحت سال ۲۰۱۳ ؁ء میں سرینگر کے سراج العلوم میں مجلس علمی کی طرف سے تذکرۃ السلف عنوان کے تحت ایک شاندار علمی سمینار منعقد کیاگیا۔جس میں تقریباً ڈیڑھ سو علمائے کرام نے شرکت کی جن میں خاص کر علمائے دیوبند کے جلیل القدر علماء نے بڑے پر مغز اور جاندارمقالے پڑھے ،جن کی پوری تفصیل آپ کو راہ نجات کے سمینار نمبر سے معلوم ہو سکتی ہے ۔چونکہ حضرات علمائے کرام نے مجلس علمی کے تحت اس منعقدہ سمینار کو زبر دست سراہا اور بار بار ایسے علمی سمینار منعقد کرنے کی تمنا ظاہر کی لہٰذا اسی ضرورت کے پیش نظر اس مجلس علمی نے ان عزائم کو لیکر کام کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔ جس کی آج ضرورت بھی ہے اور اپنی جگہ کافی اہمیت بھی ۔اس مجلس علمی کا ہر گز یہ مقصد نہیں ہوگا کہ اس کے ساتھ منسلک ہونے والے احباب ہی علم و ادب کے واحد وارث ہیں بلکہ حضرات علمائے کرام سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے اور ان کے علوم کو عام کرنے کے لیے کل پرزوں کا کام کرنا ہو گا ۔جس کے لیے تیس صورتوں میں سے ایک صورت آپ کو اختیار کرنا پڑے گی ۔یا تو ایک رضا کار کار کن کی طرح کا م کرنا ہو گا ۔تو آپ اس اہم شعبے کے کارکن تصور کیے جائیں گے یا اس کام کو تعاون کرنا ہو گا تو آپ اس کے معاون تصور کیے جائیں گے ۔اس میں آپ کو کم از کم اپنے متعلقین کو اس کام میں جڑنے اور اپنے امکانی حد تک تعاون دینے کی دعوت دینی ہو گی ۔کسی معقول عذر کی وجہ سے اگر آپ یہ دو کام نہیں کرسکتے ہیں تو کم از کم بوقت ضرورت اپنی ذات کے اعتبار سے مالی و جانی تعاون کرنا ہو گا ۔مجلس علمی ایک غیر سیاسی تنظیم ہو گی ۔جس کا مقصد علم و ادب کی نشر و اشاعت ہو گی ۔
یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ دینیات کے لیے مالیات کی ضرورت ہوتی ہے اسی لیے قرآن کریم کے پہلے ہی صفحہ پر متقی لوگوں کی تعریف میں ایمان بالغیب اور نماز کے ساتھ جو صفت بیان کی گئی ہے وہ مما رزقنٰھم ینفقون کی خاص صفت ہے ،جس کا سیدھا سادہ مفہوم یہ ہے کہ متقی وہی لوگ ہیں جو اللہ کے راستے میں اس رزق میں سے فراخ دلی کے ساتھ خرچ کرتے ہیں جو ہم نے ان کو عطا کی ہے ۔یہاں رزق سے مراد صرف کسی سائل کو چند پیسے دے کر خوش کرنا نہیں ہے بلکہ صحابہ کی طرح اپنے پورے مال و جان کی قربانی کے ساتھ اللہ کی طرف سے دی ہوئی مال و جان کو اللہ کے راستے میں صرف کرنا ہے ۔جب تک مسلمانوں کے اندر اس قسم کا جذبہ موجود تھا دنیا کی کوئی طاقت ان کو خوف زدہ نہیں کرتی تھی اور وہ اقوام عالم پر غالب تھے لیکن جب سے ہم نے اس مال کو تجوریوں میں گن گن کر بند کرنا سیکھا اور ضرورت کی حدوں کو پھاند کر عیش و عشرت کے کاموں پر اس کو صرف کرنے کا غیر مسنون طریقہ اپنا یا تب سے ہم کافی مال ہاتھ میں آنے کے باوجود اقتصادی طور پر پریشان حالی کا شکار ہیں ۔در اصل ہمیں ضرورت اور عیش و عشرت میں تمیز کرنا انہیں آتا ہے ۔سونے چاندی کے برتنوں میں بھی کھانے کا وہی مزہ ہوتا ہے جو مٹی کے برتنوں میں ہوسکتا ہے ۔کم خواب ور جواہرات پہن کر اور رستے اور گوشتابے کھا کر زندگی کے ایام میں اضافہ نہیں کیا جاسکتاہے ۔عالی شان محلات تعمیر کر کے میٹھی نیند اور سکون قلب حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ان کامیابیوں کا راز مال میں نہیں بلکہ ایمان اور اعمال میں ہے ۔لیکن ایمان اور اعمال میں مضبوطی لانے کے لیے مال و جان کی قربانی کے ساتھ اس دین کو عام کرنے کی جستجو میں لگنا ضروری ہے ۔آج ہمارا معاملہ کچھ عجیب سا ہو گیا ہیکہ مال کو جان پر لگاتے ہیں اور جان کو مال کے حاصل کرنے پر لگاتے ہیں ۔اللہ نے جس دنیا کو آزمائش گاہ کا نام دیا ہے ہم اس کی آرائش میں لگے ہوئے ہیں ۔اور اسی میں آسائش پانے کے متمنی ہے۔جبکہ امر واقع یہی ہے کہ دنیا نہ آرائش کی جگہ ہے نہ آ سائش کی بلکہ آزامائش کی جگہ ہے ۔ایک شاعر نے اسی حقیقت کے پیش نظر کہا ہے کہ ؂

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

ایسے حالات میں جبکہ دینی امور میں ترقی کے لیے مالیات کی ضرورت ہے تو اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں سے جو مال ہم کماتے ہیں اس میں سے ایک حصہ دین کی ترقی کے لیے مختص کرنے کی ضرورت ہے ۔
جو لوگ آنکھیں بند کر کے ان ضروری امور سے آنکھیں موند لیتے ہیں ان سے ہماری کچھ غرض نہیں ،نہ ہی ایسے خود غرض اشخاص کوئی دینی کارنامہ انجام دے سکتے ہیں ۔البتہ عقل سلیم رکھنے والھے اصحاب خیر سے ہماری درد مندانہ گزارش ہے کہ وہ آگے آئیں اور وقت کی اس اہم پکار کوجانچ لیں ورنہ ملت کے فرزند اور بہو بیٹیاں اگر راہ حق سے بٹھک جائیں گے تو اس کا جواب انہیں روز محشر دینا ہوگا ؂

مراد ما نصیحت بود و کردیم حوالت با خدا کردیم و رفتیم (شیخ سعدی)

(ترجمہ )ہمارا مقصد صرف نصیحت کرنا ہے وہ تو ہوگئی اب ہم آپ کو خدا کے حوالہ کرکے آپ سے رخصت ہوتے ہیں ۔