راہ نجات اور مجلس علمی سے متعلق علماء و دانشوروں کی آراء

(۱)

اس موضوع پر سمینارمنعقد کرنا ایک قابل صد فخر و تحسین کارنامہ ہے ،جس کے لیے میں ’’مجلس علمی‘‘کے محرک اور قائد مولانا غلام نبی وانی آسی ؔ صاحب کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ انہیں اس مشن میں کامیاب کرے ،جسکا عَلم لیکر وہ ایک مبارک منزل کی طرف گامزن ہیں ۔اسکے ساتھ ہی ان کے رفقا ء کار بھی آفرین اور مبارک باد کے مستحق ہیں ۔جنہوں نے اس سمینار کو کامیاب بنانے کے لیے شب و روز کاوشیں کر کے کامیاب بنایا ۔مجلس علمی کے زیر اہتمام اس سمینار میں جتنے بھی مقالے پڑھے گئے انتہائی پُر مغز اور مفید تھے ۔جن کے سننے کے بعد ہمارہی معلومات میں بیش بہا اضافہ ہوا ۔ایک بات کا اعتراف کرناضروری ہے کہ مقررین نے صرف موضوع کے مطابق ہی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔مسالک کے اختلافی مسائل اور نِکات کو نہ چھیڑا۔یہ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔میں مصنفین و مؤلفین کی خدمت میںیہ گذارش کرناچاہتا ہوں کہ آئی ٹی(intformatiom technology) کی یلغار کے باوجود علمی،تصنیفی،تالیفی کام کو نہ چھوڑیں ۔Inter Netکتاب کا مقابلہ نہیں کرسکتا ،بلکہ کتاب کی حفاظت کرتا ہے ۔اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے ،لیکن کتاب آخر کتاب ہے اس موضوع پربہت کچھ لکھا جا سکتا ہے ۔قلم کی حکمرانی کی کئی مثالیں ہیں ۔ میرا یہ ماننا ہے کہ جس گھر میں کتاب نہیں وہ گھر قبرستان ہے ۔ اور جس گھر میں قرآن نہ ہو وہ گھر گھر نہیں شمشان ہے ۔اللہ آپکو اپنی کوششوں میں کامیاب کرے۔ آمین۔

احقر راجہ نذرؔ بونیاری

(۲)

پیغمبر اسلام ؐ نے تبلیغ و دعوت کا طریقہ متعین نہیں کیا ۔شاید اس میںیہ حکمت بھی رہی ہو گی کہ ہر دور میں لوگوں کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے اور وہ دعوت حق کو سمجھنے کا اپنا اسلوب و ڈھنگ رکھتے ہیں ۔
ادارہ ’’راہِ نجات ‘‘ میرے خیال میں اس وقت ایک بڑاہی اہم ادارہ ہے ۔جو نئی تہذیب کے دلدادوں (یعنی نوجوانانِ اسلام کو دین حق سمجھنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔اس طرح کے سمینارقائم کرنا بہت اچھی افادیت رکھتا ہے ۔اس طرح کے سمینار باربار قائم ہونے چاہیں ۔تاکہ دین حق کی تبلیغ و ترویج کا کام نئے ذہنوں میں جاگزین ہو جائے۔

جاوید احمد ملک اچھہ بل رفیع آباد
اسلامک ریسرچ سٹوڈینٹ

(۳)

زمان و مکان کے سوالات اور چیلنج کا مثبت طریقہ سے مقابلہ کرنے والا فرد ،جماعت یا قوم زندگی کا حق ادا کرنے کا متحمل کہلا سکتا ہے ۔(۲) ماضی ، حال اور مستقبل کو ایک آئینہ میں ڈالنا اور تحقیق کے ترازو پر کھڑا کرنا قوم کو زندہ رکھنے کی ضمانت ہے ۔علم ،تجربات اور تحقیق ایک تسلسل کا نام ہے ۔اس عمل کو وقت کے دائروں میں بند کرنا تباہ کن عمل ہے ۔ (۳) آئندہ نسلوں کو الکتاب یعنی قرآن کریم اور سنت رسول ؐ سے آراستہ کرنا اور جدید علوم کی روشنی مین تجدید کا عمل جاری رکھنا واحد صورت حال ہے جو قوم کو مستقبل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے آراستہ کر سکتا ہے ۔

پروفیسر محمد حسن آفتابؔ

(۴)

محترم المقام جناب وانی صاحب اسلام علیکم
مجلس علمی کے مبارک قیام پر آپ مبارکباد کے مستحق ہیں ۔جناب محترم آپ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ موجودہ معاشرہ کس حد تک الحاد ودہریت ،بدعات وخرافات ،رسم و رواج کے فرسودہ بندھن میں گِھر چکا ہے ۔تحریر و تصنیف کی اہمیت اپنی جگہ لیکن علمائے کرام پرعموماً اور مفتیان عِظام پرخصوصاً اہم ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ وہ مربوط اور مستحکم بنیادوں پر اس پلیٹ فارم کو موجودہ بُرائیوں کاقلع قمع کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کر یں
۔غافل و بے حس مسلمان اس وقت اگر چہ بُرائیوں میں لت پت ہیں تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر اس میں دینی تُخم ریزی مؤثر طور سے کی جائے ،تو ان کی ذہن سازی عین ممکن ہے ۔
محترم المقام اس قوم کی موجودہ حیثیت تن ہمہ داغ داغ شُد کے مصداق ہے کہ چند سماجی بُرائیوں کی طرف توجُہ دلا کر اگر ہمارے مفتیان عظام اس پر شرعی نقطۂ نظر سے غور و فکر کر کے ایک اجتماعی فتویٰ صادر فرمائیں گے،تو مجھے امید قوی ہے کہ اس پر کسی حد تک قابو پایاجاسکتا ہے ۔وہ یہ کہ شادی بیاہ میں فضول خرچی ،دلہن کے گھر بارات لیکر جانا ،دلہنوں کو لینگا پہنانا ،جوان لڑکیوں کے لیے درآمدی باریک لباس ،جو کہ بالکل ساڈھیوں پر مشتمل ہے ۔بہاری غیر مسلمین کے ذریعے منقش مہندی لگوانا ،مردوں کا کان چھیدنا ،کلائیوں پر اجمیری لا ل اور کالے رنگ کے دھاگے باندھنا ،شادی بیاہ کی تقریبات پر بجلی کا چراغاں کرنا ،پٹاخے سر کرنا وغیرہ ۔امید ہے ایک دردِ د ل رکھنے والے دین پسند بزرگ کی حیثیت سے غور و فکر فرما کر واجب الاحترام مفتیانِ عظام کو اس طرف توجہ دلا کر ایک جامع اجتماعی محفل کے ذریعے فتویٰ صادر کرائیں ۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو ۔آمین۔

خیر اندیش دعا گو
نذیر احمد ڈینٹھو
خواجہ باغ بارہولہ ۔

(۵)

جاری سمینار اپنی نوعیت کا ایک منفرد سمینار ہے جس میں مفتی اسحا ق صاحب ،مفتی عبد الرحیم صاحب الحسنی ،مولانا عبد القیوم صاحب جیسے جید علماء کے علاوہ مشہور و معروف اسکالر وں کا اجتماع واقعۃً قابل دید تھا ۔
ڈاکٹر نذیر صاحب نے مختلف ایسے رموز کی طرف اشارہ کیا جن سے مجھے ذاتی طور بہت فائدہ ہوا ۔جہاں تک اصلاح کی بات ہے تو عرض یہ ہے کہ وقت کی اہمیت کا خیال آئندہ رکھا جائے اور بار بار ایسی مجالس کا انعقاد کیا جائے ۔

مولانا طالب بشیر ندوی صاحب

(۶)

محترم المقام جناب غلام نبی آسی ؔ صاحب حفظھم اللہ کی محنتوں اور کاوشوں کی بدولت آج کی تاریخ میں یہ عظیم الشان علمی سمینار بعنوانِ ’’تصنیف و تالیف کی اہمیت اور مسلمان علماء کی ذمہ دارایاں‘‘ منعقد کیا گیا ۔راقم نے شرکت کر کے اس کا اندازہ کیا کہ ہماری وادی ان جیسے خوبصورت اور اہم پروگراموں سے آج تک محروم رہی ۔محترم موصوف قابل مبارک باد ہیں۔تجویز کے طور پر یہ گذارش ہے کہ ایسے پروگرام مسلسل ہوں اور نئے نئے عنوانات سے علمی مجالس کا انعقاد اس اکیڈمی کا اجنڈا رہے ۔

(مولانا) محمد سلطان ندوی
سراج العلوم سرینگر

(۱۱)

تمام حمد و ثنا اللہ رب العز ت ہی کے لیے ہیں دور دوسلام ہو رحمتہ اللعالمین ﷺ پر اور آپ کے اصحاب و اہل بیت پر اما بعد آج 26.5.15 کو سیمینار میں شرکت کا موقعہ ملا تمام مقالہ نگاروں کے مقالات سن کر احسا س ہوا کہ ہم اس میدان میں کتنے پیچھے ہیں لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے پروگرام ہر ضلع اور تحصیل میں ہوں تمام عناوین کو سامنے رکھتے ہوئے مقالہ نگاروں کو ہر موضوع پر بات کرنے کی تلقین کی جائے جیسے معاملات ،معاشرت ،اخلاقیات ۔چونکہ آج کل مسلمانوں کی معاشرت،معاملات اور اخلاق اتنے بگڑے ہوئے ہیں کہ کبھی کبھی غیر مسلم لوگ بھی ہم کو دیکھ کر شرماتے ہیں ۔ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں میں بھی اصلاحی کا م کا آغاز ہو جائے ،کیوں کہ اگر اس صنف نازک کو اسی طرح چھوڑ دیا گیا تو پھر ہماری بربادی عنقریب ہے ۔نیز مقالات میں منشیات اور دیگر غیر اخلاقی اور حیا سوز حرکتوں کو مٹانے کی طرف توجُہ دلانے کی کوشش کرائی جائے انشاء اللہ اُمید ہے کہ یہ قدم آگے ہی بڑھتا جائے گا اور تمام بُرائیوں کا قلع قمع ہو جائے گا اور تمام دنیا میں االلہ کی مرضی اور نبی ؐ کا طریقہ زندہ ہو جائے گااسی میں ہم سب کی کامیابی ہے والسلام علیکم ورحمۃ و برکاتہ

سجاد احمد ابن بشیر احمد
خادم مدرسہ محمودیہ بونیار ضلع بارہ مولہ کشمیر

(۱۲)

مقالے کاعنوان تھا ’’عصر حاضر میں تحریر و تصنیف اور مسلمان اہل علم کی ذمہ داری‘‘
(۱) بعض مقالہ نگاروں نے تاریخی تناظر میں مسلمانوں کی علمی کاوشوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ۔حالانکہ مقالے کی غرض موجودہ زمانے میں تحریر و تصنیف کی اہمیت کو واضح کرنا تھا۔
(۲)’’مسلمان اہل علم کی ذمہ داری‘‘ کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی ۔مسلمان اہل علم کی ذمہ داریاں واضح نہیں ہوئیں ۔
(۳) مقالہ پڑھنے کے لیے وقت بہت کم دیا گیا ۔
(۴) بعض مقالہ نگاروں نے غیر متعلق باتیں کیں ۔
سیمینار ماشاء اللہ بہت کامیاب رہا ۔سامعین نے بڑی توجہ اور دلچسپی سے مقالات کی سماعت کی۔انتظامات معقول تھے ۔مقام سمینار تک رسائی سہل الحصول تھی ۔سمینار کے ذمہ داروں کا اخلاص ظاہر و باہر تھا ۔مجلس روحانی تھی ۔جز اکم اللہ احسن الجزا ء فی الدّارین ۔

(ڈاکٹر) شکیل شفائی
لیکچرار شعبہ تعلیم حکومت جمو ں و کشمیر

(۱۳)

متوقع مقالہ نگاروں سے رابطہ رہے اور انہیں مقالہ کم از کم وقت میں مکمل کر کے بھیجنے کی ترغیب دیں ۔ جو حضرات نہ آسکے ان سے بھی رابطہ رہے ۔ماہ نامہ راہِ نجات کی اشاعت میں توسیع ہو ۔
روز ناموں میں اور مختلف چینلوں کے ذریعے اس سمینارکی کاروائی لکھی جائے اور شائع ہو اور عوام الناس کو اس کی عکس بندی سے مطلع کیا جائے ۔
جدیدیت اور قدیمیت کے درمیان نقطۂ اعتدال پر نظر رہے ۔
اس قسم کے سمینار اورکانفرنس مرکزی جگہوں میں سال میں کم ازکم دو تین بار ہُوں ۔یہ چند رائیں ذہن میں آئی ہیں

ملتمس : محمد اسحٰق نازکی
بانڈی پوری کشمیر

(۱۴)

مولانا طالب بشیر ندوی صاحب کے مقالے میں یورپی مصنفین کی تحریروں میں اسلام کے متعلق اسلام ہی کے نام پر زہر اگلنے کا تذکرہ ہے ۔اور خبردار کیا گیا ہے کہ صف بستہ ہو کر اسکے خلاف مورچہ بندی ضروری ہے ۔

(مولوی)غلام محمد پرے لاوے پورہ سرینگر

(۱۵)

مکرمی جناب غلام نبی وانی صاحب اخلاص کی بنیاد پر اگر یہ مجلس جاری وساری رہی اور علماء کے مشوروں سے آرستہ ہو گی تو انشاء اللہ عوام الناس کو کافائدہ ہو گا ۔اللہ تعالی آپ سے زیادہ سے زیادہ دین کا کام لے ۔

سید عبدالرحمان گیلانی
امام و خطیب جامع مسجد عثمان توحید کالونی کانسپورہ بارہمولہ کشمیر

(۱۶)

محترم غلام نبی آسیؔ صاحب اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مجھے ذاتی طور پر بہت مسرت ہوئی ۔بہت سے دانشوروں و علماء کے مقالے سن کر محسوس ہوا کہ واقعی دینِ اسلام کی خدمت میں لگے ہیں ۔ یہ بات ضروری ہے کہ اس جدید دور میں جہاں اسلام کے خلاف conspiration استعمال کی جارہی ہے اس کو ناکام کرنے کے لیے ایسی مجالس کا انعقاد کرنا بہت ضروری ہے ۔ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ علم بہت ضروری چیز ہے اس سے ہمیں قرآن کی پہچان اور اس کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے ۔ انگریزی میں ایک محاورہ ہے ’’A pen is mighter than sword‘‘ قلم کی طاقت بہت زیادہ ہے ۔قرآن میں بھی قلم کا تذکرہ موجود ہے ۔اس لیے ہمیں ایسی ادبی و دینی مجالس میں ضرور شرکت کرنی چاہئے ۔
میری ادنیٰ رائے یہ ہے کہ ایسی تقاریب ، سمینار سکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منعقد کرائی جائیں تا کہ ہو نہار ،دینی اور ادبی ذوق رکھنے والے طلباء بھی اپنا contributionادا کریں۔باقی وسلام

جاوید احمد میر ساکنہ گانٹہ مولہ( استادمحکمہ تعلیم )

(۱۷)

مسلمانوں کے بہت سے فرقے وجود میں آگئے ہیں ۔اس سے عام مسلمانوں میں بد ظنی پیداہوئی ہے۔اس لیے اس کے متعلق علم اور قلم رکھنے والوں کو لکھنا چاہیے تا کہ اصلاح ہو جائے ۔

حاجی فاروق احمد شاہ ساکنہ کچہامہ بارہ مولہ ( رٹائرڈ ہیڈ ماسٹر)

(۱۸)

آج کی اس مجلس پُر نور و پُر وِقار کاانعقاد کرنے کے لیے ادارہ راہِ نجات ،جس کی سربراہی آسیؔ غلام نبی وانی صاحب کر رہے ہیں قابل تحسین ہے ۔ماشاء اللہ شرکائے مجلس کی تعداد تسلی بخش تو تھی ،تاہم اس مجلس کی اِفادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے شرکاء کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہونی چاہئے تھی ۔اس مجلس کو مجلس علمی کا نام دے کر یہ لگا کہ کہ یہ نام موزون نہیں ہے ۔گرائمر کے لحاظ سے اس کا نام یا تو مجلس علم یا مجلس اسلامی علوم رکھا جاتا تو زیادہ موزون لگتا ۔بہر حال یہ ایک الگ بحث ہے جو الگ سے کی جاسکتی ہے
مجلس بہر حال پُر وقار ہوتے ہوئے کام دل کے لیے فرحت آرا رہی۔ماشاء اللہ جس مجلس میں ذکر خدا ،ذکر رسول ؐ اور قرآن وسنت کا تذکرہ کیا جائے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔ایسی مجالس کا انعقاد اب ہمارے ہاں خال خال ہی ہوتا ہے اس لیے ادارہ اوراسکے جملہ اراکین مبارک باد کے مستحق ۔خدا کرے ایسی کاوشوں میں روزبہ روز اضافہ ہو اور سارے مسلمان راہِ نجات کی طرف گامزن ہوں ۔

جعفر علی اثرؔ دلنوی

(نوٹ) : محترم جعفر علی اثرؔ صاحب دلنوی نے جو نقطہ ابھار ا ہے اس کے متعلق یہ عرض ہے کہ جہاں تک زیر بحث اس ایک خاص مجلس کا تعلق ہے ،تویقیناًاس کو مجلس علم کہنا ہی موزون ہے ،لیکن جہاں تک اس انجمن کا تعلق ہے ،جوان علمی مجالس کا انعقاد کرائے اسکو مجلس علمی کہناہی مناسب تر ہے ،کیوں کہ مجلس علمی دراصل ایک literary institute ہے چنانچہ بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق صاحب نے اپنی اردو انگلش ڈکشنری میں مجلس علمی کا ترجمہA literary institute ہی لکھا ہے اور امام العصر مولنٰا انور شاہ کشمیریؒ نے علم و ادب کو فروغ دینے کے لیے جو مجلس قائم کی تھی اس کا نام انہوں نے مجلس علمی ڈابھیل رکھا تھا اور اسی کے اتباع میں ہم نے اس مجلس کا نام مجلس علمی جموں و کشمیر رکھا ہے۔اس کے علاوہ مؤلّف فرہنگ آصفیہ مولوی سید احمد دہلوی نے مجلس علمی کا ترجمہ علمی سوسائٹی اور انجمن علوم لکھا ہے( دیکھئے فرہنگ آصفیہ جلد چہام صفحہ ۲۹۴) اس کے علاوہ الامعجم الوسیط میں المجلس کا معنی مکان الجلوس کے علاوہ الطایفۃ من الناس تخصص للنظر فی ما ینادتُ بھا من اعمال ۔ومنہ: مجلس الشعب ،ومجلس العموم و مجلس الاعیان والمجلس الحسبی لکھا ہے اسی ترکیب کے تناظر میں المجلس العلمی ایک صحیح اور درست ترکیب ہے۔